میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اومان کی عملداری میں پانیوں میں آبی راہ کا نیا روٹ

اومان کی عملداری میں پانیوں میں آبی راہ کا نیا روٹ

جرات ڈیسک
جمعه, ۳ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

گزشتہ ہفتے اومان اور اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم نے اس آبی راہ کیلئے نیا روٹ تجویزکیا جو صرف اومان کی عملداری میں پانیوں میں سے گزرتا ہے۔

یہ ایران کی پوری حکمت عملی کی اہمیت کو خطرہ میں ڈال سکتا ہے،یہ یقین کرنے کیلئے کہ وہ اکیلاآبنائے کو کنٹرول کرتا ہے۔

یہ نیا روٹ ایران کے پانیوں کو نظر انداز کرتا ہے۔سوئٹزرلینڈ میں جنیوا گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ میں ایران تجزیہ نگار فرزان ثابت کا کہنا ہے کہ ایرانی سمجھتے ہیں کہ وہ کنٹرول کھو رہے ہیں۔شاید انہیں احساس ہوا کہ ان کا اثر ورسوخ صرف حالت جنگ کے دوران اور مخالف جنگ بندی کے دوران کام کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ نئے اعلان کردہ روٹ کے بارے میں ایران کا ردعمل سنگا پور کے کنٹینر جہاز کے خلاف حملے کی صورت میں نظر آ یا۔ ایران نے اس حملے کی ذمہ دارہ قبول نہیں کی، نہ ہی ایک اور جہاز پر دوسرے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

اس کے جواب میں امریکی فوج نے حملے کیے ۔اس کے بدلے میں ایران نے خلیج میں امریکہ کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ایران کے وزیر خارجہ نے ایک پریس کانفرس میں کہا کہ نئے یا الگ انتظامات اختیار کرنے کی کسی بھی کوشش سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے یا مزید پیچیدگیاں پیدا ہونگیں۔

ایران اومان کے ساتھ مذاکرات کرے گا تاکہ آبنائے ہرمز میں مستقبل کے انتظام اور میری ٹائم خدمات کا تعین کیا جا سکے۔

ایران جنگ خلیجی ممالک میں تبدیلی لائی
عشروں تک دولتمند خلیجی ممالک خطے کی جنگیں ٹیلی ویژنوں پردیکھتے رہے۔جنگ ان کے پڑوسیوں یمن،شام اور غزہ میں ہوتی رہیلیکنان کے ممالک میں نہیں ۔ایران کے ساتھ امریکی اسرائیلی جنگ نے یہ سراب ختم کر دیا۔جنگ نے ان کی توانائی سے بھر پور معیشتوں کو الٹ دیا اور وہ اپنی دفاعی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔ان کی سرزمینوں پر امریکی اڈے انہیں نقصان سے بچانے کی بجائے ہزاروں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بن گئے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں بہت سے افراد پریشان ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ابھرنے والی ڈیل اس خطرہ کو کم کرنے کیلئے کچھ نہیں کرے گی جو انہیں ایران سے خطرہ ہے۔
اخبار شرق الاوسط میں ایک حالیہ کالم میں ایک سعودی رائٹر عبد الرحمان الراشد نے اس امر پر زور دیا کہ امریکی ایران معاہدہ ایران کو ایک ریجنل پاور میں دوبارہ بحال کردے گا۔الراشد نے لکھا کہ مالی فوائد ایران کو پہلے زیادہ بڑا monster بنا دیں گے۔امریکی حکام نے تجویز پیش کی ہے کہ خلیجی ممالک ایرا ن کیلئے 300 ارب ڈالرکا تعمیر نو فنڈ قائم کریں۔یہ آئیڈیا خطے میں سرد مہری کا سبب بنا ہے۔ قطر میں ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ عالمی امور کے بارے میں مڈل ایسٹ کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد الجابر کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہخلیجی ممالک کو اے ٹی ایم کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
بحرین کے ایک محقق مہدی غلوم کا کہنا ہے کہ خلیج میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ایران کے خلاف دفاعی دبدبہ کم ہوگیا ہے جس کامطلب ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی خطرات کم موثر ہو سکتے ہیں۔ایران پر بمباری نے اسے بہت نقصان پہنچایا۔لیکن اس کی حکومت بچ گئی اور اس نے یہ سبق سیکھا کہ وہ اپناطاقتورtool آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کیلئے بروئے کار لا سکتی ہے۔ مہدی غلوم کا کہنا ہے کہ اب خلیجی ممالک کیلئے وقت ہے کہ وہ ایران سے الگ مذاکرات کرے یعنی غیر جارحانہ معاہدہ کرے۔

چین ابھی عالمی فوجی طاقت نہیں ہے
چین امریکہ مخالفت اس بات پر ہے کہ عالمی معیشت قاعدے کے تحت چلانے کیلئے شرائط کون طے کریگا۔ چین کے پاس صلاحیت ہے کہ وہ سلطنت قائم کرے جو امریکہ نے جنگ عظیم دوئم کے بعد قائم کی۔چین کو واضح طور پر پیداوارمیں برتری حاصل ہے اور اسیمغربی بحرالکاہل میں فوجی برتری حاصل ہے۔لیکن وہ ابھی تک عالمی فوجی طاقت نہیں بن سکا ہے۔پیداوار میں اس کی برتری معیشت کے ان شعبوں میں ہے جو مستقبل کے شعبے ہونگے جن میں توانائی،الیکٹرک گاڑیاں اور بائیوٹیکنالوجی شامل ہیں۔

امریکہ نہیں جانتا کہ جدید جنگ کو کیسے جیتا جائے؟
امریکی فوجوں نے ایرانی فوج،ایٹمی پروگرام اور سویلین انفرا سٹرکچر کوبہت نقصان پہنچایا لیکن ناقابل قبول نقصانات اٹھائے۔امریکی فوجوں نے ڈرون اور میزائل حملوں کے خوف سے مقامی اڈے خالی کردیے۔ نئے قسم کے سستے ڈرونز نے دنیا کی سب سے خوفزدہ فوج کو ڈرادیا اور دنیا کے ایک سب سے اہم تجارتی آبی راہ کی روانی کو منجمد کردیا ۔یہ اس امر کی علامت تھا کہ سپر پاورز قدرتی فائدہ نہیں رکھتیں۔ شاید امریکہ اب یہ سبق سیکھے گا کہ نئی قسم کی فوجی صنعتی پیداوار کی ذمہ داری قبول کرے گا۔ لیکن اس نے یہ جنگ جیتنے کیلئے بروقت نہیں سیکھا۔

جنگ کے انڈسٹریل پرودکٹس پر اثرات
جنگ نے بعض اہم پروٖڈکٹس کی پیداوار اور منتقلی بھی روک دی ہے جن میں نفتھا ،گندھک اور ہیلیم شامل ہیں۔نفتھا پلاسٹکس اور کیمیکلز بنانے کیلئے،ہیلیم سیمی کنڈکٹرز کی فیکٹریوں اور ایم آر آئی مشینوں میں استعمال ہوتی ہے اور گندھک تانبا، نکل اور اہم معدنیات کو صاف کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہے جن کی الیکٹرک وہیکلز کی بیٹریوں اور الیکٹرک سسٹمز میں ضرورت ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں