ایڈر کی موجب بننے والی سرنجیں فروخت،چیف ڈرگ انسپکٹر پر الزام
شیئر کریں
لیاری میں چھاپے کے دوران ہزاروں کی تعداد میں زائد المعیاد اور استعمال شدہ سرنجز برآمد
غیر محفوظ سرنجوں کی مسلسل دستیابی سے عوام میں شدید تشویش ، ڈرگ انسپکٹر کی کھلی اجازت
( رپورٹ: صفدر بٹ) صوبہ سندھ کے معصوم بچوں میں خطرناک موذی مرض ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ میں ڈرگ ایڈمنسٹریشن سندھ کے سینئر افسر کے مبینہ ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔کراچی کے علاقے لیاری میں چھاپے کے دوران ہزاروں کی تعداد میں زائد المعیاد اور استعمال شدہ سرنجز برآمد کی گئی تھیں۔ صوبائی ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے افسر نے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کے بجائے مبینہ طور پر مک مکا کر لیا۔تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت سندھ کے ماتحت ادارے ڈرگ ایڈمنسٹریشن سندھ کے سینئر افسر کے خلاف عوام الناس کی صحت کے حوالے سے سنگین مجرمانہ غفلت ،مالی بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا انکشاف ادارے کے ہی سابق افسر کی تحریری شکایت میں سامنے آیا ہے ۔فروری 2024میں ریٹائر ہونے والے سینئر ڈرگ انسپکٹر ذاکر حسین سمو ں نے قائم مقام چیف ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو کے خلاف عوامی صحت کے حوالے سے سنگین الزامات لگاتے ہوئے محکمہ صحت سندھ،سمیت صوبے کے اعلیٰ حکام اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو ارسال کی جانے والی تحریری شکایت میں موقف اختیار کیا ہے کہ مورخہ 19اکتوبر 2023 کو غلام علی لاکھو نے اسسٹنٹ کمشنر آرام باغ کے ہمراہ ایک میڈیکل اسٹور پر چھاپہ مارا ،وہاں سے غیر معیاری،زائد المعیاد اور استعمال شدہ سرنجیں برآمد ہوئیں جو کہ ایچ آئی وی سمیت متعدی اور انتہائی خطرناک بیماریاں پھیلانے کی موجب بن سکتی تھیں اور عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ تھی۔ ایسی خطرناک طبی مصنوعات کی نشاندہی اور برآمدگی کے باوجود قانون کے مطابق موثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔تحریری شکایت میں الزام لگایا گیا کہ ملزمان کے خلاف ڈرگ ایکٹ 1976کے تحت قانونی کارروائی کرنے کے بجائے متعلقہ افسر نے موقع پر 15 لاکھ روپے رشوت وصول کی اور ماہانہ 3لاکھ روپے کے عوض کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ اسی طرح 2؍نومبر 2023کو غلام علی لاکھو نے لیاری میں واقع بسم اللہ میڈیکل اسٹور کو سیل کیا کیونکہ وہاں ممکنہ طور پر مضر صحت ادویات پائی گئی تھیں، تاہم کارروائی شروع کرنے کے باوجود ڈرگ ایکٹ 1976کے تحت مطلوبہ قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھائی گئی ،اس کے بجائے مذکورہ احاطے کو بعد ازاں ڈی سیل کر دیا گیا اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ چلائے بغیر کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔غیر محفوظ سرنجوں کی مسلسل دستیابی سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔کیونکہ سکھر،قمبر اور گمبٹ دیگر علاقوں میں معصوم بچوں میں ایچ آئی وی کے سینکڑوں کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں شکایت کنندہ کا دو سالہ معصوم پوتا زوہان بھی شامل ہے ،جسے ایسی ہی سرنج کے استعمال سے ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے ۔درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتہائی اہم اور حساس عہدے پر فائز قائم مقام چیف ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو کا طرز عمل سنگین بد عنوانی کے مترادف ہے ،وہ ڈرگ ایکٹ 1976کے بنیادی مقاصد جیسے عوامی صحت کا تحفظ کرنا اور عوا م الناس کو محفوظ،رجسٹرڈ اور معیاری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانا شامل ہے، اس کے علاوہ ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے ،رپورٹ کرنے یا مقدمہ چلانے میں کسی بھی قسم کی من مانی ریگولیٹری اداروں پر عوام کا اعتماد مجروح کرتی ہے اور شہریوں کو صحت کے حوالے سے سنگین خطرات سے دو چار کرنا ہے۔ مذکورہ افسر کے خلاف اسی نوعیت کی کئی شکایات متاثرہ افراد کی جانب سے کی جا چکی ہیں۔موجودہ سنگین الزامات ایک با اختیار اتھارٹی کے ذریعے آزادانہ تحقیقات کا تقاضا کرتی ہیں۔ مذکورہ افسر کے خلاف فوری طور پر ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات شروع کی جائے اور بسم اللہ میڈیکل اسٹور لیاری سے متعلق تمام ریکارڈ جس میں سیل کرنا اور ڈی سیل کرنا قبضے میں لیے گئے سیمپلز کا جائزہ لیا جائے اور بدعنوانی،غفلت اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث پائے جانے والے افسران کا تعین کیا جائے ۔


