سندھ بلڈنگ میں’پٹہ سسٹم‘ کی واپسی، ہفتہ وار ٹھیکہ طے
شیئر کریں
لیاقت آباد کا پٹہ سسٹم بیٹر کامران مرزا کے سپرد، نمائشی انہدامی کارروائیاں تیز
پلاٹ نمبر 1/220اور 4/589پر خلاف ضابطہ عمارتیں محفوظ، جوڑ توڑ پر رعایت
غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کے لیے قائم سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران قومی خزانے سے بھاری تنخواہیں اور مراعات حاصل کرنے کے باوجود شہر بھر میں جاری خلاف ضابطہ تعمیراتی سرگرمیوں پر مؤثر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض افسران کی مبینہ سرپرستی اور ملی بھگت کے نتیجے میں ایک بار پھر ’’پٹہ سسٹم‘‘ فعال ہو چکا ہے ۔باخبر ذرائع کے مطابق لیاقت آباد کا مبینہ پٹہ سسٹم 15لاکھ روپے ہفتہ وار کے عوض ماضی میں بھی اس نظام کو چلانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے والے بیٹر کامران مرزا کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقررہ مالی ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے مختلف علاقوں میں نمائشی انہدامی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کا تاثر برقرار رکھا جا سکے ۔ذرائع کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے نام پر مخصوص عمارتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، جبکہ مبینہ طور پر مالی معاملات طے کرنے والے تعمیراتی عناصر اور بااثر شخصیات کی عمارتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ اسی مبینہ امتیازی رویے کے باعث متعدد متنازع تعمیرات بلا رکاوٹ جاری ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سرکاری طور پر تعینات متعلقہ افسران مبینہ طور پر نجی بیٹرز کی ٹیموں کے ہمراہ انہدامی کارروائیوں میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں، جس سے ادارے کی شفافیت، غیر جانبداری اور کارکردگی پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق کارروائیوں کا معیار تمام شہریوں کے لیے یکساں نہیں رکھا جا رہا بلکہ مبینہ طور پر جوڑ توڑ اور مالی مفادات رکھنے والوں کو خصوصی رعایت دی جا رہی ہے ۔ زمینی حقائق کے مطابق پلاٹ نمبر 1/220اور 4/589پر قائم خلاف ضابطہ عمارتوں کو محفوظ رکھا گیا ہے ، جبکہ دیگر تعمیرات کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ پٹہ سسٹم، اس سے جڑے مالی معاملات اور ملوث عناصر کے کردار کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔خبر میں شامل تمام الزامات اور دعوے علاقہ مکینوں اور ذرائع سے منسوب ہیں۔ متعلقہ افسران یا ادارے کا مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی شاملِ اشاعت کیا جائے گا۔


