کے ڈی اے میں اربوں روپے کے اراضی اسکینڈل کا انکشاف
شیئر کریں
کلفٹن بلاک 5کا پلاٹ نمبر F-43،رقبہ دو ہزار مربع گز، بغیر قانونی پراسیس ٹرانسفر
عارف شاہ اینڈ کمپنی پر سنگین الزامات عائد، متعدد پلاٹوں کی منتقلی تحقیقات کی زد میں
ادارہ ترقیات کراچی (کے ڈی اے ) میں مبینہ طور پر جعلی چالانوں، غیر قانونی ٹرانسفرز، ریکارڈ میں موجود نہ ہونے والی فائلوں کی قانونی حیثیت دینے اور قیمتی سرکاری اراضی کو مشکوک طریقے سے منتقل کرنے کے انکشافات نے ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا ہے ۔ذرائع کے مطابق ماضی میں لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے کمرشل سیکشن میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر خدمات انجام دینے والے افسر جو طویل عرصہ بیرون ملک مقیم رہے ، دوبارہ کے ڈی اے میں تعینات ہونے کے بعد ریکوری ڈیپارٹمنٹ میں اہم ذمہ داریاں سنبھالتے رہے اور بعد ازاں انہیں ڈائریکٹر ریکوری کا چارج بھی دے دیا گیا۔حال ہی میں مذکورہ افسر پر ماضی کے الزامات دوبارہ زیر بحث آگئے ہیں،اطلاعات کے مطابق مذکورہ افسر پر ماضی میں بھی متعدد کمرشل پلاٹوں کو مبینہ طور پر جعلسازی کے ذریعے ٹرانسفر کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق کلفٹن بلاک 5 کا پلاٹ نمبر F-43، جس کا رقبہ دو ہزار مربع گز اور نوعیت رہائشی بتائی جاتی ہے ، مبینہ طور پر بغیر قانونی پراسیس اور بغیر متعلقہ فارم جمع کرائے ٹرانسفر کر دیا گیا۔مزید یہ کہ اس پلاٹ سے متعلق چالان ریکوری ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ظاہر کیا گیا، تاہم بعد میں اسی شعبے کی جانب سے ایک تحریری وضاحت سامنے آئی کہ مذکورہ چالان کا ریکوری سے کوئی تعلق نہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ موجودہ مارکیٹ ویلیو دو ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت کے عوض اس سودے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر ریکوری ڈیپارٹمنٹ نے گلستانِ جوہر بلاک 6اور بلاک 7سمیت متعدد علاقوں میں ایسے پلاٹوں کے چالان جاری کیے جن کی اصل فائلیں ادارے کے ریکارڈ میں موجود ہی نہیں تھیں۔تحقیقات کی زد میں آنے والے چند پلاٹس کے نمبر درج ذیل بتائے جا رہے ہیں:B-70بلاک 6، گلستانِ جوہرA-104بلاک 6، گلستانِ جوہرB-159بلاک 7، گلستانِ جوہر ذرائع کے مطابق ان معاملات کی تحقیقات کے لیے ادارے کے اندر ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو اپنی رپورٹ مرتب کر رہی ہے ۔گلشن اقبال کا ایمنٹی پلاٹ بھی تنازع کا شکار رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گلشن اقبال بلاک 10کا پلاٹ ST-8/5، جو ایمنٹی پلاٹ قرار دیا جاتا ہے اور جس پر صرف نرسری قائم کی جا سکتی تھی، اسے مبینہ طور پر عدالتی حکم کی تشریح کا سہارا لے کر کمرشل لیز دی گئی اور بعد ازاں کمرشل برانچ سے منتقل کر دیا گیا۔الزام ہے کہ یہ تمام اقدامات غیر قانونی تھے ، جبکہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں میں سرکاری اراضی کی اصل نوعیت تبدیل کرنے پر پابندی کا ذکر موجود ہے ۔فیڈرل بی ایریا کی قیمتی اراضی بھی مشکوک ٹرانزیکشن کی زد میں ،ذرائع کے مطابق فیڈرل بی ایریا بلاک 7 کا پلاٹ نمبر BS-57، جس کا رقبہ 400 مربع گز ہے ، مبینہ طور پر جعلی ادائیگیوں اور سی ایم کوٹہ کے نام پر تیار کردہ دستاویزات کے ذریعے منتقل کیا گیا۔(نمائندہ جرأت)


