امریکا نے ایران پر حملے کیلئے فضائی حدود نہیں مانگی، پاکستان
شیئر کریں
امریکا کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر سمجھوتہ نہیں کرے گا،ہفتہ وار بریفنگ
پاکستان نے ایران پر ممکنہ حملے کیلئے امریکا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا ہے۔اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا اور نہ ہی پاکستان کو اس حوالے سے کسی قسم کی درخواست دی گئی ہے۔سندھ طاس معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اس معاملے پر تمام قانونی اور سفارتی راستے اختیار کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن کا حالیہ ایوارڈ بھارت کے مغربی دریاں پر آبی کنٹرول کی حدود کو واضح کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی کی کوئی شق موجود نہیں جبکہ رن آف دی ریور منصوبوں کو بھارتی مفروضات کی بنیاد پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستان عالمی عدالت کے فیصلے کو اطمینان بخش سمجھتا ہے۔بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف 23سے 26مئی تک چین کادورہ کریں گے جہاں وہ اعلیٰ چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی بے دخلی سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے گردش کرنے والے اعداد و شمار مبالغہ آمیز اور بے بنیاد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے صورتحال کو درست تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ترجمان نے بھارتی میڈیا میں پاکستانی پنکھے کی دریافت سے متعلق خبروں پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات پاکستانی کبوتر جیسی پرانی اور دقیانوسی کہانیوں سے مختلف نہیں۔


