شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب
شیئر کریں
محمد آصف
حضرت امام حسین، نواسۂ رسول ۖ، جگر گوشئہ حضرت فاطمة الزہرا اور فرزندِ حضرت علی المرتضیٰ، اسلامی تاریخ کی وہ عظیم شخصیت ہیں جن کی حیاتِ مبارکہ اور شہادتِ عظمیٰ حق و باطل کے درمیان ایک ایسا فیصلہ کن معیار بن گئی جس کی روشنی قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ آپ 5 شعبان المعظم 4 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی ولادت باسعادت پر رسول اکرم ۖ بے حد مسرور ہوئے ، آپ کا نام اللہ تعالیٰ کے حکم سے رکھا اور اپنی آغوشِ محبت میں لے کر آپ کی تربیت فرمائی۔ آپ کو ”ریحانة الرسول”، ”سید
الشہدائ” اور ”سید شباب اہل الجنة” جیسے عظیم القابات سے نوازا گیا۔ آپ نے اپنے نانا جان حضرت محمد ۖ،والد گرامی حضرت علی اور والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ کے زیر سایہ ایسی تربیت پائی جس نے آپ کو تقویٰ، صبر، شجاعت، سخاوت اور حق گوئی کا پیکر بنا دیا۔ آپ نہایت عبادت گزار، سخی اور غریب پرور تھے ۔ روایت ہے کہ آپ نے پچیس مرتبہ پیدل حج ادا کیے ۔ آپ کی پوری زندگی دینِ اسلام کے احیائ، عدل و انصاف کے قیام اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے وقف رہی۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہداء کو اپنے خاص انعام یافتہ بندوں میں شمار فرمایا ہے :”اور جو اللہ اور رسولۖ کی اطاعت کرے گا تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا، یعنی انبیائ، صدیقین، شہداء اور صالحین، اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں”(النسائ: 69) ۔ اس آیتِ کریمہ میں شہداء کو عظیم مقام عطا کیا گیا ہے ۔شہادت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے ، جس کی آرزو خود رسول اللہ ۖ نے بھی فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ۖ کی اس خواہش کی تکمیل آپۖ کے نواسے حضرت امام حسین کی شہادت کے ذریعے فرمائی۔یہی وجہ ہے کہ شہادتِ حسین محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ سیرتِ نبوی ۖ کا ایک روشن باب اور دینِ اسلام کی بقا کا عظیم ذریعہ ہے ۔
حضرت امام حسین کے دور میں اسلامی ریاست ایک نازک مرحلے سے گزر رہی تھی۔ حضرت امیر معاویہ کے وصال کے بعد یزید اقتدار پر قابض ہوا اور اس نے اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے اہلِ اسلام سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ حضرت امام حسین نے اس بیعت سے انکار کر دیا کیونکہ آپ کے نزدیک یزید کا طرزِ حکومت اسلامی اصولوں، عدل و انصاف اور خلافتِ راشدہ کی روح کے منافی تھا۔ آپ جانتے تھے کہ اگر حق کے نمائندے باطل کے سامنے سر جھکا دیں تو دین کی حقیقی روح ختم ہو جائے گی۔ اس لیے آپ نے اعلان فرمایا کہ میری جدوجہد اقتدار کے لیے نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور دینِ محمدی ۖ کی بقا کے لیے ہے ۔ کوفہ کے لوگوں نے آپ کو خطوط لکھ کر دعوت دی کہ آپ تشریف لائیں اور ان کی قیادت فرمائیں۔ انہی دعوتوں پر لبیک کہتے ہوئے آپ اپنے اہلِ خانہ اور جانثار ساتھیوں کے ہمراہ عراق کی طرف روانہ ہوئے ۔2 محرم الحرام 61ہجری کو آپ کا قافلہ کربلا کے میدان میں پہنچا جہاں یزیدی لشکر نے آپ کا محاصرہ کر لیا۔پانی بند کر دیا گیا، بچوں اور خواتین تک کو پیاس کی اذیت میں مبتلا کیا گیا، لیکن امام حسین اور ان کے رفقاء نے حق کے موقف سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا قبول نہ کیا۔ عاشورہ کے دن، 10 محرم الحرام 61 ہجری کو تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم معرکہ برپا ہوا جس میں صرف بہتر نفوسِ قدسیہ نے ہزاروں کے لشکر کے سامنے استقامت، وفا اور قربانی کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ حضرت امام حسین اپنے
ساتھیوں کو بار بار اجازت دیتے رہے کہ اگر کوئی جانا چاہتا ہے تو چلا جائے ، کیونکہ دشمن کا نشانہ صرف میں ہوں، مگر ہر عاشقِ اہلِ بیت نے عرض کیا کہ ہم آپ کو تنہا چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہیں؟ چنانچہ سب نے جانیں قربان کر دیں مگر حق کا دامن نہ چھوڑا۔
کربلا کا واقعہ صرف ایک جنگ نہیں تھا بلکہ یہ ظلم کے خلاف صدائے احتجاج، انسانی آزادی کا اعلان اور دینِ اسلام کی اصل روح کے تحفظ کی جدوجہد تھی۔ امام حسین جانتے تھے کہ بظاہر فتح یزیدی لشکر کو ملے گی مگر حقیقت میں کامیابی حق کی ہوگی۔ آپ نے اپنی جان، اپنے اہلِ بیت، اپنے نوجوان بیٹوں، بھتیجوں اور ساتھیوں کی قربانی دے کر ثابت کر دیا کہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے جان دینا زیادہ بہتر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے یزید کو ظلم، جبر اور آمریت کی علامت قرار دیا جبکہ امام حسین کو حق، عدل، حریت اور قربانی کا استعارہ بنا دیا۔
شہادتِ امام حسین کی ایک منفرد خصوصیت یہ بھی ہے کہ رسول اکرم ۖ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں اس کی خبر دی تھی۔ متعدد روایات میں آتا ہے کہ حضور ۖ نے حضرت ام سلمہ کو کربلا کی مٹی عطا فرمائی اور فرمایا کہ جب یہ مٹی خون بن جائے تو سمجھ لینا کہ میرا حسین شہید ہو گیا ہے ۔ اس طرح شہادتِ حسین کا چرچا وقوعِ شہادت سے کئی دہائیاں پہلے ہو چکا تھا۔ گویا یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کے تحت دینِ اسلام کی بقا کے لیے مقدر کیا گیا تھا۔ امام حسین کی شہادت نے امت کو یہ پیغام دیا کہ ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی ایک صدا اسے ہمیشہ کے لیے رسوا کر سکتی ہے ۔
شہادت کے بعد اہلِ بیتِ اطہار کی خواتین اور بچے قید کر لیے گئے ۔ حضرت زینب کبریٰ اور حضرت امام علی زین العابدین نے کوفہ اور دمشق کے درباروں میں ایسے جرات مندانہ خطبات ارشاد فرمائے جنہوں نے یزید کے ظلم و جبر کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ یوں کربلا کا پیغام میدانِ جنگ سے نکل کر پوری امت میں پھیل گیا۔ اگرچہ بظاہر امام حسین شہید ہو گئے لیکن درحقیقت ان کا پیغام زندہ رہا اور یزیدی نظام شکست کھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چودہ سو برس گزرنے کے باوجود دنیا امام حسین کا نام احترام، محبت اور عقیدت سے لیتی
ہے جبکہ ظلم کی علامتیں نفرت اور ملامت کا نشان بن چکی ہیں۔
عصرِ حاضر میں واقعہ کربلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے ۔ آج جب دنیا ظلم، ناانصافی، اخلاقی زوال، مادہ پرستی اور حق سے انحراف جیسے مسائل کا شکار ہے تو امام حسین کی سیرت ہمیں صبر، استقامت، جرات، حق گوئی اور اصول پسندی کا درس دیتی ہے ۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی خاطر قربانی دینا ہی اصل کامیابی ہے اور باطل کے سامنے خاموشی اختیار کرنا دراصل ظلم کی حمایت ہے ۔ حضرت امام حسین کی شہادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ایمان، صداقت اور عدل کی حفاظت کے لیے ہر دور میں قربانی دینا پڑتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ
مولانا محمد علی جوہر نے فرمایا:
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
حقیقت یہ ہے کہ امام حسین کی شہادت صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی تحریک، ایک ابدی پیغام اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معیار ہے ۔ جب تک دنیا میں ظلم اور ناانصافی موجود رہے گی، کربلا کا پیغام زندہ رہے گا اور امام حسین کا نام حریت، عزت، وفا اور دینِ اسلام کی سربلندی کی علامت بنا رہے گا۔
٭٭٭


