کراچی میں جشنِ آزادی پر ہوائی فائرنگ، خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق
شیئر کریں
کراچی کے مختلف علاقوں میں ہونیوالی ہوائی فائرنگ نے کئی خاندانوں کو غم میں مبتلا کردیا
94 زخمیوں میں خواتین اور کمسن بچے شامل، 41 ملزمان گرفتار،پولیس نے اسلحہ برآمد کرلیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یومِ آزادی کے موقع پر جشن کی خوشیوں کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں ہونے والی ہوائی فائرنگ نے کئی خاندانوں کو غم میں مبتلا کردیا، فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 94 افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس نے ہوائی فائرنگ میں ملوث 41 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا۔چھیپا ذرائع کے مطابق ہوائی فائرنگ سے متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد کے لیے سول اسپتال، جناح اسپتال اور عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق سول اسپتال میں 27، جناح اسپتال میں 37 اور عباسی شہید اسپتال میں 32 متاثرین لائے گئے، یوں مجموعی طور پر 96 افراد کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں ایک خاتون جاں بحق اور 95 افراد زخمی شامل ہیں۔
چھیپا ذرائع کے مطابق پاپوش نگر صرافہ بازار کے قریب مبینہ طور پر نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے 32 سالہ ندا زوجہ چاند شدید زخمی ہوئیں۔
انہیں فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئیں۔ادھر پرانی سبزی منڈی کے قریب بھی جشنِ آزادی کے دوران ہونے والی ہوائی فائرنگ کی زد میں آکر 42 سالہ محراب جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق محراب گزشتہ شب گھر کے باہر موجود تھے کہ ہوائی فائرنگ کے دوران گولی سینے میں لگی، جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہوسکے۔
ذرائع کے مطابق زخمیوں میں 57 مرد، 15 خواتین، 15 بچے اور 8 بچیاں شامل ہیں، جبکہ متاثرین کی عمریں کمسن بچوں سے لے کر 60 سال تک بتائی گئی ہیں۔ زخمیوں میں متعدد افراد کو جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں لگیں اور انہیں طبی امداد کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
جشنِ آزادی کے آغاز کے ساتھ ہی رات 12 بجتے ہی شہر کے متعدد علاقوں میں آتش بازی کے ساتھ ہوائی فائرنگ بھی شروع ہوگئی۔ نارتھ ناظم آباد، فائیو اسٹار چورنگی، کورنگی، اورنگی ٹاؤن، گلستانِ جوہر، ملیر، عزیز آباد، نیو کراچی، لیاقت آباد، صدر، گارڈن، لیاری، جمشید کوارٹرز، لانڈھی، محمود آباد، پی آئی بی کالونی، شاہ فیصل کالونی اور دیگر علاقوں سے فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
نارتھ ناظم آباد میں فائیو اسٹار چورنگی اور ڈی سلوا ٹاور کے اطراف متعدد افراد فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوئے، جبکہ کورنگی کے مختلف سیکٹرز، بالخصوص کورنگی ڈھائی اور ساڑھے پانچ نمبر سے بھی زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسی طرح اورنگی ٹاؤن، پاپوش نگر، گلستانِ جوہر، عزیز آباد مکا چوک، ملیر میمن گوٹھ، نارتھ کراچی اور لیاری سے بھی فائرنگ سے متاثرہ افراد طبی مراکز پہنچے۔ چھیپا ذرائع کے مطابق ناظم آباد، اورنگی ٹاؤن، ملیر، جمشید کوارٹرز، حسین آباد، بفرزون، گلستانِ جوہر اور واٹر پمپ سمیت مختلف علاقوں میں کمسن بچے بھی مبینہ ہوائی فائرنگ کا نشانہ بنے۔
زخمی ہونے والے بچوں میں 4 سے 16 سال تک کی عمر کے بچے اور بچیاں شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی شناخت عبدالمطال، رحیم، علی، محمد زین، ابراہیم، فرمان، محمد علی، مزمل، مرفہ، نیہا، زینب، انیسہ اور علیشہ سمیت دیگر ناموں سے ہوئی، جبکہ بعض متاثرین کی شناخت نہیں ہوسکی۔
چھیپا کے مطابق فائرنگ سے متاثرہ خواتین میں ندا، صفیہ، مانو بیگم، حنیف مائی، آمی، زینب، نیہا، زاہدہ، پروین، ساجدہ، انیسہ، فاطمہ، آمنہ بی بی، عائشہ، مہمرہ اور دیگر شامل ہیں۔
دوسری جانب پولیس نے یومِ آزادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 41 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتاریاں سائٹ سپر ہائی وے، سچل، گلستانِ جوہر، گلشنِ اقبال، اورنگی ٹاؤن، ضلع وسطی اور دیگر علاقوں میں کی گئیں، جبکہ ملزمان کے قبضے سے ہوائی فائرنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
پولیس حکام نے کہا کہ ہوائی فائرنگ شہریوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جشنِ آزادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ اور اسلحے کی نمائش سے گریز کیا جائے تاکہ قومی تہوار کسی ناخوشگوار واقعے یا انسانی جان کے ضیاع کا سبب نہ بنے۔
یوں یومِ آزادی کے موقع پر کراچی میں جشن، آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کے واقعات نے ایک بار پھر شہریوں کی زندگیوں کو خطرے سے دوچار کردیا، جہاں ایک قیمتی انسانی جان ضائع اور درجنوں شہری زخمی ہوئے۔


