قومی قرضوں کا بوجھ اور ہماری نسلوں کا مستقبل
شیئر کریں
محمد آصف
ملک کے مجموعی قرضے 97 ہزار 307 ارب روپے تک پہنچ جانے کی خبر صرف ایک معاشی اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو ہر محبِ وطن شہری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے ۔ یہ قرضے محض حکومتوں کی کتابوں میں درج ہندسے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی گردنوں پر لدا ہوا ایک ایسا بوجھ ہیں جسے انہیں اپنی محنت، قربانیوں اور محدود وسائل کے ذریعے ادا کرنا ہوگا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ قرضوں کے اس پہاڑ کے باوجود ہماری سیاسی ترجیحات، قومی شعور اور اجتماعی سوچ میں وہ سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی جواس سنگین مسئلے کا تقاضا کرتی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ قرض لینا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں ہوتا۔ دنیا کے کئی ممالک ترقیاتی منصوبوں، انفراسٹرکچر کی تعمیر، صنعتوں کے قیام اور معاشی استحکام کے لیے قرض حاصل کرتے ہیں، لیکن جب قرضے پیداواری سرگرمیوں کے بجائے حکومتی اخراجات، سیاسی مفادات، عیاشیوں اور بدانتظامی کی نذر ہو جائیں تو وہ قرض ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ تباہی کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی دہائیوں سے یہی المیہ دہرایا جا رہا ہے ۔ ہر آنے والی حکومت سابقہ حکومت پر قرضوں کا الزام لگاتی ہے لیکن اقتدار ملنے کے بعد خود بھی اسی راستے پر چل نکلتی ہے ۔
قومی قرضوں میں مسلسل اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات نے ریاستی وسائل کو امانت سمجھنے کے بجائے اکثر ذاتی جاگیر تصور کیا۔ حکومتی اخراجات میں کمی کے بجائے شاہانہ طرزِ زندگی کو ترجیح دی گئی، سرکاری اداروں کی اصلاح کے بجائے انہیں سیاسی مداخلت کا شکار بنایا گیا، اور قومی دولت کو عوامی فلاح کے بجائے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی آمدن سے
زیادہ اخراجات ہونے لگے اور خسارے پورے کرنے کے لیے قرضوں پر انحصار بڑھتا چلا گیا۔اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قرضوں کا اصل بوجھ ان لوگوں پر پڑتا ہے جنہوں نے نہ قرض لیا ہوتا ہے اور نہ اس کے غلط استعمال میں کوئی کردار ادا کیا ہوتا ہے ۔ ایک عام مزدور، کسان، طالب علم، سرکاری ملازم اور متوسط طبقے کا فرد مہنگائی، ٹیکسوں اور معاشی مشکلات کی صورت میں اس قرض کا خمیازہ بھگتتا ہے ۔ جب حکومت قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے ٹیکس لگاتی ہے ، بجلی، گیس اور پٹرول مہنگا کرتی ہے یا ترقیاتی منصوبوں میں کمی کرتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے ۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ قرضوں کا یہ بوجھ صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہے گا۔ آج جو بچے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو نوجوان روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور جو آنے والی نسلیں ابھی دنیا میں بھی نہیں آئیں، انہیں بھی ان قرضوں کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ قومی قرضوں کا مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور قومی ذمہ داری کا مسئلہ بھی ہے ۔ کسی بھی قوم کو یہ حق حاصل نہیں
کہ وہ اپنی عارضی سیاسی مصلحتوں یا حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا بوجھ آنے والی نسلوں پر منتقل کر دے ۔
بدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں شخصیت پرستی نے قومی مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے ۔ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں سے محبت یا وابستگی ایک حد تک فطری بات ہے ، لیکن جب یہ وابستگی اندھی عقیدت میں تبدیل ہو جائے تو قوموں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے ۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ اپنے پسندیدہ رہنما کی ہر پالیسی، ہر فیصلے اور ہر ناکامی کا دفاع کرنے لگتے ہیں، خواہ اس کا نقصان پورے ملک کو ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے ۔ سیاسی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ رہنماؤں کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جائے ، نہ کہ نعروں، جذباتی تقریروں یا شخصی وابستگیوں کی بنیاد پر۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے بہت سے بااثر افراد اپنے مستقبل کے حوالے سے عام شہریوں جیسی فکر نہیں رکھتے ۔ ان کے پاس بیرونِ ملک جائیدادیں، کاروبار، بینک اکاؤنٹس اور شہریت کے متبادل راستے موجود ہوتے ہیں۔ اگر ملک میں معاشی یا سیاسی بحران پیدا ہو جائے تو وہ نسبتاً آسانی سے اپنے اور اپنی اولاد کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس عام شہری کا مستقبل اسی سرزمین سے وابستہ ہوتا ہے ۔ اس کے پاس نہ کوئی دوسرا وطن ہوتا ہے اور نہ ہی بیرونِ ملک منتقل ہونے کے وسائل۔اسی لیے سب سے زیادہ فکر بھی اسی کو ہونی چاہیے ۔
قوموں کی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عوام اپنے سیاسی فیصلے جذبات کے بجائے شعور کی بنیاد پر کریں۔ ووٹ ایک امانت ہے اور اس کا استعمال ذاتی تعلقات، لسانی وابستگیوں، خاندانی روایتوں یا وقتی نعروں کے بجائے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے ۔ جو سیاسی قوت بھی اقتدار میں آئے ، اس سے یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ اس نے قومی قرضوں میں کمی کے لیے کیا منصوبہ بنایا ہے ، ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں، قومی وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی ہے اور عوامی فلاح کے لیے کیا عملی نتائج دیے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ہر خرابی کا ذمہ دار صرف حکمرانوں کو قرار دے کر خود کو بری الذمہ نہ سمجھیں۔ بحیثیت قوم ہمیں بھی اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ کرپشن، سفارش، ٹیکس چوری، قانون شکنی اور قومی وسائل کے ضیاع میں معاشرے کے مختلف طبقات کسی نہ کسی حد تک شریک رہے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں اجتماعی طور پر دیانت داری، محنت، قانون کی پاسداری اور قومی ذمہ داری کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔
میڈیا، تعلیمی اداروں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں سیاسی شعور اور معاشی آگاہی پیدا کریں۔ قوموں کی تقدیر صرف انتخابات کے دن نہیں بدلتی بلکہ مسلسل فکری تربیت، احتساب کے مطالبے اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے سے بدلتی ہے ۔ جب عوام سوال پوچھنا سیکھ جائیں،کارکردگی کا مطالبہ کریں اور جذباتی نعروں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے کریں تو سیاسی قیادت بھی
اپنے طرزِ عمل کو بدلنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔
پاکستان بے شمار وسائل، باصلاحیت افرادی قوت اور روشن امکانات کا حامل ملک ہے ۔ ہماری زرخیز زمینیں،نوجوان آبادی، معدنی ذخائر اور جغرافیائی اہمیت ہمیں ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ قومی وسائل کے درست استعمال کیلئے ایماندار مخلص محب وطن اور غیرت مند قیادت جو خوف خدا اور رسول پاک ۖ کا سچا عاشق امت کا درد رکھنے والا وفا شعار اقبال کا مردِ مومن ، قرضوں پر انحصار کم کیا جائے ، اداروں کو مضبوط بنایا جائے اور قومی ترجیحات کو ذاتی و سیاسی مفادات پر فوقیت دی جائے ۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شخصیت پرستی، اندھی سیاسی وابستگیوں اور وقتی نعروں سے بالاتر ہو کر ملک اور قوم کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں۔ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ایک خطرے کی گھنٹی ہے جسے نظر انداز کرنا آنے والی نسلوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اگر ہم واقعی اپنی اولادوں کے بہتر مستقبل، قومی خودمختاری اور پاکستان کی معاشی سلامتی کے خواہاں ہیں تو ہمیں جذبات کے بجائے شعور، نعروں کے بجائے کارکردگی، اور شخصیات کے بجائے اصولوں کو ترجیح دینا ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں قرضوں کے جال سے نکال کر ایک مضبوط، خوددار اور خوشحال پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے ۔


