تاریخ پیدائش میں گھپلا، ڈی ای او پرائمری حیدرآباد تبدیل
شیئر کریں
محمد موسیٰ کھوکھر کے خلاف سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور جعلسازی کے الزامات
تاریخِ پیدائش کی درستگی سے متعلق سابقہ حکم بھی منسوخ ، فوری رپورٹ کرنے کی ہدایت
حکومت سندھ کے اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ نے ضلع حیدرآباد کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (پرائمری) محمد موسیٰ کھوکھر کے خلاف اہم انتظامی کارروائی کرتے ہوئے انہیں ان کے موجودہ عہدے سے فوری طور پر تبدیل کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کارروائی ڈائریکٹر جنرل (مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن) کی جانب سے مکمل کی گئی ۔انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ محمد موسیٰ کھوکھر کے خلاف تاریخِ پیدائش سے متعلق سرکاری ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل (Tempering) اور جعلسازی (Forging)کے الزامات سامنے آنے پر انہیں فوری طور پر محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی، کراچی رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ 12 مارچ 2025 کو محمد موسیٰ کھوکھر کی تاریخِ پیدائش میں کی گئی درستگی سے متعلق جاری کیا گیا محکمانہ حکم بھی ابتداء ہی سے (Ab Initio)منسوخ کر دیا گیا ہے ، جس کے بعد اس حکم کی کوئی قانونی حیثیت برقرار نہیں رہے گی۔تعلیمی حلقوں میں اس کارروائی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر انکوائری میں الزامات ثابت ہوئے تو متعلقہ قوانین اور سرکاری ملازمت کے قواعد کے تحت مزید محکمانہ اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
حکومت سندھ کی جانب سے جاری اس نوٹیفکیشن کے بعد محکمہ تعلیم میں شفافیت، احتساب اور سرکاری ریکارڈ کی درستگی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے ، جبکہ متعلقہ حلقے آئندہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ( رپورٹ :عمران سعید)


