شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام
شیئر کریں
محمد آصف
اسلامی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو محض تاریخی حادثات نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے دائمی درس اور رہنمائی کا سرچشمہ بن جاتے ہیں۔ واقعئہ کربلا اور حضرت امام حسین کی شہادت انہی عظیم
واقعات میں سے ایک ہے ۔ یہ واقعہ صرف ایک جنگ یا سیاسی اختلاف کا نام نہیں بلکہ حق و باطل، عدل و ظلم، صداقت و جبر، اور اصول و مفاد کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ نواسئہ رسول ۖ حضرت امام
حسین نے اپنے خون سے اسلام کی حقیقی روح کو زندہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ ایک مومن حق کی خاطر اپنی جان تو قربان کرسکتا ہے لیکن باطل کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ شہادتِ امام حسین کو تاریخِ
اسلام کا ایک ایسا روشن باب قرار دیا جاتا ہے جس کی روشنی قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ حضرت امام حسین، حضرت علی اور حضرت فاطمہ کے فرزند اور رسول اللہ ۖ کے محبوب نواسے تھے ۔
آپ کو بچپن ہی سے رسول اکرم ۖ کی خصوصی محبت اور تربیت حاصل ہوئی۔ نبی کریم ۖ نے متعدد مواقع پر امام حسن اور امام حسین کی فضیلت بیان فرمائی اور انہیں جنتی نوجوانوں کا سردار قرار دیا۔ یہی وجہ ہے
کہ امام حسین کی شخصیت میں شجاعت، تقویٰ، علم، حکمت، صبر اور ایثار جیسی اعلیٰ صفات بدرجئہ اتم موجود تھیں۔
آپ کی پوری زندگی اسلام کے اصولوں کی پاسداری اور امت کی اصلاح کے لیے وقف رہی۔ کربلا کا پس منظر اس وقت پیدا ہوا جب یزید کی حکومت قائم ہوئی اور اس نے اپنی بیعت لینے کا مطالبہ کیا۔ امام
حسین نے اس بیعت کو قبول کرنے سے انکار کردیا کیونکہ ان کے نزدیک ایک ایسی حکومت کی تائید کرنا جو اسلامی تعلیمات اور عدل و انصاف کے اصولوں سے ہٹ چکی ہو، دین کے بنیادی مقاصد کے خلاف
تھا۔ آپ کا موقف اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ امت کو اس خطرے سے آگاہ کرنا تھا جو دین کی اصل روح سے انحراف کے نتیجے میں پیدا ہوسکتا تھا۔ چنانچہ آپ نے مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے عراق کا سفر
اختیار کیا تاکہ حق کی آواز بلند کرسکیں۔
10 محرم الحرام 61 ہجری کو میدانِ کربلا میں وہ عظیم سانحہ پیش آیا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ امام حسین اپنے اہلِ خانہ اور وفادار ساتھیوں کے ساتھ ظلم و جبر کے سامنے ڈٹ گئے ۔ شدید پیاس،
قلتِ وسائل اور دشمن کی بڑی فوج کے باوجود آپ نے ہمت اور استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ایک ایک کرکے آپ کے عزیز، رفقاء اور خاندان کے افراد شہید ہوتے گئے ، مگر حق کے علمبرداروں کے
قدم نہ ڈگمگائے ۔ آخرکار امام حسین نے بھی جامِ شہادت نوش کیا اور اپنی جان اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کردی۔ اس عظیم قربانی نے یہ ثابت کردیا کہ اصولوں کی حفاظت کے لیے جان کا نذرانہ دینا بھی معمولی
قیمت ہے ۔
شہادتِ امام حسین کا سب سے بڑا پیغام حق پر ثابت قدمی ہے ۔ دنیا میں ایسے بے شمار مواقع آتے ہیں جب انسان کو حق اور باطل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے ۔ اکثر لوگ وقتی فائدے ، خوف یا
مصلحت کی وجہ سے حق کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، لیکن امام حسین نے یہ سبق دیا کہ سچا مسلمان حق کا دامن کبھی نہیں چھوڑتا، خواہ اسے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے ۔ ان کی زندگی اور شہادت ہمیں بتاتی ہے
کہ کامیابی صرف ظاہری غلبے کا نام نہیں بلکہ اصولوں پر قائم رہنے کا نام ہے ۔
کربلا کا دوسرا اہم پیغام ظلم کے خلاف مزاحمت ہے ۔ امام حسین نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا دراصل ظلم کی تائید کے مترادف ہے ۔ جب معاشرے میں ناانصافی، جبر، کرپشن اور اخلاقی
بگاڑ عام ہوجائے تو اہلِ حق کی ذمہ داری ہے کہ وہ اصلاح اور حق گوئی کی آواز بلند کریں۔ عصرِ حاضر میں بھی دنیا کے مختلف حصوں میں ظلم، استحصال اور انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ایسے
حالات میں کربلا کا پیغام ہمیں حوصلہ دیتا ہے کہ ہم حق اور انصاف کے لیے کھڑے ہوں اور مظلوموں کا ساتھ دیں۔ شہادتِ امام حسین کا ایک اور عظیم درس صبر اور استقامت ہے ۔ کربلا میں پیش آنے والی
مشکلات انسانی تصور سے بھی بڑھ کر تھیں۔ پیاس، بھوک، تنہائی اور عزیزوں کی جدائی کے باوجود امام حسین اور ان کے ساتھیوں نے اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھا۔ آج کے دور میں انسان معمولی مشکلات سے
گھبرا جاتا ہے ، لیکن کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ آزمائشوں کے باوجود ثابت قدم رہنا ہی حقیقی ایمان کی علامت ہے ۔ جو قومیں صبر اور استقامت کا دامن تھام لیتی ہیں، وہ بالآخر کامیابی اور عزت حاصل کرتی ہیں۔
عصرِ حاضر میں کربلا کا پیغام نوجوان نسل کے لیے بھی انتہائی اہم ہے ۔ آج کا نوجوان مختلف فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کررہا ہے ۔ مادہ پرستی، خود غرضی، بے راہ روی اور اخلاقی زوال نے بہت سی
اقدار کو کمزور کردیا ہے ۔ امام حسین کی سیرت نوجوانوں کو کردار، دیانت، جرات اور اصول پسندی کا درس دیتی ہے ۔ اگر نوجوان کربلا کے پیغام کو سمجھ لیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگیوں کو سنوار سکتے ہیں بلکہ
معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
کربلا ہمیں اتحادِ امت کا درس بھی دیتی ہے ۔ امام حسین کی قربانی کسی ایک گروہ یا مسلک کے لیے نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور تمام انسانیت کے لیے تھی۔ ان کی جدوجہد کا مقصد دین کی حفاظت، اخلاقی
اقدار کا فروغ اور انسانی وقار کا تحفظ تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان فرقہ واریت، تعصب اور نفرت سے بالاتر ہوکر امام حسین کے حقیقی پیغام کو اپنائیں اور باہمی محبت، احترام اور اخوت کو فروغ دیں۔
شہادتِ امام حسین قیادت اور ذمہ داری کا بھی ایک بہترین نمونہ پیش کرتی ہے ۔ ایک حقیقی رہنما وہ نہیں جو صرف اقتدار حاصل کرے بلکہ وہ ہے جو اصولوں کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہو۔ آج کے
سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں کو کربلا سے یہ سبق لینا چاہیے کہ قیادت امانت ہے ، مفاد کا ذریعہ نہیں۔ جو رہنما عدل، دیانت اور خدمتِ خلق کے اصولوں پر عمل کرتا ہے ، وہی حقیقی معنوں میں کامیاب رہنما کہلاتا ہے ۔
مختصراً، شہادتِ امام حسین اسلامی تاریخ کا ایک عظیم باب اور انسانیت کے لیے ایک ابدی پیغام ہے ۔ کربلا ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے ، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے ، صبر و استقامت اختیار کرنے ، اخلاقی
اقدار کو زندہ رکھنے اور دین کی اصل روح کو سمجھنے کا درس دیتی ہے ۔ امام حسین نے اپنے خون سے یہ ثابت کردیا کہ حق کبھی مٹ نہیں سکتا اور باطل خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ نظر آئے ، انجام کار شکست اس کا مقدر بنتی ہے ۔
آج کے دور میں جب دنیا مختلف اخلاقی، سماجی اور سیاسی بحرانوں کا شکار ہے ، کربلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور مؤثر نظر آتا ہے ۔ اگر ہم امام حسین کی تعلیمات اور قربانی کے فلسفے کو اپنی انفرادی اور
اجتماعی زندگی میں اپنالیں تو نہ صرف ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں بلکہ دنیا و آخرت میں کامیابی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہی شہادتِ امام حسین کا حقیقی پیغام اور عصرِ حاضر کے لیے سب سے بڑی رہنمائی
ہے ۔


