میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ڈپٹی کمشنر دادو کی جانب سے سندھ کابینہ کے احکامات نظرانداز

ڈپٹی کمشنر دادو کی جانب سے سندھ کابینہ کے احکامات نظرانداز

ویب ڈیسک
پیر, ۱ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

محکمۂ تعلیم کے 242لوئر اسٹاف کی بھرتیاں تعطل کا شکار، امیدواروں میں شدید مایوسی
سیاسی شخصیات بھی ملازمتوں میں حصے کے لیے سرگرم،فہرست میں ردوبدل کا منصوبہ

(رپورٹ:عبدالغفور سروہی) ڈپٹی کمشنر دادو نے سندھ کابینہ اور عدالتی احکامات کو نظرانداز کر دیا، محکمۂ تعلیم کے 242لوئر اسٹاف کی بھرتیاں تعطل کا شکار ہو گئیں۔ سندھ کابینہ نے دسمبر 2025کے اجلاس میں 2023میں بھرتی کیے گئے لوئر اسٹاف کو 30جون 2026 تک آفر آرڈرز جاری کرنے کا عمل مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے میرپورخاص اور سکھر بینچ بھی سندھ کابینہ کے فیصلے کے مطابق لوئر اسٹاف کو جوائننگ دینے کے احکامات جاری کر چکے ہیں۔اس کے بعد سندھ کے دیگر اضلاع کی طرح ڈپٹی کمشنر دادو نے بھی دیگر محکموں کے لوئر اسٹاف کی تقرریوں کا حکم دیا، تاہم محکمۂ تعلیم کے لوئر اسٹاف کی تقرریاں روک دی گئیں، جس کے باعث امیدواروں میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق کامیاب امیدواروں کی فہرست جاری ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر دادو نے تقرریوں کا عمل روک دیا کیونکہ مبینہ طور پر فہرست میں ردوبدل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ دوسری جانب متاثرہ امیدواروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بعض سیاسی شخصیات بھی ملازمتوں میں اپنا حصہ چاہتی ہیں، لیکن فہرست جاری ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر کے لیے دیگر افراد کو شامل کرنا مشکل ہو گیا، جس کی سزا ہمیں دی جا رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سراسر ناانصافی ہے ۔متاثرہ امیدواروں نے انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر 30 جون تک جوائننگ آرڈرز جاری نہ کیے گئے تو وہ ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے ۔دوسری جانب اس معاملے پر ڈپٹی کمشنر دادو مرتضیٰ شاہ کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے فون کالز اور ایس ایم ایس پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں