میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سیسی میں 8ملازمین کی جعلی بھرتی،تحقیقات کا مطالبہ

سیسی میں 8ملازمین کی جعلی بھرتی،تحقیقات کا مطالبہ

ویب ڈیسک
منگل, ۲۳ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

سوشل سیکیورٹی آفیسر وسیم جمال، عقیل خرم، جونیئر کلرک اطہر حسین شامل
سیسی میں بھرتیاں سابق وزیر کی خواہش پر کی گئیں، کمشنر سیسی کو خط میں دعویٰ

محکمہ لیبر کے ماتحت ادارے سیسی میں سوشل سیکورٹی آفیسر سمیت 8ملازمین کی مبینہ طور پر جعلی بھرتی، ڈائریکٹر سیسی نے بھرتیوں کی انکوائری کے لئے کمشنر کو خط لکھ دیا۔ جرأت کو موصول لیٹر میں محکمہ محنت کے
ماتحت ادارے سندھ سوشل ایمپلائیز سیکورٹی انسٹی ٹیوشن سیسی) کے ڈائریکٹر نادر حسین کناسرو نے کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو کو لیٹر ارسال کر کے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2005میں 8 ملازمین کو ایڈہاک طور پر بھرتی کیا گیا، بعد میں بھرتی ہونے والے ملازمین کو مستقل کیا گیا اور عہدے بھی دیئے گئے ، بھرتی ہونے والوں میں سوشل سیکیورٹی آفیسر وسیم جمال، عقیل خرم، جونیئر کلرک اطہر حسین شامل ہیں، ڈی ڈی او طاہر کو اکاونٹ آفیسر تعینات کیا گیا۔ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیسی میں بھرتیاں سابق وزیر کی خواہش پر کی گئیں، ریکارڈ میں یہ واضح نہیں کہ بھرتیاں قواعد و ضوابط کے تحت کی گئیں یا قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔ خط میں سوال کیا گیا ہے کہ بھرتیوں کے لئے اشتہار جاری کیا گیا ؟ سوشل سیکیورٹی آفیسر کی بھرتی کے لئے قواعد پر عمل کیا گیا ؟ بھرتی ہونے والوں کی تعلیمی قابلیت مطلوبہ تھی اور سلیکشن کمیٹی قائم کی گئی ؟ مجاز اتھارٹی نوٹ شیٹ پر بھرتیاں کر سکتی ہیں یا نہیں ؟ ڈائریکٹر سٹی ون نے خط میں سفارش کی ہے کہ بھرتیوں کی چھان بین کے لئے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیشن قائم کیا جائے ۔(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں