عارف بلڈر کی قبضہ مہم میں بااثر شخصیات بھی ملوث
شیئر کریں
پام ریزیڈنسی میں مبینہ ملاقات، زمین پر قبضے کی اجازت طلب، ریکارڈ میں رد وبدل
قبضہ مافیا سے روابط اور سرکاری اداروں کی خاموشی ،متاثرین کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد کے علاقے ہالا ناکہ کے قریب دیہہ مرزا پور میں قائم مصطفی بنگلوز ہاؤسنگ اسکیم ایک بار پھر سنگین تنازعات کی زد میں آ گئی ہے ۔ متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ عارف بلڈر نے مبینہ طور پر جعل سازی، ریکارڈ میں ردوبدل اور دیگر غیر قانونی ذرائع اختیار کرکے قیمتی اراضی پر قبضے کی کوشش کی، جبکہ اصل مالکان کو ان کی قانونی ملکیت سے محروم کرنے کے لیے مختلف سرکاری اداروں میں مبینہ طور پر اثرورسوخ استعمال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق حیدرآباد بائی پاس پر واقع پام ریزیڈنسی میں عبداللہ میمن کے دفتر میں عارف بلڈر کی یونین کونسل 145کے چیئرمین زوہیب چانگ، ان کے والد وڈیرا ظفر علی چانگ اور بہرام چانگ سے ملاقات ہوئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس ملاقات میں مصطفی بنگلوز کی متنازع اراضی پر قبضے سے متعلق معاملات پر گفتگو ہوئی اور مبینہ طور پر اجازت بھی طلب کی گئی۔ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران یو سی چیئرمین کی جانب سے مبینہ طور پر کہا گیا کہ ’’آپ کام کریں، ہم اس معاملے میں نہیں بولیں گے ‘‘۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ خاموشی کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے اور اس پورے معاملے کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آسکے ۔متاثرین نے مزید الزام عائد کیا کہ دیہہ مرزا پور کے مختلف سروے نمبرز کی اراضی کے ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کرکے اصل مالکان اور ورثاء کو ان کے حقوق سے محروم کیا گیا، جبکہ اسی زمین پر ہاؤسنگ اسکیم قائم کرکے شہریوں سے کروڑوں روپے وصول کیے گئے ۔ متاثرین نے اینٹی کرپشن، ریونیو، ایچ ڈی اے ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔(نمائندہ جرأت)


