میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قبر پر کھڑا پاکستانی انسان

قبر پر کھڑا پاکستانی انسان

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۴ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

تھامس ہارڈی(Thomas Hardy)کی نظم”Ah, Are You Digging on My Grave?” محض قبر، موت یا ایک کتے کی وفاداری کی کہانی نہیں۔ یہ پوری انسانی تاریخ کی سب سے دردناک سچائیوں میں سے ایک سچ کو بے نقاب کرتی ہے۔ انسان اپنی زندگی میں جن رشتوں، محبتوں، نفرتوں، وعدوں اور تعلقات کو ابدی سمجھتا ہے، موت آتے ہی وہ سب ہوا میں تحلیل ہونے لگتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ انسان وقت کے ساتھ بھلا دیا جاتا ہے، مگر بعض اوقات ایک بے زبان جانور وہ وفاداری نبھاتا ہے جو انسان نہ نبھا سکے۔
نظم کی ابتدا ہی ایک قبر سے ہوتی ہے۔ قبر کے اندر لیٹی ہوئی روح سوال کرتی ہے: ”کیا تم میری قبر کھود رہے ہو؟” اور پھر وہ اپنے محبوب کا نام لیتی
ہے۔ شاید اسے یقین ہے کہ محبت موت سے بڑی ہوگی۔ مگر جواب آتا ہے کہ محبوب تو اب کسی اور سے شادی کر چکا ہے۔ اس نے خود کو یہ تسلی دے
دی ہے کہ ”اب اسے کیا فرق پڑے گا کہ میں وفادار رہا یا نہیں یہ صرف ایک شخص کی بے وفائی نہیں، یہ پوری انسانی فطرت کا نوحہ ہے۔ انسان اکثر
محبت اُس وقت تک کرتا ہے جب تک اس محبت سے اس کی تنہائی، خواہش یا ضرورت وابستہ ہو۔ موت کے بعد محبت بھی اکثر قبر کے مٹیالے ذروں
کی طرح بکھر جاتی ہے۔ تاریخ میں کتنے لوگ تھے جنہوں نے قسمیں کھائیں کہ ”ہم تمہیں کبھی نہیں بھولیں گے”، مگر وقت نے سب وعدے کھا
لیے۔ قبرستان انسانوں کے ٹوٹے ہوئے وعدوں کی سب سے بڑی لائبریری ہیں پھر وہ روح اپنے رشتہ داروں کو یاد کرتی ہے۔ شاید خون کا رشتہ
محبت سے زیادہ مضبوط ہو۔ مگر جواب پھر مایوس کن ہے۔ رشتہ دار کہتے ہیں: ”پھول لگانے سے کیا فائدہ؟ اس کی روح تو جا چکی۔” یہاں ہارڈی
انسانی سماج کی ایک اور تلخ حقیقت بیان کرتا ہے: اکثر رشتے جذبات سے نہیں، موجودگی سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب انسان دنیا میں ہوتا ہے تب
تک اس کی اہمیت رہتی ہے؛ مرنے کے بعد وہ آہستہ آہستہ یادداشت کے ملبے میں دفن ہونے لگتا ہے، پھر نظم دشمن کی طرف جاتی ہے۔ شاید دشمن ہی قبر کھود رہا ہو، شاید نفرت موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہو۔ مگر دشمن بھی کہتا ہے کہ ”اب وہ میری نفرت کے قابل نہیں رہا”۔ یہ سطر انسانی نفسیات کا عجیب ترین فلسفہ بیان کرتی ہے۔ نفرت بھی دراصل ایک تعلق ہے۔ جب انسان مر جاتا ہے تو نفرت بھی اکثر اپنی شدت کھو دیتی ہے۔ گویا انسان زندہ ہو تو لوگوں کے دلوں میں محبت، حسد، دشمنی، مقابلہ سب رہتا ہے؛ مگر موت سب جذبات کو خاموش کر دیتی ہے اور پھر آخر میں ایک بے زبان کتا سامنے آتا ہے وہ کہتا ہے: ”میں ہوں، آپ کا چھوٹا کتا، جو اب بھی آپ کے قریب رہتا ہے یہ لمحہ پوری نظم کا سب سے بڑا دھچکا ہے۔
انسانوں کی دنیا، جو خود کو عقل، تہذیب، اخلاق اور شعور کی معراج سمجھتی ہے، وہاں آخر میں وفاداری ایک جانور کے حصے میں آتی ہے۔ ہارڈی یہاں انسانی سماج پر ایک خوفناک سوال اٹھاتا ہے: کیا واقعی انسان سب سے زیادہ وفادار مخلوق ہے؟ یا پھر انسان سب سے زیادہ مفاد پرست مخلوق بن چکا ہے؟یہ نظم صرف مغرب کی کہانی نہیں۔ دنیا کے ہر سماج کو دیکھیں تویہی منظر بکھرا ہوا ہے۔ جب انسان طاقتور ہو، دولت مند ہو، فائدہ دے رہا ہو، لوگ اس کے گرد جمع رہتے ہیں۔ مگر جیسے ہی وہ کمزور پڑتا ہے، بیمار ہوتا ہے، غریب ہوتا ہے یا مر جاتا ہے، لوگ آہستہ آہستہ دور ہونے لگتے ہیں۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے وفاداری کے بڑے بڑے دعوے کیے، مگر جنگوں، اقتدار، دولت اور خوف کے سامنے اکثر وہ دعوے ٹوٹ گئے۔ سلطنتیں بدل گئیں، نظریے بدل گئے، دوستیاں بدل گئیں، مگر ایک بے زبان جانور کی وفاداری صدیوں سے ویسی ہی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ہارڈی کی نظم دل میں تیر کی طرح اترتی ہے۔ وہ انسان کی ساری تہذیبی برتری کو ایک لمحے میں چیلنج کر دیتی ہے نظم کا آخری جملہ سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے: ”مالک، میں نے کھود لیا”یہ جملہ صرف قبر کھودنے کا نہیں، یہ انسانی غرور کو دفن کرنے کا جملہ ہے۔ انسان خود کو رشتوں کا بادشاہ سمجھتا رہا، مگر آخر میں ایک کتا اسے وفاداری کا مطلب سمجھاتا ہے شاید اسی لیے زندگی کا سب سے بڑا المیہ موت نہیں، بلکہ یہ احساس ہے کہ ہم جنہیں ہمیشہ اپنا سمجھتے رہے، وقت اکثر انہیں ہم سے چھین لیتا ہے۔ اور بعض اوقات، انسانوں کے شور سے بھری دنیا میں، سب سے سچا دل کسی بے زبان مخلوق کے سینے میں دھڑک رہا ہوتا ہے۔
اس نظم کو پاکستان کے تناظر میں پڑھا جائے تو یہ محض ادب نہیں رہتی، بلکہ پورے پاکستانی سماج، پاکستانی تاریخ اور پاکستانی انسان کا پوسٹ مارٹم بن جاتی ہے پاکستان ایک ایسا معاشرہ بن چکا ہے جہاں زندہ انسان بھی اپنی ہی قبر کے اندر پڑا محسوس کرتا ہے۔ یہاں لوگ سانس تو لیتے ہیں مگر روحیں مر چکی ہیں۔ یہاں رشتے موجود ہیں مگر محبت غائب ہے۔ یہاں مذہب موجود ہے مگر اخلاق دفن ہو چکا ہے۔ یہاں سیاست موجود ہے مگر انسان غائب ہے۔ یہاں ہجوم موجود ہے مگر سماج مر چکا ہے ہارڈی کی نظم میں قبر کے اندر لیٹی ہوئی روح سب سے پہلے اپنے محبوب کو پکارتی ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ محبت موت سے بڑی ہوگی۔ مگر جواب ملتا ہے کہ محبوب تو آگے بڑھ چکا، اس نے نئی زندگی شروع کر دی۔ یہ منظر صرف ایک فرد کی بے وفائی نہیں، یہ پاکستان کی پوری اجتماعی نفسیات ہے پاکستان میں انسان اُس وقت تک اہم ہے جب تک وہ طاقتور ہے، فائدہ دیتا ہے، عہدے پر ہے، دولت رکھتا ہے یا کسی مفاد کا ذریعہ ہے۔ جیسے ہی وہ کمزور پڑتا ہے، بیمار ہوتا ہے، غریب ہوتا ہے یا مر جاتا ہے، لوگ اُس کے گرد سے ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے وہ کبھی موجود ہی نہ تھا۔ یہاں دوستی بھی اکثر ضرورت کی ہوتی ہے، محبت بھی مفاد کی، تعلق بھی فائدے کا، اور وفاداری بھی طاقت کے ساتھ جڑی ہوئی ،یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں ہر شخص اندر سے خوفزدہ ہے۔ ہر انسان جانتا ہے کہ اگر کل وہ گر گیا تو دنیا اس پر مٹی ڈال کر آگے بڑھ جائے گی پاکستانی تاریخ خود ایک ایسی قبر ہے جس پر ہر دور میں کسی نہ کسی نے مٹی ڈالی۔ اس ملک کے دانشور دفن کیے گئے، شاعر خاموش کیے گئے، سچ بولنے والوں کو غدار کہا گیا، سوال کرنے والوں کو دشمن بنایا گیا۔ یہاں سوچ ہمیشہ خطرناک سمجھی گئی کیونکہ سوچنے والا انسان غلام نہیں رہتا فیض احمد فیض سے لے کر حبیب جالب تک، اس سرزمین کے کتنے لوگوں نے سچ بولنے کی قیمت تنہائی، جیل اور غربت کی صورت میں ادا کی۔ مگر سماج خاموش رہا۔ کیونکہ مردہ سماج ہمیشہ زندہ انسانوں سے ڈرتاہے ہمارے سماج میں انسان کی اصل قدر اس کی زندگی میں نہیں، اس کی موت کے بعد طے کی جاتی ہے یہ ملک عجیب تضادات کا شکار ہے۔ یہاں لوگ زندہ انسان کو برداشت نہیں کرتے مگر مرنے کے بعد اس کی تصویریں اٹھا کر نعرے لگاتے ہیں۔ یہاں سوچنے والوں کو جینے نہیں دیا جاتا مگر مرنے کے بعد انہیں قومی ہیرو بنا دیا جاتا ہے اور پھر نظم کے آخر میں ایک کتا سامنے آتا ہے ۔۔وفادار، خاموش، بے زبان وہ کہتا ہے:”میں اب بھی آپ کے قریب رہتا ہوں”،یہاں ہارڈی پوری انسانی تہذیب پر آخری وار کرتا ہے۔ وہ دکھاتا ہے کہ جس انسان نے خود کو عقل، تہذیب، مذہب، سیاست اور اخلاق کا بادشاہ سمجھا، وہ وفاداری میں ایک بے زبان جانور سے بھی پیچھے رہ گیا اور اگر سچ کہا جائے تو پاکستانی سماج بھی اسی مقام پر کھڑا ہے۔ یہاں انسان انسان سے زیادہ اپنے مفاد سے وفادار ہے۔ سیاستدان اقتدار سے وفادار ہیں، ادارے طاقت سے وفادار ہیں، سرمایہ دار دولت سے وفادار ہیں، اور عام انسان خوف سے وفادار ہو چکا ہے۔ سچ، انسانیت، اصول اور اخلاق سب کہیں پیچھے دفن ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس معاشرے میں اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر یقین نہیں کرتے۔ محبتیں مصنوعی ہو چکی ہیں۔ تعلقات کمزور ہو چکے ہیں۔ انسان اندر سے ٹوٹ چکا ہے پاکستان کا سب سے بڑا بحران شاید معاشی نہیں، سیاسی نہیں، بلکہ روحانی اور اخلاقی بحران ہے۔
یہ ایک ایسا سماج بنتا جا رہا ہے جہاں انسان زندہ رہتے ہوئے بھی اپنی قبر کھود رہا ہے۔ جہاں ہر شخص دوسرے کے زخم پر مٹی ڈال کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے ہارڈی کی نظم آخر میں صرف ایک سوال چھوڑتی ہے: اگر انسان کی وفاداری اتنی کمزور ہے، تو پھر انسان اپنی تہذیب پر فخر کس بات کا کرتا ہے؟ شاید یہی وہ سوال ہے جس سے پاکستانی سماج سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ قومیں صرف معیشت کے مرنے سے تباہ نہیں ہوتیں، وہ اُس دن تباہ ہوتی ہیں جب اُن کے انسان اندر سے مر جائیں، جب محبت مفاد بن جائے، جب وفاداری تجارت بن جائے، اور جب قبر پر کھڑا انسان یہ محسوس کرے کہ اس کی زندگی سے زیادہ وفادار تو شاید ایک بے زبان کتا تھا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں