سب سے مہنگا آدمی کون؟
شیئر کریں
بے لگام / ستارچوہدری
تصورکیجیے!! ایک صبح آپ بیدار ہوں اوردنیا بدل چکی ہو۔ نہ عمارتیں بدلی ہوں، نہ حکومتیں، نہ بازاراور نہ ہی سڑکیں ،صرف ایک تبدیلی
آئی ہو،ہرانسان کے سینے پرایک تختی لگی ہو، جس پر اس کے دل کی اصل قیمت درج ہو۔ کسی کے سینے پرلکھا ہو،محبت۔ پانچ سو روپے۔۔
کسی پر، وفاداری۔ ہزار روپے۔ کسی پر،ضمیر۔ فروخت ہوچکا۔ اورکسی خوش نصیب کے سینے پر لکھا ہو،کردار۔ انمول۔ پھرشاید دنیا کا سب
سے بڑا انقلاب برپا ہوجائے۔ ہم صدیوں سے انسانوں کی قیمت ان کے لباس، گاڑی، بنگلے ، عہدے اور بینک اکاؤنٹ سے لگاتے آئے
ہیں، ہم نے دولت کو عزت کا مترادف بنا دیا۔اور کردارکوایک پرانی کتاب کے زرد صفحات میں دفن کر دیا،مگراگراصل قیمتیں ظاہرہوجائیں
توممکن ہے سب سے مہنگا آدمی وہ نکلے جس کی جیب خالی ہو اور سب سے سستا وہ جس کے پاس دولت کے انبار ہوں۔ شاید اس دن بازاروں میں اشیاء نہیں، انسانوں کی حقیقتیں بک رہی ہوں۔
ذرا سوچیے!! اس دن کتنے رشتے اچانک بے نقاب ہو جائیں گے۔وہ دوست جو برسوں سے وفاداری کے دعوے کررہا تھا، اس کے سینے
پرشاید لکھا ہو ”مفاد کے مطابق دستیاب”۔ وہ شخص جو ہرمحفل میں اخلاقیات کے لیکچر دیتا ہے ، ممکن ہے اس کے ضمیر کی قیمت ایک کپ چائے
سے بھی کم نکلے۔ اوروہ خاموش آدمی، جو کسی کونے میں بیٹھ کر اپنی محنت کی روٹی کھاتا ہے ، شاید اس کے کردار کی قیمت کسی خزانے سے زیادہ
ہو۔ پھرشاید شادیوں کے معیار بھی بدل جائیں، لوگ خاندان، دولت اورجائیداد کے بجائے دلوں پرلکھی قیمتیں پڑھنے لگیں،باپ بیٹی کے
لیے یہ نہ پوچھے کہ لڑکے کی تنخواہ کتنی ہے ، بلکہ یہ دیکھے کہ اس کی محبت کتنی سچی ہے اور اس کی وفاداری کتنی قیمتی۔ سیاست کے میدان میں تو
شاید سب سے بڑا زلزلہ آ جائے ،جلسوں کے اسٹیج پرکھڑے لیڈروں کے سینوں پراگر ان کے وعدوں کی اصل قیمت لکھی ہو توعوام کو لمبی
تقریروں کی ضرورت ہی نہ رہے ،ایک نظر کافی ہو۔ کچھ چہرے ایسے ہوں جن کے گرد ہزاروں محافظ کھڑے ہوں، مگران کے ضمیر کی قیمت
چند سکوں سے زیادہ نہ ہو۔ اورکچھ گمنام لوگ ایسے ہوں جن کے پاس کوئی عہدہ نہ ہو، مگران کی دیانت داری انمول لکھی ہو۔ شاید اس دن
ہمیں پہلی بارمعلوم ہو کہ دنیا میں سب سے بڑی غربت پیسوں کی نہیں، کردار کی ہے۔ اور سب سے بڑی دولت بینک بیلنس نہیں، بلکہ وہ دل
ہے جو اب تک فروخت نہیں ہوا، ہمیں یہ بھی پتا چلے ، ہم جنہیں عظیم سمجھتے تھے ، وہ کتنے معمولی تھے ، اور جنہیں معمولی سمجھتے تھے ، وہ کتنے عظیم تھے۔
لیکن شاید سب سے دلچسپ منظر بازاروں میں نظرآئے ، دکانداراشیاء نہیں، انسانوں کو دیکھ رہے ہوں،ایک طرف کروڑوں کی گاڑی سے اترنے والا شخص کھڑا ہو، مگراس کے سینے پرلکھا ہو،ایمان۔ معمولی قیمت پردستیاب۔ دوسری طرف ایک مزدور اپنے پسینے سے بھیگی قمیص میں کھڑا ہو، اوراس کے دل پر جگمگا رہا ہو،دیانت داری۔۔ انمول۔۔ اورپھرایک عجیب پریشانی بھی جنم لے ، بہت سے لوگ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے سینے پر لکھی قیمت مٹانے کی کوشش کریں،کوئی بہانے تراشے ، کوئی وضاحتیں دے ، کوئی دوسروں کو قصوروار ٹھہرائے ،مگرقیمتیں نہ بدلیں، کیونکہ وہ کسی سرکاری دفتر نے نہیں، انسان کے اعمال نے لکھی ہوں، تب شاید پہلی بار ہمیں احساس ہو کہ دنیا کا سب سے مشکل کام دولت کمانا نہیں، بلکہ اپنے دل کی قیمت بلند رکھنا ہے ، کیونکہ دولت چوری ہو سکتی ہے ، عہدہ چھن سکتا ہے ، شہرت مٹ سکتی ہے ، مگرایک بارگرجانے والا کرداربرسوں بعد بھی اپنی اصل قیمت واپس نہیں پا پاتا۔اورشاید اس دن سب سے زیادہ پریشان وہ لوگ ہوں جو اپنی ساری زندگی دوسروں کی نظر میں بڑے بننے کی کوشش کرتے رہے ، انہوں نے عالی شان گھر بنائے ، قیمتی لباس پہنے ، لمبی گاڑیاں خریدیں، اپنے نام کے ساتھ بڑے بڑے عہدے جوڑے ، مگراچانک معلوم ہو کہ ان کے دل پر لکھی قیمت ان سب چیزوں سے کہیں کم ہے ، وہ جتنا اپنے آپ کو مہنگا سمجھتے تھے ، حقیقت میں اتنے ہی سستے نکلے۔
اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جنہیں زندگی بھرکسی نے اہمیت نہ دی، وہ خاموشی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے ، نہ انہیں اخبارات کی سرخیاں ملیں، نہ ٹی وی کی اسکرینیں، نہ سوشل میڈیا کی شہرت، مگر جب ان کے سینوں پرلکھی قیمت پڑھی جائے تو معلوم ہو کہ وہی اس معاشرے کے اصل امیر لوگ ہیں۔ ایک استاد، جس نے نسلوں کو سنوارا، ایک ماں، جس نے اپنی خواہشات قربان کرکے بچوں کے خواب پورے کیے ، ایک مزدور، جس نے حلال روزی کے لیے ساری عمرپسینہ بہایا، ایک دوست، جو ہرمشکل وقت میں ساتھ کھڑا رہا، ان سب کے دلوں پرشاید ایک ہی لفظ لکھا ہو۔انمول۔ تب شاید دنیا کو پہلی بار احساس ہو کہ انسان کی قدر اس کے پاس موجود چیزوں سے نہیں، بلکہ اس کے اندرموجود خوبیوں سے ہوتی ہے ، مگرالمیہ یہ ہے کہ دلوں پرقیمتیں لکھی نہیں ہوتیں،اسی لیے دھوکا زندہ ہے ، منافقت زندہ ہے ، دکھاوا زندہ ہے ،ہم چہروں کو پڑھتے ہیں، دلوں کو نہیں،ہم الفاظ پر یقین کرلیتے ہیں، کردارکو جانچنے کی زحمت نہیں کرتے۔۔ اوریہی وجہ ہے کہ اکثر سستے لوگ مہنگے دکھائی دیتے ہیں۔ اوراصل قیمتی لوگ ہجوم میں گم ہوجاتے ہیں۔
شاید پھردنیا کا سب سے بڑا سوال یہ نہ ہو کہ آپ کے پاس کتنا ہے؟ بلکہ یہ ہو کہ آپ ہیں کیا؟ لوگ بینک بیلنس کے بجائے ضمیر کا
حساب پوچھیں،شہرت کے بجائے کردارکی قیمت جاننا چاہیں۔ اوردولت کے بجائے وفاداری کو سرمایہ سمجھیں، مگرقدرت نے شاید اسی لیے
دلوں پرقیمتیں نہیں لکھیں کہ انسان کوایک امتحان دیا جائے ،ہمیں چہرے دیکھ کر نہیں، کردا دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے ، ہمیں الفاظ نہیں، اعمال تولنے
ہیں، ہمیں یہ جاننا ہے کہ ہرچمکتی ہوئی چیزسونا نہیں ہوتی اورہرسادہ نظرآنے والا انسان معمولی نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے تمام
بازارمل کربھی ایک اچھا ضمیر نہیں خرید سکتے ، کسی خزانے میں اتنی دولت نہیں کہ سچی محبت خریدی جا سکے ،کوئی طاقت ایسی نہیں جو وفاداری پیدا
کر دے۔اورکوئی نوٹ ایسا نہیں جو گرے ہوئے کردار کو دوبارہ بلند کر دے۔ اس لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ اگردلوں پرقیمتیں لکھی ہوتیں توہم دوسروں کے بارے میں کیا جانتے ، اصل سوال یہ ہے کہ اگرآج اچانک ہمارے اپنے سینے پرہماری قیمت ظاہرہوجائے توکیا ہم اسے فخر سے دنیا کو دکھا سکیں گے؟ کیونکہ انسان کی سب سے بڑی دولت وہ نہیں جو اس کی جیب میں ہوتی ہے ، بلکہ وہ ہے جو اس کے دل میں ہوتی ہے۔ اوربعض اوقات ایک غریب آدمی اپنے کردارکی وجہ سے پوری دنیا کے امیروں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے ۔
٭٭٭


