میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

ویب ڈیسک
منگل, ۱۶ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

انسانی تاریخ کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ انسان نے ہمیشہ سچ کی تعریف کی، مگر اکثر جھوٹ کے سہارے زندگی گزارنے کی کوشش کی۔ اس نے صداقت کے قصیدے لکھے، مگر اپنے چہروں پر نقاب بھی سجائے۔ اس نے دیانت داری کو فضیلت قرار دیا، مگر نمود و نمائش کو کامیابی کا معیار بنا لیا۔ لیکن تاریخ، نفسیات اور انسانی تجربے کا مشترکہ فیصلہ یہ ہے کہ جھوٹ اور دکھاوے پر کھڑی ہونے والی کوئی بھی زندگی آخرکار اپنے ہی بوجھ تلے گر جاتی ہے۔یونانی فلسفی سقراط نے کہا تھا: ”غیر جانچی ہوئی زندگی جینے کے قابل نہیں ہوتی”۔ اس ایک جملے میں انسانی عظمت کا راز پوشیدہ ہے۔ جو انسان خود کو دھوکہ دیتا ہے، وہ دنیا کو کچھ عرصہ دھوکہ دے سکتا ہے، مگر اپنی روح کو نہیں۔ دکھاوے کی زندگی دراصل خود سے فرار کا دوسرا نام ہے۔ انسان دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے ایک مصنوعی کردار تخلیق کرتا ہے، مگر وقت کے ساتھ وہ کردار اس کی اصل ہستی کو نگلنا شروع کر دیتا ہے۔
کارل جنگ کا مشہور قول ہے: ”جو شخص اپنے سائے کو تسلیم نہیں کرتا، وہ آخرکار اسی سائے کے قبضے میں آ جاتا ہے”۔ نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ مسلسل جھوٹ بولنے والا یا مصنوعی شخصیت اختیار کرنے والا انسان اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن میں ایک مستقل کشمکش جنم لیتی ہے: ایک طرف وہ شخص جو حقیقت میں ہے، اور دوسری طرف وہ کردار جو دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ یہی تضاد بے چینی، اضطراب اور ذہنی تھکن کو جنم دیتا ہے۔انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ عظیم سلطنتیں باہر سے نہیں بلکہ اندر کے جھوٹ سے تباہ ہوئیں۔ رومی سلطنت ہو یا زوال پذیر بادشاہتیں، جب حقیقت اور دعوے کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا تو طاقت کے ستون بھی ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ تاریخ کا سب سے بے رحم قانون یہ ہے کہ حقیقت کو کچھ دیر کے لیے دبایا جا سکتا ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں۔جرمن فلسفی فریڈرک نطشے نے لکھا تھا: ”میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا، میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اب میں تم پر یقین نہیں کر سکوں گا”۔ جھوٹ صرف ایک لفظ نہیں مارتا، وہ اعتماد کو قتل کرتا ہے۔ اور اعتماد وہ سرمایہ ہے جس کے بغیر نہ محبت زندہ رہ سکتی ہے، نہ دوستی، نہ خاندان، نہ معاشرہ اور نہ ہی ریاست۔آج کا انسان شاید تاریخ کے کسی بھی دور کے انسان سے زیادہ دکھاوے کا شکار ہے۔
رومی نے کہا تھا: ”جو کچھ جھوٹا ہے وہ آخرکار گر جائے گا، صرف سچ باقی رہے گا”۔ یہی کائنات کا اخلاقی اصول ہے۔ سچ شاید آہستہ چلتا ہے، مگر اس کے قدم مضبوط ہوتے ہیں۔ جھوٹ تیزی سے دوڑتا ہے، مگر اس کی سانس جلد پھول جاتی ہے۔نفسیات دانوں کے مطابق انسان کی حقیقی خوشی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کی اندرونی حقیقت اور بیرونی زندگی میں ہم آہنگی ہو۔ جب وہ وہی نظر آئے جو حقیقت میں ہے، اور وہی ہو جو نظر آتا ہے۔ یہی داخلی یکسانیت ذہنی سکون پیدا کرتی ہے۔ اس کے برعکس دکھاوے کی زندگی مسلسل ایک کردار ادا کرنے کا نام ہے، اور کوئی بھی اداکار چوبیس گھنٹے اسٹیج پر نہیں رہ سکتا۔پاکستانی سماج بھی اس المیے سے آزاد نہیں۔ یہاں اکثر دولت کی نمائش کردار سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے، عہدے کو قابلیت پر فوقیت دی جاتی ہے اور ظاہری مذہبیت کو باطنی اخلاقیات پر ترجیح ملتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ فرد اور معاشرہ دونوں ایک ایسی دوہری زندگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں جہاں الفاظ کچھ اور ہوتے ہیں اور حقیقت کچھ اور۔ مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے: قومیں نعروں سے نہیں، سچائی سے بنتی ہیں؛ کرداروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔آخرکار انسان کے پاس صرف ایک چیز بچتی ہے: اس کی اصل ذات۔ دولت، شہرت، طاقت اور تعریفیں وقت کے ساتھ مٹ جاتی ہیں، مگر انسان کا ضمیر اس کے ساتھ رہتا ہے۔ جو شخص پوری زندگی دنیا کو متاثر کرنے میں گزار دیتا ہے، وہ اکثر اپنے آپ کو کھو دیتا ہے۔ اور جو شخص اپنے آپ کو پا لیتا ہے، اسے دنیا کی تصدیق کی ضرورت نہیں رہتی۔سچ کبھی کبھی مہنگا ضرور ہوتا ہے، مگر جھوٹ ہمیشہ زیادہ مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ دکھاوا وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر دائمی سکون نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی تاریخ، فلسفہ اور نفسیات ایک آواز ہو کر کہتے ہیں: کامیابی کا سب سے مختصر راستہ سچائی ہے، اور تباہی کا سب سے خوبصورت راستہ دکھاوا۔پاکستان کی تاریخ کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یہ کہنا کافی ہوگا کہ یہاں سچ ہمیشہ کمزور رہا اور جھوٹ ہمیشہ طاقتور نظر آیا۔ مگر تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ جو چیز طاقتور نظر آتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ حقیقتاً مضبوط بھی ہو۔ درخت کو سبز رنگ سے رنگ دینے سے اس کی جڑیں زندہ نہیں ہوتیں، اور قوموں کو نعروں سے سجانے سے ان کی تقدیر نہیں بدلتی۔
انسانی نفسیات کا ایک بنیادی اصول ہے کہ جو فرد مسلسل اپنی حقیقت سے فرار اختیار کرتا ہے، وہ آخرکار اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے۔ یہی اصول قوموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کارل جنگ نے کہا تھا: ”جو چیز شعور میں نہیں آتی، وہ تقدیر بن جاتی ہے”۔ پاکستان کا المیہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اپنی اجتماعی غلطیوں کا سامنا کرنے کے بجائے انہیں تقدیر، سازش یا کسی اور کے کھاتے میں ڈال دیا۔ نتیجتاً وہی غلطیاں بار بار ہماری قسمت بنتی رہیں۔قیامِ پاکستان کے بعد عوام کو خوشحالی، انصاف اور مساوات کے خواب دکھائے گئے، مگر تاریخ کے کئی ادوار میں خواب اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھتا چلا گیا۔ ریاست ترقی کے دعوے کرتی رہی جبکہ عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور عدم تحفظ کے بوجھ تلے دبتا گیا۔ اعداد و شمار اور تقریریں کامیابی کے قصے سناتی رہیں، مگر گلیوں، کھیتوں اور فیکٹریوں میں زندگی ایک مختلف کہانی لکھ رہی تھی۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب قومیں حقیقت سے دور اور سراب کے قریب ہونے لگتی ہیں۔فلسفی فریڈرک نطشے نے لکھا تھا: ”کوئی جھوٹ اس لیے خطرناک نہیں کہ وہ غلط ہے، بلکہ اس لیے کہ لوگ اس پر یقین کر لیتے ہیں”۔
پاکستانی سماج میں بھی کئی دہائیوں سے ایسی کہانیاں گردش کرتی رہی ہیں جنہوں نے ہمیں اصل مسائل سے دور رکھا۔ ہم نے اداروں کی
کمزوری پر گفتگو کرنے کے بجائے افراد کو نجات دہندہ سمجھا، ہم نے نظام کی خرابی کے بجائے چہروں کی تبدیلی کو حل تصور کیا، اور ہم نے
احتساب کے بجائے عقیدت کو ترجیح دی۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی قوم شخصیت پرستی کے سہارے ترقی نہیں کرتی، ترقی ہمیشہ مضبوط
اداروں، قانون کی بالادستی اور سچائی کے اعتراف سے جنم لیتی ہے۔ نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان جتنا اپنی اصل حقیقت کو چھپاتا ہے، اتنا
ہی اندر سے بے سکون ہوتا جاتا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کوئی بھی بیانیہ، چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو،
سچ کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اقتدار آتے اور جاتے رہے، نعرے بدلتے رہے، وعدے نئے ہوتے رہے، مگر عوام کے بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے اکثر بیماری کی تشخیص کے بجائے اس کے پوسٹر خوبصورت بنانے پر توجہ دی۔رومی نے کہا تھا: ”زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی داخل ہوتی ہے”۔مگر روشنی اسی وقت داخل ہوتی ہے جب زخم کو تسلیم کیا جائے۔ جو قومیں اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتی ہیں، وہی اپنی طاقت دریافت کرتی ہیں۔ جرمنی اور جاپان کی جدید تاریخ اس کی مثال ہے کہ تباہی کے بعد بھی سچائی کا سامنا کرنے والی قومیں دوبارہ اٹھ سکتی ہیں۔ لیکن جو قومیں خود فریبی میں مبتلا رہتی ہیں، وہ اپنی شکستوں کو بار بار دہراتی ہیں۔
پاکستان کو آج سب سے زیادہ کسی نئے نعرے، نئے مسیحا یا نئے خواب کی ضرورت نہیں۔ اسے سچ بولنے کی ضرورت ہے۔ سچ یہ کہ انصاف کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ سچ یہ کہ قانون کی حکمرانی کے بغیر استحکام ایک سراب ہے۔ سچ یہ کہ تعلیم، تحقیق اور انسانی ترقی کے بغیر کوئی قوم عظیم نہیں بن سکتی۔ اور سچ یہ کہ عوام کی خوشحالی کے بغیر ریاست کی طاقت محض ایک فریب ہے۔تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ بے رحم ہوتا ہے۔ وہ قوموں کے دعوے نہیں دیکھتی، ان کے نتائج دیکھتی ہے۔ وہ تقریریں نہیں سنتی، عوام کی زندگیوں کا معیار دیکھتی ہے۔ اور پاکستان کی بقا، ترقی اور خوشحالی بھی اسی دن شروع ہوگی جس دن ہم اجتماعی طور پر دکھاوے کے آئینے توڑ کر حقیقت کے چہرے کو دیکھنے کا حوصلہ پیدا کر لیں گے۔ کیونکہ فرد ہو یا قوم، جھوٹ وقتی سہارا تو بن سکتا ہے، منزل نہیں۔ اور جو قومیں اپنی بنیاد سچ پر رکھتی ہیں، وقت آخرکار انہی کے حق میں گواہی دیتا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں