میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

ویب ڈیسک
پیر, ۱۵ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید

ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں وہ قوم کا مقدمہ نہیں لڑ سکتا، شہر کو حقوق دینے والوں سے پارٹی چیئرمین ایکسٹینشن مانگ رہے ہیں، مصطفی کمال کا خالد مقبول پر جوابی وار

(رپورٹ :دعا عباس) ایم کیو ایم پاکستان ایک مرتبہ پھر گروپ بندی کا شکار ہوگئی، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے آ گئے ۔انٹرا پارٹی انتخابات ایم کیو ایم رہنماؤں میں دوریوں کا باعث بن چکے ہیں ،حالیہ دنوں ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنماؤں کی نام لیے بغیر ایک دوسرے پر کڑی تنقید جاری ہے۔ گزشتہ روز بہادرآباد مرکز سے متصل پارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ شہر کو حقوق دینے والوں سے پارٹی چیئرمین ایکسٹینشن مانگ رہے ہیں، الیکشن کمیشن بھی پارٹی چیئرمین کی انٹرا پارٹی انتخابات میں توسیع سے متعلق مسلسل درخواست ملنے پر برہمی کا اظہار کر رہا ہے۔ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں وہ قوم کا مقدمہ نہیں لڑ سکتا۔ مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی جانب سے ہمارے ایم این اے صادق افتخار کا نام بھی لیا گیا ہے اور ان سے متعلق کچھ انکشافات کیے گئے ہیں ۔ٹی وی پر چلنے والی خبر سے متعلق جب پارٹی کے ذمہ دار رضوان بابر سے پوچھتا ہوں تو وہ کہتے ہیں معاملے کو دیکھ رہے ہیں، میں کیا جواب دوں، کسی کو اس بات پر کہ اب تک کوئی شوکاز بھی جاری نہیں ہوا۔ اس رہنما کو گلگت بلتستان کے الیکشن میں اجلاس بلائے بغیر پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کو اعتماد میں لیے بغیر دو ایسے لوگوں کو پارٹی کا ٹکٹ چیئرمین ایم کیو ایم جاری کر دیتے ہیں جو پیپلز پارٹی کے حق میں دستبردار ہو جاتے ہیں۔ میرے کم کہے کو بہت سمجھ کر لوگ اپنا قبلہ درست کر لیں ۔دوسری جانب خالد مقبول صدیقی کی جانب سے نام لئے بغیر مصطفی کمال کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اب پارٹی میں موجود بدعتوں کو نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا ۔انہوں نے واضح کیا ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایم کیو ایم پاکستان اور مصطفی کمال کی سابقہ جماعت پی ایس پی سے ایم کیو ایم کا حصہ بننے والے کارکنان ایک دوسرے سے باہم دست گریبان دکھائی دیتے ہیں اور مسلسل ایک دوسرے کی کردار کشی کرنے میں مصروف ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں