میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آخر فنا ہے !

آخر فنا ہے !

جرات ڈیسک
هفته, ۴ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

تاریخ کی سب سے دل خراش شاموں میں سے ایک شام وہ تھی، جب سکندرِ اعظم بابل کے محل میں اپنے آخری وقت بستر پر لیٹا تھا۔

صرف بتیس برس کا وہ نوجوان، جس کی تلوار یونان سے ہندوستان تک زمین کا نقشہ بدل چکی تھی، یونان، مصر، ایران، عراق، افغانستان، وسطی ایشیا کے کئی علاقے ، برصغیر کے شمال مغربی حصے ، موجودہ پاکستان کے کچھ علاقے تک اس کی سلطنت تقریباً 50لاکھ مربع کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھی، جو اس دور کی سب سے بڑی سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی۔ تاہم 11؍جون 323قبل مسیح اب وہ موت کے سامنے بے بس تھا۔ روایت ہے کہ اس نے اپنے جرنیلوں سے کہا۔ ‘‘جب میرا جنازہ اٹھانا تو میرے دونوں ہاتھ کفن سے باہر نکال دینا، تاکہ دنیا دیکھ لے کہ جس شخص نے نصف دنیا فتح کی، وہ بھی خالی ہاتھ گیا’’۔

تاریخ میں شاید ہی کوئی منظر اتنا لرزہ خیز ہو جتنا 1258ء کی وہ سرد صبح تھی، جب سقوطِ بغداد اپنے انجام کو پہنچا۔ صدیوں تک علم، تہذیب اور تمدن کا مرکز رہنے والا بغداد، جہاں ہزاروں علماء، فلسفی، طبیب اور شاعر بستے تھے ، چند ہی دنوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ دریائے دجلہ کی موجیں سیاہ پڑ گئیں، کہا جاتا ہے کہ کتابوں کی روشنائی پانی میں گھل گئی تھی۔ لاکھوں انسان مارے گئے ، عظیم کتب خانے جل گئے ، اور وہ شہر جسے لوگ ‘‘دنیا کا دل’’کہتے تھے ، تاریخ کی ایک دردناک یادگار بن کر رہ گیا۔ اس سانحے نے ایک ایسا سوال چھوڑا۔ جس کا جواب آج بھی انسان تلاش کر رہا ہے ۔ اگر اتنی عظیم تہذیب بھی باقی نہ رہ سکی، تو پھر کس چیز پر فخر کیا جائے ؟ قرآن اسی حقیقت کو ایک جملے میں بیان کرتا ہے۔ ‘‘یہ دن ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں’’۔یہ صرف جنگوں کا قانون نہیں، زندگی کا بھی قانون ہے ۔ عروج اور زوال، یہ سب ایک ہی گردش کے مختلف نام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن دل کو ‘‘قلب’’کہتا ہے ۔ قلب، یعنی وہ چیز جو ہر لمحہ پلٹتی رہتی ہے ۔ دل بدلتا ہے ۔ حالات بدلتے ہیں۔ لوگ بدلتے ہیں۔ زمانے بدلتے ہیں۔

سن 1526ء کی ایک صبح، پہلی جنگ پانی پت کے میدان میں گرد ابھی پوری طرح بیٹھی بھی نہ تھی، کہ ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی جا چکی
تھی۔ چند دہائیوں بعد یہی سلطنت نصف برصغیر پر حکمران تھی۔ پھر وقت گزرا، نسلیں بدلیں، محلات بنے ، تاج سجے ، فتوحات کے جشن
ہوئے ، اور حکمرانوں نے گمان کیا کہ شاید تاریخ ان کے قدموں میں ہمیشہ کے لیے رک گئی ہے ۔ پھر ایک دن وہی سلطنت بھی ماضی بن گئی۔ محل باقی رہے ۔ تخت باقی رہے ۔ قبریں باقی رہیں۔ مگر تخت نشین نہ رہے ۔ تاریخ کا سب سے بے رحم مؤرخ وقت ہے ۔ وہ کسی بادشاہ سے رشوت نہیں لیتا، کسی فاتح سے مرعوب نہیں ہوتا، کسی فلسفی سے متاثر نہیں ہوتا، کسی شاعر پر مہربان نہیں ہوتا۔ اس کی عدالت میں ایک ہی فیصلہ سنایا جاتا ہے ۔ ‘ہر آنے والے کو جانا ہے’۔

18 جون 1815ء جنگ واٹرلو میں یورپ کا سب سے طاقتور سپہ سالار،نپولین بونا پارٹ اپنے آخری معرکے میں شکست کھا چکا تھا۔ چند برس پہلے تک جس کے ایک اشارے پر براعظموں کی سیاست بدل جاتی تھی، اب وہ ایک دور افتادہ جزیرے پر جلاوطن تھا۔ اس کے تاج، اس کی فوجیں، اس کی فتوحات اور اس کے خواب سب وقت کے دریا میں بہہ چکے تھے ۔ اس کے بعد تاریخ نے ایک خاموش جملہ لکھا۔ وقت ہر فاتح سے بڑا فاتح ہے ۔
قرآن مجید اعلان کرتا ہے ۔ ‘‘ جو کوئی بھی اس (زمین) پر ہے فنا ہونے والا ہے ۔اور باقی رہے گا صرف تیرے رب کا چہرہ جو بہت بزرگی اور بہت عظمت والا ہے ’’۔

انسان کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ نہیں کہ وہ کرسی، عہدہ، دولت، طاقت کو اپنی وراثت سمجھتا ہے ، بلکہ یہ ہے کہ وہ سانس اور وقت کو بھی اپنی جائیداد سمجھ بیٹھتا ہے ۔ یہ کرسی، عہدہ، دولت، طاقت، وقت اور سانس کبھی کسی کا نہیں ہوا۔سورج ہر صبح طلوع ہوتا ہے ، غروب ہوتا ہے اور یہ سبق دیتا ہے ۔ ہر آغاز اپنے اندر اختتام کا بیج لے کر پیدا ہوتا ہے ۔ سائنس اسے اینٹروپی (Entropy)کہتی ہے ۔ طبیعیات کا دوسرا قانون کہتا ہے کہ ہر منظم نظام آہستہ آہستہ بے ترتیبی کی طرف بڑھتا ہے ۔ ستارے بجھتے ہیں، کہکشائیں بکھرتی ہیں، پہاڑ گھِس جاتے ہیں، سمندر اپنی حدیں بدلتے ہیں، جسم بوڑھے ہوتے ہیں، اور تہذیبیں تاریخ کے عجائب گھروں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ کائنات کا ہر ذرہ اعلان کر رہا ہے ۔ ‘‘میں مستقل نہیں ہوں’’۔اسی لیے ہیراکلیٹس( Heraclitus)نے کہا تھا۔ کہ ‘‘تم ایک ہی دریا میں دوبارہ قدم نہیں رکھ سکتے’’ ۔کیونکہ دریا بدل چکا ہوتا ہے ، اور تم بھی۔ افلاطون نے حقیقت کو محسوسات سے بلند قرار دیا، جبکہ ارسطو نے تغیر کو فطرت کا لازمی وصف کہا۔ انسان صرف ایک مخلوق ہے جو تغیر سے لڑتا ہے ۔ صرف انسان چاہتا ہے کہ اس کی جوانی اس کی حکومت ہمیشہ رہے ، جبکہ وہ جانتا ہے کہ ہر چیز عارضی ہے ۔ دنیا مستقل نہیں۔ دُنیا میں زندگی کو بقا نہیں۔ قرآن نے اسی لیے انسان کو بار بار دنیا کی مثال بارش سے دی ہے ۔ زمین سرسبز ہوتی ہے ، پھول کھلتے ہیں، کھیت لہلہاتے ہیں، پھر ایک گرم ہوا چلتی ہے ، سب کچھ خشک تنکوں میں بدل جاتا ہے ۔ یہ صرف کھیت کی داستان نہیں۔ یہ سلطنتوں، محبتوں، جسموں، خوابوں اور زندگیوں کی کہانی ہے ۔ اسی حقیقت کو جان لینے کا نام حکمت ہے ۔ اور اسی حقیقت کو بھول جانے کا نام جہالت اور غرور ہے ۔پس ‘‘جو انسان فنا کو یاد رکھتا ہے ، وہ تکبر سے بچ جاتا ہے ، اور جو فنا کو بھول جاتا ہے ، وہ اپنے غرور ہی میں فنا ہو جاتا ہے ’’۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں