میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

ویب ڈیسک
پیر, ۲۹ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

ریاض احمدچودھری

بین الاقوامی انسانی حقوق کے مبصرین بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی سیکیورٹی کی صورتحال پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے منظم تشدد اور ہیٹ اسپیچ (نفرت انگیز تقاریر) کے واقعات میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے، جسے ناقدین ہندوتوا سے ہم آہنگ انتہا پسند عناصر کے اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔رپورٹس میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر افراد کے خلاف ماورائے عدالت کارروائیوں اور پرتشدد حملوں کے واقعات دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔
مبصرین اقلیت مخالف بیان بازی میں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ خوف اور سماجی تقسیم کے ماحول کو فروغ دیتا ہے۔جوابدہی کو بہتر بنانے کے مطالبات مسلسل کیے جا رہے ہیں، جس میں کارکنان حکام پر زور دے رہے ہیں کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور تمام شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، قطع نظر ان کے مذہبی پس منظر کے۔ایڈووکیسی گروپس بھارت میں تمام اقلیتی گروپوں کی حفاظت اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی نگرانی اور ملکی قانونی اصلاحات کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو گرانیکے واقعات میں مزید اضافہ ہوگیا۔بھارت میں مسلم مخالف نفرت انگیز اقدامات، ڈیڑھ ماہ میں 23 مساجد، مدارس اوردرگاہیں مسمار کی گئیں۔ گزشتہ 45 روز کے دوران بھارت کی مختلف ریاستوں میں ایک ہزار سال پرانی مسجد سمیت 23 مساجد، مدارس، درگاہوں اور عیدگاہوں کو گرایا گیا۔ یہ کارروائیاں دہلی، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات، راجستھان اور ہریانہ سمیت مختلف ریاستوں میں تجاوزات کے خاتمے اور سڑکوں کی توسیع کے نام پر کی گئیں۔انسانی حقوق کے گروپوں کاکہنا ہے کہ بعض مقامات پر قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور گرانے سے قبل متاثرہ فریقوں کو مناسب نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانونی اور انتظامی ضابطوں کے مطابق کی جا رہی ہیں۔امریکی تنظیم جسٹس فار آل نے بھی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی آزادی اور قانون کے مساوی اطلاق کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔بھارت میں اقلیتی حقوق کے متعلق خدشات میں مذہبی آزادی پر پابندیاں، ہجوم کے تشدد (موب لنچنگ) اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے واقعات شامل ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) جیسی بین الاقوامی تنظیمیں، اور انسانی حقوق کے ادارے ان مسائل کو حکومتی نظریات سے جوڑ کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی رپورٹس کے مطابق، مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں کو توہین مذہب کے الزامات، ہجوم کے تشدد اور عبادت گاہوں پر حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ (CAA) جیسے قوانین کے نفاذ پر اقلیتی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کڑی تنقید کی جاتی ہے، جنہیں امتیازی قرار دیا جاتا ہے۔ حکمران جماعت کے نظریات اور بعض رہنماؤں کے بیانات کی وجہ سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے، جس سے سیکولرازم کی بنیادی اقلیتوں کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔آئینِ ہند کا آرٹیکل 29 اقلیتوں کو اپنی زبان، رسم الخط اور ثقافت کے تحفظ کا پورا حق دیتا ہے۔ اس کے باوجود انسانی حقوق کے عالمی ادارے اکثر حکومت پر الزام لگاتے ہیں کہ ان آئینی حقوق پر اکثریت کی پالیسیاں حاوی ہو رہی ہیں۔دوسری جانب، بھارتی حکومت ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔ بھارتی حکام کا موقف ہے کہ آئینِ ہند تمام شہریوں کو یکساں حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے پر قائم مودی حکومت کے دور میں اقلیتوں پر مبینہ مظالم میں اضافے کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جبکہ بی جے پی حکومت پر الزام ہے کہ وہ ہندوتوا کو سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں کو ہجوم کے تشدد اور عبادت گاہوں پر حملوں کا سامنا ہے۔ ایسے واقعات کو انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، خصوصاً اوڑیسہ میں ایک پادری پر تشدد کے واقعے نے صورتحال کو مزید نمایاں کیا۔ کمیشن کے مطابق مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات کے تحت اقلیتوں کو غیر قانونی حراست اور حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔کمیشن نے اترپردیش میں گھر کے اندر عبادت کرنے والے 12 مسلمانوں کی حراست کو بھی مثال کے طور پر پیش کیا۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیوں کے باعث بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور ان کے محفوظ مستقبل سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں، جبکہ آر ایس ایس کے نظریاتی ایجنڈے کے تناظر میں اقلیتوں کو سماجی دھارے سے دور کیے جانے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں