میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کربلا،ایک واقعہ نہیں!

کربلا،ایک واقعہ نہیں!

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۶ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستارچوہدری

یوم عاشورکا سورج جب طلوع ہوتا ہے تو صرف ایک تاریخی واقعہ یاد نہیں آتا، بلکہ انسانیت کے ضمیرپرلکھی ہوئی ایک ایسی داستان تازہ ہوجاتی ہے جو چودہ صدیوں بعد بھی زندہ ہے۔ کربلا محض ایک جنگ نہیں تھی، نہ ہی یہ صرف دو گروہوں کا تصادم تھا، یہ حق اورباطل، اصول اور مفاد، کرداراوراقتدار کے درمیان ایک ایسی کشمکش تھی جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔امام حسین کے پاس نہ بڑی فوج تھی، نہ خزانے ، نہ سلطنت، ان کے پاس صرف ایک چیزتھی، ”حق پرکھڑے رہنے کا عزم ” ، دوسری طرف طاقت تھی، حکومت تھی، وسائل تھے ، مگر تاریخ نے فیصلہ یہ دیا کہ کربلا میں سرکٹ گئے مگر اصول نہیں جھکے ، خیمے جل گئے مگرحق کی روشنی بجھ نہ سکی۔
آج جب ہم اہلِ بیت کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ایک سوال ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے ،کیا محبت صرف جذبات کا نام ہے؟ کیا اہلِ بیت سے عقیدت صرف چند مخصوص دنوں میں آنسو بہانے ، جلوس نکالنے یا رسومات ادا کرنے تک محدود ہے؟ یا پھرمحبت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ تاریخ گواہ ہے ، محبت کے دعوے کرنا آسان ہوتے ہیں، مگرمحبوب کے راستے پرچلنا مشکل ہوتا ہے ، دنیا میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو کسی عظیم شخصیت کو پسند کرتے ہیں، مگران کے افکار اور کردار کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہوتے ،اہلِ بیت کے ساتھ بھی ہمارا رویہ کہیں ایسا ہی تو نہیں؟ کربلا کا پیغام ماتم کا نہیں، محاسبے کا ہے ، محاسبہ اس بات کا کہ ہم اہلِ بیت سے محبت کا اظہارکس طرح کرتے ہیں، اوراس محبت کا ہماری عملی زندگی میں کتنا عکس نظر آتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کربلا کو اکثرایک واقعہ سمجھ لیا ہے ، حالانکہ یہ ایک مسلسل پیغام ہے ۔ ہم نے اسے تاریخ کی کتابوں میں محفوظ تو کرلیا، مگراپنی زندگیوں میں منتقل نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ظلم موجود ہے ، ناانصافی موجود ہے ، جھوٹ موجود ہے ، اور مفاد پرستی بھی موجود ہے ، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ عاشور منانے سے شاید ہماری ذمہ داری پوری ہو گئی۔
ذرا سوچیے ، اگر اہلِ بیت سے محبت صرف چند رسومات کا نام ہوتی تو امام حسین اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اوراپنے ساتھیوں کی قربانی کیوں دیتے؟ وہ بھی ایک سمجھوتا کرسکتے تھے ، خاموشی اختیارکرسکتے تھے ، اپنی جان بچا سکتے تھے ، مگر انہوں نے ایک ایسا راستہ چنا جس میں دنیاوی کامیابی نہیں، بلکہ اصولوں کی سربلندی تھی، یہی کربلا کا اصل سبق ہے ، حق کی خاطرکھڑا ہونا، چاہے تعداد کم ہو۔ سچ کا ساتھ دینا، چاہے نقصان اٹھانا پڑے ۔ ظلم کو ظلم کہنا، چاہے اس کی قیمت ادا کرنی پڑے۔بدقسمتی سے ہم نے محبت کو آسان او پیروی کو مشکل بنا دیا ہے ، ہم اہلِ بیت کے نام پر محفلیں سجا لیتے ہیں، مگر ان کی سیرت کے مطابق اپنے کردار کو سنوارنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ، ہم ان کے فضائل بیان کرتے ہیں، مگر ان کی دیانت، صبر، عدل اور تقویٰ کو اپنی زندگی میں جگہ دینے سے گریز کرتے ہیں،حالانکہ تاریخ کا ایک سادہ سا اصول ہے ، ” جس سے محبت ہو، اس جیسا بننے کی کوشش کی جائے ”۔اگرکوئی شخص امام حسین سے محبت کا دعویٰ کرے مگر جھوٹ بولتا رہے ، لوگوں کے حقوق مارتا رہے ، کمزورپرظلم کرتا رہے ، نفرتیں پھیلاتا رہے ، تو پھر اس کی محبت صرف زبان تک محدود ہے ، کیونکہ اہلِ بیت کی محبت کا سب سے بڑا ثبوت ان کے راستے پرچلنا ہے ، نہ کہ صرف ان کا نام لینا۔شاید اسی لیے کربلا ہرسال آ کر ہم سے ایک ہی سوال پوچھتی ہے ، تم نے حسین کو یاد تو بہت کیا، مگر کیا تم نے حسین سے کچھ سیکھا بھی؟
کربلا کا ایک اورعظیم سبق یہ ہے کہ حق کی جنگ ہمیشہ تلواروں سے نہیں لڑی جاتی، بعض اوقات یہ جنگ انسان اپنے نفس کے خلاف لڑتا ہے ، اپنی خواہشات کے خلاف لڑتا ہے ، اپنے مفادات کے خلاف لڑتا ہے ۔ میدان بدل جاتے ہیں، کردار بدل جاتے ہیں، مگر حق اور باطل کی کشمکش ختم نہیں ہوتی۔آج ہمارے سامنے یزید جیسا بادشاہ نہیں، مگر یزیدی رویّے ضرورموجود ہیں،کہیں طاقت کمزورکو دبا رہی ہے ، کہیں دولت انصاف کو خرید رہی ہے ، کہیں جھوٹ سچ کا لباس پہن کر کھڑا ہے ، اور کہیں انسان اپنے ضمیر کا سودا کر رہا ہے ، ایسے میں کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ باطل ہمیشہ بڑے لشکروں کے ساتھ نہیں آتا، کبھی وہ ہمارے اپنے مفاد، ہماری خاموشی اورہماری مصلحت کے روپ میں بھی آ جاتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ اہلِ بیت کی محبت کا تقاضا صرف آنکھوں کے آنسو نہیں، بلکہ ضمیر کی بیداری بھی ہے ، اگرعاشور کا دن گزر جائے اور ہمارے اندرکوئی تبدیلی پیدا نہ ہو، اگر ہم پہلے کی طرح جھوٹ بولتے رہیں، نفرتیں بانٹتے رہیں، حق تلفی کرتے رہیں، تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ ہم نے کربلا سے کیا حاصل کیا؟حضرت امام حسین نے اپنے عمل سے یہ واضح کر دیا تھا کہ ایک مسلمان کی اصل طاقت اس کے اصول ہوتے ہیں،جب اصول بک جائیں تو فتوحات بھی شکست بن جاتی ہیں، اور جب اصول محفوظ رہیں تو ظاہری شکست بھی تاریخ کی سب سے بڑی فتح بن جاتی ہے۔” کربلا اسی فتح کا نام ہے ”۔ ایک ایسی فتح جس میں بظاہرسر نیزوں پر تھے ، مگر حقیقت میں ضمیر سربلند تھا۔ ایک ایسی فتح جس میں خیمے جل گئے ، مگر پیغام زندہ رہ گیا،شاید اسی لیے چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود لوگ یزید کے محلوں کو نہیں یاد کرتے ، مگر حسین کے صبر، استقامت اور قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں،تاریخ نے اپنا فیصلہ سنا دیا،” طاقت کا اقتدارچند سال چلتا ہے ، مگر کردارکی حکومت صدیوں تک قائم رہتی ہے ”۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں اہلِ بیت سے محبت ایک جذباتی تعلق سے آگے بڑھ کر ایک عملی عہد بن جاتی ہے ،عہد اس بات کا کہ ہم سچ کا ساتھ دیں گے ، انصاف کا ساتھ دیں گے ، اور اپنے کردار کو ان عظیم ہستیوں کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔
آخر میں شاید ہمیں خود سے ایک سادہ مگر بہت اہم سوال پوچھنا چاہیے ، اگر آج امام حسین ہمارے درمیان ہوتے تو کیا وہ ہمارے نعروں سے زیادہ ہمارے کردار کو نہ دیکھتے؟ کیا وہ یہ نہ پوچھتے کہ تم نے میرے غم میں کتنے آنسو بہائے ، یہ بعد کی بات ہے ، پہلے یہ بتاؤ کہ تم نے سچ کے لیے کیا قربانی دی۔؟ تم نے ظلم کے خلاف کتنی آواز بلند کی؟ تم نے اپنے معاملات میں کتنا انصاف کیا؟ تم نے کمزور کا کتنا ساتھ دیا؟ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے ،ہرمسلمان کے دل میں ان کے لیے عقیدت، احترام اور محبت موجود ہے ، لیکن محبت کا اعلیٰ ترین درجہ صرف ذکر کرنا نہیں، بلکہ کردار میں اس محبت کی جھلک پیدا کرنا ہے ، اگرہمارے اخلاق میں دیانت آ جائے ،ہمارے رویّوں میں عدل آ جائے ، ہمارے دلوں میں رحم آ جائے ، اور ہمارے ضمیر میں حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا ہو جائے ، تو یہی اہلِ بیت سے سچی محبت کا سب سے خوبصورت اظہار ہوگا۔یوم عاشور ہمیں صرف ایک المناک واقعہ یاد نہیں دلاتا، بلکہ ایک آئینہ بھی دکھاتا ہے ، ایک ایسا آئینہ جس میں ہم اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور خود سے پوچھ سکتے ہیں کہ ہم حسین کے نام کے ساتھ کھڑے ہیں یا حسین کے پیغام کے ساتھ؟کیونکہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ رسومات وقت کے ساتھ بدل جاتی ہیں، جذبات بھی مدھم پڑ جاتے ہیں، مگر کرداراورتعلیمات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں، کربلا کا پیغام بھی یہی ہے کہ حق کا ساتھ دو، ظلم کے سامنے نہ جھکو، اور اپنے دین کو صرف زبان تک نہیں بلکہ اپنے عمل تک لے جاؤ۔شاید اسی دن اہلِ بیت سے ہماری محبت ایک دعوے سے بڑھ کر ایک گواہی بن جائے گی، ایسی گواہی جو ہماری زبان نہیں، ہمارا کردار دے گا۔ اور یہی کربلا کا وہ درس ہے جس کی آج بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی چودہ سو سال پہلے تھی۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں