بحری تجارت میں سعودیہ سے تعاون ضروری
شیئر کریں
پاکستان کا سعودی عرب کی بحری تجارت کے تحفظ میں تعاون ایک غیر معمولی فیصلہ ہے ۔ایسے حالات میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری
کشیدگی نے خطے کی سیاست کے ساتھ عالمی تجارت ،توانائی کی فراہمی اور سمندری راستوں کی سلامتی کو غیر معمولی خطرات سے دوچار کردیا
ہے۔ پاکستان کا بحری تجارت کے تحفظ میں سعودی عرب سے تعاون کے عزم کا اظہار محض ایک معمولی سفارتی بیان ہی نہیں بلکہ ایک اہم
تزویراتی فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ سعودی عرب سے دیرینہ تعلقات ،مشترکہ دفاع اور عالمی تجارت کے تحفظ کے تصور کو مزید مضبوط بنانے کی
علامت ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے بحیرہ احمر،باب المندب اور خلیج عدن میں تجارتی جہازوں پر بڑھتے حملوں کے تناظرمیں سعودی عرب نے
کثیر ملکی بحری دفاعی تعاون کی تجویز پیش کی تاکہ عالمی تجارتی اور توانائی کے راستوں کا تحفظ کیا جا سکے اِس تجویز کی پاکستان نے حمایت کی لہٰذا
پاکستان کا فیصلہ نہ صرف طے شدہ معاہدوں اور وعدوں کے عین مطابق ہے بلکہ اسی پاکستان کا مفاد ہے۔
پاک سعودیہ تعلقات محض مذہبی اور سفارتی نوعیت کے ہی نہیں بلکہ یہ عشروں پر محیط دفاعی تعاون پر اُستوارہیں۔ پاک فوج نے سعودیہ کی
دفاعی صلاحیتوں کی تربیت اور معاونت میں ہمیشہ اہم اورفیاضانہ کردار ادا کیاہے ۔اسی وجہ سے جب سعودی عرب کو اپنی سمندری حدوداور
تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے حمایت درکار ہوئی تو پاکستان نے مثبت اور ذمہ دار دوست ملک ہونے کاثبوت دیا۔ اِس تعاون کا
بنیادی مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ اپنے دوست ملک کی تجارت اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ اگر جہاز رانی کے
لیے خطرات کا باعث قوتیں مسائل پیدانہ کریں تو کسی عملی کارروائی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
عالمی معیشت کابڑی حد تک سمندری تجارت پر انحصار ہے کیونکہ یہ سامان کی ترسیل کاسستاذریعہ ہے۔ خلیج سے نکلنے والا تیل اور دیگر
تجارتی سامان باب المندب اور بحیرہ احمر کے ذریعے یورپ ،ایشیا اور افریقہ تک پہنچایا جاتا ہے ۔اگر مذکورہ دونوں راستے غیر محفوظ ہوں اور
تیل و دیگر سامان کی ترسیل میں تعطل آجائے تو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے بلکہ عالمی سپلائی متاثر ہونے سے دیگر اشیا کی بھی
قلت کاخدشہ حقیقت بن سکتا ہے ۔پاکستان بھی اپنی توانائی کی ضرورت کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے حاصل کرتا ہے۔ اِس بناپر سمندری
راستوں کامحفوظ رہنا خود پاکستانی معیشت کے حق میں ہے۔
کچھ حلقے پاک سعودیہ بحری تعاون کو کسی ممکنہ نئی جنگ یا عسکری اتحاد کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسی قیاس آرائیاں بے
بنیاد اور مفروضوں پرمبنی ہیں کیونکہ پاکستان اور سعودی عرب واضح کر چکے کہ یہ اقدامات محض دفاعی نوعیت کے ہیں اور اِن کامقصد کسی
مخصوص ملک کو نشانہ بنانا ہر گز نہیں بلکہ تجارت ،توانائی کی ترسیل اور عالمی قوانین کے مطابق جہاز رانی کاتحفظ ہے۔ اِس پہلوسے بھی
انکارممکن نہیں کہ اگر کوئی نرمی اور امن پسندی کو کمزوری سمجھنے لگے تواُسے ہوش میں لانے کے لیے سبق سکھانا ضروری ہوجاتاہے ۔
سعودیہ سے تعاون کے پاکستان کے لیے کئی مثبت پہلو ہیں اول اِس طرح پاکستان ایک ذمہ دار بحری ریاست کے طورپر اپنی ساکھ بہتر
بناسکتا ہے دوم سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے دفاعی اورمعاشی تعلقات مضبوط بنانے کے مواقع ملیں گے۔ سوم بحری سلامتی میں
کردار ادا کرنے سے پاکستانی بحریہ کو عالمی سطح پر تجربہ اور تعاون حاصل ہوگا۔ علاوہ ازیں کراچی اور گوادرجیسی بندرگاہوں کومزید اہمیت
حاصل ہوگی ۔
یہ درست ہے کہ پاکستان کے ایران سے بھی مذہبی ،تاریخی اور سرحدی تعلقات ہیں لہٰذا متوازن سفارتی کاری سودمند ہے تاکہ تعاون
اور امن برقرار رہے اوریہ کہ کسی ایسے تنازع میں فریق بننے کی ضرورت نہیں جس سے خطے میں مزید کشیدگی جنم لے لیکن تاریخ شاہدہے کہ
ایران عشروں سے بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتا اور پاکستان کوثانوی درجہ دیتا ہے۔ اِس لیے ضروری ہے کہ ہر معاملے میں تدبر اور یک طرفہ
امن پسندی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اپنے ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایاجائے۔
موجودہ دورمیں زمینی سرحدوں کے دفاع کے ساتھ سمندری راستوں ،توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارتی نظام کے تحفظ کو بھی اہمیت حاصل
ہے، سمندری تجارت محفوظ ہونے سے خطے کی معیشت مستحکم ہوتی ہے اور توانائی کی فراہمی سے ترقی کے مواقع بڑھتے ہیں پاک سعودیہ
تعاون کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
حالات کا تقاضا ہے کہ جذبات سے زیادہ حکمت کا راستہ اختیار کیا جائے ضروری ہے کہ دفاعی صلاحیت، سفارتی بصیرت اور متوازن
خارجہ پالیسی سے پاکستان اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے تاکہ خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ میں موثر کردارادا کیا
جا سکے، اگر اسلام آباد اعتدال اور تدبر کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو نہ صرف دوست ممالک کوایک قابلِ اعتماد اتحادی ہونے کایقین دلا سکے گا
بلکہ عالمی برادری میں ایک ذمہ داراور امن پسند ریاست کے طورپر حیثیت مزید مستحکم بناناآسان ہوگا۔ یہ تشخص اور ساکھ بہتر بنانے کے
مواقع ضائع کرنا کسی طورملک کے مفاد میں نہیں پھربھی سعودیہ سے تعاون پر کوئی حلقہ انتشار یا افراتفری کا باعث بننے کی کوشش کرتا ہے تو
اُسے کچلنا ہی صائب فیصلہ ہوگا ۔
پاکستان کا سعودیہ سے دفاعی تعاون باعثِ تعجب نہیں۔ آجکل دنیابھرمیں دفاعی تعاون سے معیشت سنوارنے کا کام لیا جارہا ہے۔ حال
ہی میں برطانیہ پیشکش کرچکا کہ تجارت کے بدلے وہ یورپ کوجوہری چھتری کا تحفظ دے سکتا ہے۔ پاکستانی قیادت کابھی سعودی عرب کی
سمندری تجارت محفوظ بنانے میں تعاون کا فیصلہ حالات کے مطابق ہے ۔اِس فیصلے سے پاکستان کو عرب ممالک سے معاشی فوائد مل سکتے
ہیں اور یہ جوملک میں نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے، اُسے روزگاردلایاجاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان دفاعی مصنوعات سے زرِ
مبادلہ کے ذخائر مستحکم بناسکتا ہے۔ لہٰذا ملک میں جو لوگ ہر معاملے میں بیرونی مفاد کاتحفظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،اُنھیں لگام ڈالنے کا
نتیجہ خیزطریقہ کاربناکر عمل کرنا ہوگا تاکہ قیادت کو ملکی مفاد میں فیصلے کرتے ہوئے تنقیدیا بلیک میلنگ کا سامنا نہ ہو۔
تیل کی سپلائی کا عالمی بحران دستک دینے لگاکیونکہ عالمی طلب ورسد میں پچاس لاکھ بیرل کا فرق آگیاہے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ، روسی
ریفائنری نقصانات اور امریکی خام تیل کے ذخائرمیں ہونے والی کمی ایسے دھچکے ہیں جس سے ڈیزل اور جیٹ فیول کی قلت کا خطرہ ہے۔
اِن حالات میں بحری تجارت کو محفوظ بنانے میں پاکستان کا سعود یہ سے تعاون کا فیصلہ عالمی مفادمیں بھی ہے۔
٭٭٭


