میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عارف بلڈر کی سرکاری سرپرستی، متنازع اراضی پر کام شروع

عارف بلڈر کی سرکاری سرپرستی، متنازع اراضی پر کام شروع

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲۵ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

چھٹیوں کا فائدہ اٹھا کر قبضے کی کارروائیاں تیز، ٹریکٹر اور بھاری مشینری متحرک
متاثرین کا اعلیٰ حکام سے عارف بلڈر اور سرپرستوں کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ

حیدرآباد کے علاقے ہالا ناکہ کے قریب دیہہ مرزا پور میں واقع مصطفی بنگلوز ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے ۔ متاثرین کا الزام ہے کہ عارف بلڈر کو سرکاری سرپرستی حاصل ہونے کے بعد متنازع اراضی پر دوبارہ کام شروع کروا دیا گیا ہے ، جبکہ زمین پر قبضے کی کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے ٹریکٹرز اور بھاری مشینری بھی موقع پر پہنچا دی گئی ہے ۔متاثرین کے مطابق محرم الحرام کی 8، 9اور 10تاریخ کی تعطیلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متنازع زمین پر سرگرمیوں میں اضافہ کیا گیا، تاکہ سرکاری دفاتر کی بندش کے دوران کسی ممکنہ قانونی یا انتظامی مداخلت سے بچا جا سکے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اراضی پر تعمیراتی اور دیگر سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں، جس سے اصل مالکان اور ورثاء میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ مذکورہ اراضی کے حوالے سے پہلے بھی ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل، جعل سازی اور دیگر بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اس کے باوجود متنازع زمین پر دوبارہ کام شروع ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں نے بروقت نوٹس نہ لیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے ۔متاثرین نے سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، ریونیو حکام، ایچ ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ متنازع اراضی پر جاری سرگرمیوں کا فوری نوٹس لیا جائے ، قبضے اور تعمیراتی کام کے الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور حقائق سامنے لا کر ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے ۔متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور قانونی فورم سے رجوع کریں گے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں