میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سانحہ کاہنہ اورامداد باہمی کا عالمی دن

سانحہ کاہنہ اورامداد باہمی کا عالمی دن

جرات ڈیسک
هفته, ۴ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈاکٹر جمشید نظر

دو روز قبل لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے چودہ معصوم طالب علم جاں بحق ہوگئے۔ اس افسوسناک سانحہ کے بعد سوشل میڈیا پر کبھی ٹیوشن پڑھانے والی لیڈی ٹیچر، کبھی مالک مکان اور کبھی حکومت کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے، حالانکہ ذمہ داری صرف انہی تک محدود نہیں۔ ہسپتال میں زیر علاج زخمی لیڈی ٹیچر نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ اپنے بے روزگار شوہر کے ساتھ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گذار رہی تھی اور ٹیوشن پڑھا کر گھر کا خرچ چلا رہی تھی اس لئے وہ لینٹر ڈالنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔ مقامی لوگ بھی اس کی مالی مشکلات اور گھر کی خستہ حالی سے بخوبی آگاہ تھے مگر کسی نے بھی کوئی مدد نہیں کی اور نہ ہی بروقت متعلقہ اداروں کو اطلاع دی اس لئے اس سانحہ کی ذمہ داری صرف چند افراد یا اداروں پر نہیں بلکہ معاشرے کی اجتماعی غفلت پر بھی عائد ہوتی ہے۔

معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری یا غفلت کو سمجھنے کے لئے ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ کسی گاؤں میں ایک کنواں تھا جس سے پورا گاؤں پانی لیتا تھا۔ ایک دن کنویں کا پانی خشک ہو گیا، لوگ پریشان تو ہوئے لیکن سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہے۔جب بھی کنویں کو مرمت کروانے کی بات ہوتی توکوئی کہتا‘‘میرا تو اب شہر میں بندوبست ہو گیا ہے میں کنویں کو مرمت کروا کر کیا کروں گا’’، کوئی بولتا، ‘‘میں تو نلکے سے کام چلا لوں گا’’یوں کسی نے بھی کنویں کی مرمت کے لیے ہاتھ آگے نہ بڑھایا۔ بدقسمتی سے کچھ روز بعد گاؤں میں آگ بھڑک اٹھی۔بدحواسی میں لوگ کنویں کی طرف دوڑ کرجاتے پھر انھیں خیال آتا کہ یہ تو خشک ہوچکا ہے۔پانی نہ ہونے کی وجہ سے آگ بجھائی نہ جاسکی اورپورا گاوں راکھ کا ڈھیربن گیا۔ لوگ زندہ بچ گئے مگر روتے رہے اور خود کو کوستے رہے کہ انھوں نے کنویں کو مرمت کروانے کے لئے مشترکہ کوششیں کیوں نہیں کی لیکن اب پچھتانے کا فائدہ نہ تھا۔اسی گاوں کا ایک بچہ علی کچھ عرصہ بعدکسی طرح شہر تعلیم حاصل کرنے کے لئے چلا گیالیکن غربت اس کے پیچھے سائے کی طرح چمٹی رہی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ واپس اپنے گاؤں جائے گا اور وہاں کے لوگوں کے لیے کچھ کرے گا۔علی واپس گاوں گیا، قرض پر زمین اور ٹریکٹر خریدا پھرگاوں کے چندنوجوانوں کو اکٹھا کرکے بولا: ‘‘ہم سب مل کر ایک زرعی فارم بنائیں گے اور تم سب اس کے حصہ دار ہو گے یعنی مالک بھی ہو اور مزدور بھی۔’’اس کی بات سن کرسب ہنسی مذاق اڑانے لگے ، کچھ نے طعنے دیئے لیکن چندنوجوان علی کاساتھ دینے کو تیار ہوگئے ۔ تین سال بعد وہ فارم اُس گاوں کی سب سے کامیاب زرعی زمین بن چکا تھا۔ مزدورجو فارم کے حصہ دار مالک بھی تھے، خوشحال ہوگئے ان کے بچے اسکول جانے لگے،ان کارہن سہن ،کھانا پینا سب بہترین ہوگیا۔کسی بزرگ نے علی سے پوچھا ‘‘بیٹا تم نے یہ سب کیسے کرلیا؟’’وہ مسکرایا اور بولا‘‘میں نے گاؤں کے نوجوانوں کوصرف وہ کنواں یاد دلایا تھا جوپورے گاوں کا تھا لیکن سب نے اُسے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔’’بزرگ علی کے کہنے کا مطلب سمجھ گیا کہ ہم سب اس گاؤں کے مکین ہیں اور وہ کنواں ‘‘امدادِ باہمی’’ ہے جس دن ہم نے اسے نظر انداز کیا ، سب جل جائیں گے۔
دین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان اپنے ضرورت مند بہن بھائیوں ہمسائیوں ،رشتہ داروں کی مدد کرے اس کے دکھ درد میں شریک ہو اور معاشرے میں باہمی تعاون کو فروغ دے۔ افسوس کہ ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کی مشکلات سے واقف ہوتے ہوئے بھی اکثر بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ مغربی معاشروں میں باہمی تعان اور سماجی ذمہ داریوں کے اصولوں کو اپنایا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر سال جولائی کے پہلے ہفتے ‘‘عالمی یومِ امدادِ باہمی’’ منایا جاتاہے تاکہ ایک دوسرے کی مدد،تعاون اوراجتماعی فلاح کے جذبے کو فروغ دیا جاسکے ۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کابھی ویژن ہے کہ صوبے کے تمام کوآپریٹو ادارے اپنے کردار کو مثالی بناتے ہوئے معاشرتی، اقتصادی اورماحولیاتی فلاح و بہبود میں معاون ثابت ہوں۔پنجاب حکومت نے زراعت،انفارمیشن ٹیکنالوجی،ہاوسنگ اور دیگر شعبوں میں امداد باہمی کے بہت سے نئے منصوبے شروع کئے ہیں جن سے دیہی خواتین،نوجوان اورغریب عوام مستفید ہورہی ہے۔یومِ امدادِ باہمی کا اصل پیغام یہی ہے کہ اکیلا شخص چل تو سکتا ہے لیکن صرف قافلہ ہی منزل پر پہنچتا ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کرے، غربت ختم ہو، نوجوان خود کفیل اور خواتین اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں تو پھر ہمیں امدادِ باہمی کے خشک کنویں کو پھر سے بھرنا ہوگا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں