کشمیر کا ایشو انتہائی حساس ہے!
شیئر کریں
پاکستان امریکہ ایران جنگ میں ثالثی کا جو کردار ادا کر رہا ہے، اسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے دنیا بھر میں پاکستان کے
اس کردار کے حوالے سے مثبت خبریں اور آرٹیکل لکھے جا رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس پاکستان کی داخلی صورتحال پر انتہائی تشویشناک خبریں
اور رپورٹس شائع ہو رہی ہیں۔
آزاد کشمیر میں صورتحال کشیدہ ہے اور عالمی سطح پر شائع ہونے والی خبریں رپورٹس سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہو
رہی ہے۔ 5؍جون سے لے کر اب تک کشمیر میں مظاہرے اور دھرنا جاری ہے اور حکومت پاکستان کی طرف سے اب تک کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا۔
اپنے ہی لوگوں اور اپنے بھائیوں پر طاقت کا استعمال کوئی اچھی حکمت عملی نہیں ۔واضح رہے کہ بھارت کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر لگائے ہوئے ہے۔ اس بحران کے دوران آٹا چور بازاری میں فروخت ہو رہا ہے۔ سبزیوں کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں اور ادویات کم پڑنے لگی ہیں۔
آزاد کشمیر میں جاری بحران کے دوران عام شہریوں اورمریضوں کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق آزاد کشمیر میں جاری موجودہ بحران کے دوران ماضی کی نسبت ایک بالکل نئی حکمت عملی نظر آ رہی ہے سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے ایسی متعدد ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں پولیس اہلکار نجی گاڑیوں کی تلاشی لیتے اوراشیائے خورو نوش سے لدے ٹرکوں کو روکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سامان کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔
ہر ایک گاڑی کو چیک کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بعض لوگ پولیس سے بحث کر رہے تھے کہ انہیں ادویات تو لے جانی دی جائیں مگر وہاں موجود سپاہیوں کا کہنا تھاکہ ہمیں اجازت نہیں ہے ۔ جاری احتجاج کی باعث جہاں پرمعمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں وہیں خوراک اور ادویات کی دستیابی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ آٹا جیسی سب سے بنیادی ضرورت کی چیز بھی دستیاب نہیں اور جو آٹا مل رہا ہے ،اس کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاج شروع ہونے سے پہلے عوام سے ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کرنے کی اپیل کی تھی تاہم مقامی لوگوں اور ماہرین کے مطابق بیشتر گھرانوں کے لیے ایسا کرنا عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق کچھ گھرانوں کے لیے تو شاید ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کرنا ممکن ہو لیکن بیشتر لوگوں کے لیے نہیں یہاں بڑی تعداد میں مزدور طبقہ اور عام لوگ معمولی مقدار میں آٹا خریدتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں، لوگ اتنے پیسے کہاں سے لائیں کہ مہینے کا بھر کا اسٹاک جمع کر سکیں۔ سبزیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں زیادہ عرصے تک محفوظ بھی نہیں رکھا جا سکتا۔
معروف صحافی اور تجزیہ نگار جو چند روز قبل مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے آئے کہتے ہیں کہ بحران کی شدت کا اندازہ لگانے کے لیے صرف آٹے کی صورتحال کا جاننا ہی کافی ہے۔ سب سے بنیادی ضرورت آٹا ہے اور وہی دستیاب نہیں جو آٹا مل رہا ہے اس کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔
کشمیر میں آٹے پر سبسڈی ہے اور یہ مقامی ڈیلرز کے ذریعے عام افراد تک پہنچتا ہے مگر ڈیلر بلیک میں فروخت کر رہے ہیں جس تھیلے کی قیمت 1500ہے وہ 3000میں فروخت ہو رہا ہے۔
سرکاری نگرانی دکھائی نہیں دے رہی عوام ڈیلرز کے رحم و کرم پر ہیں ۔روز مرہ استعمال کی شاید ہی کوئی چیز مناسب قیمت پر مل رہی ہے۔ خوراک کی فراہمی سے متعلق خدشات کے باعث ادویات کی دستیابی کے بارے میں بھی اہل کشمیر کے درمیان تشویش پائی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مظفر آباد میں صرف تین میڈیکل اسٹور کھلے ہیں اور وہاں بھی بہت کم ادویات باقی رہ گئی ہیں۔ اگر تین چار دن یہی صورتحال رہی تو وہ بھی بند ہو جائیں گے۔ سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث ادویات کی نئی کھیپ نہیں پہنچ رہی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں صحت کا نظام تقریبا ًمفلوج ہو چکا ہے۔
عملی طور پر ہسپتال معطل ہیں۔ کیونکہ انتہائی بنیادی ضروریات کی ادویات بھی دستیاب نہیں ۔شوگر اور دل کے مریض سفارشیں کروا کر یا بلیک میں مہنگی دوائیں خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس سے ضروریات کا 10فیصد بھی پورا نہیں ہو رہا۔ مریض ہسپتال آتے ہیں مگر مایوس ہو کر واپس چلے جاتے ہیں ۔پیٹرول کی قلت کے باعث زیادہ تر عملہ گھر بیٹھا ہے۔
سرکاری ہسپتال ہوں یا پرائیویٹ ہر جگہ یہی صورتحال ہے اور مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔خطے میں لگ بھگ تقریبا تین ہفتوں سے انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل ہیں ۔بینک اور اے ٹی ایمز بند پڑے ہیں اور پیٹرول کا حصول تقریبا ناممکن ہو چکا ہے۔
مظفرآباد جیسے مرکزی شہر میں پٹرول صرف انتظامی افسر کی مہربانی اور منظوری کے بعد ہی انتہائی محدود مقدار میں دیا جا رہا ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ معطل ہے۔ چند روز قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں داخلے کے بعض اہم راستوں پر پابندیوں کے باعث خوراک ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایسی پابندیاں شہریوں کی صحت نقل و حرکت اور بنیادی ضروریات پر رسائی کے حقوق پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں ۔تجزیہ نگاروں کے کے مطابق کشمیر میں جاری بحران کے دوران ماضی کی نسبت ایک بالکل نئی حکمت عملی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ زمینی حقائق اور عوامی تاثر سے یہ واضح ہے کہ حکام بالا نے اس مرتبہ احتجاج کا زور توڑنے کے لیے خوراک اور اشیائے ضروریات کی سپلائی لائن کو ہدف بنایا ہے۔ بظاہر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ جب بنیادی ضرورتیں میسر نہیں ہونگیں تو مزاحمت زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گی۔ اور یوں عوامی ایکشن کمیٹی اندرونی دباؤ کے تحت اپنی احتجاجی تحریک ختم کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ کی کال ضرور دے رکھی ہے لیکن انٹری پوائنٹس کو بند نہیں کیا، وہاں سے گاڑیاں محدود تعداد میں اب بھی گزر رہی ہیں ۔ایسے میں اشیاء خورو نوش سے لدے ٹرک کشمیر کیوں نہیں پہنچ رہے۔ اس تمام صورتحال کے درمیان عام شہری شدید غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں بھوک اور بنیادی بیماری کو سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنانا افسوسناک ہے۔
18جون سے سپلائی لائن متاثر ہے اور لوگ اب تک کسی نہ کسی طرح گزارا کر رہے ہیں۔ آگے کیا کریں گے۔ حکومت مخالف تحریک معاشی مسائل کے حل اور حکومتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جے اے اے سی کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود اس کے حامی احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ رپورٹ کے مطابق اس تحریک میں اب تک تقریبا ً30افراد اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے تنظیم کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے حکومتی فیصلے کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد جائز معاشی اور سیاسی حقوق کے حصول کے لیے ہے ۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں بھی اسی تنظیم کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کئی روز تک پرتشدد جھڑپیں جاری رہیں جن میں تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق 9افراد ہلاک ہوئے تھے ۔مسلم اکثریتی خطے کشمیر پر بھارت اور پاکستان دونوں ہی مکمل ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔تاہم برطانوی راج سے آزادی کے بعد سے یہ دونوں ممالک کے درمیان منقسم ہے۔ اس علاقے کو انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ جہاں دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ماضی میں متعدد سرحدی جھڑپیں اور باقاعدہ جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔
٭٭٭


