ایرانی افزودہ یورینیم کا مستقبل، امریکا کو روس چین مذاکرات کھٹکنے لگے
شیئر کریں
ایران کا افزودہ یورینیم امریکا کیساتھ کسی بھی امن معاہدے میں سب سے اہم مسئلہ ہے
ایران کے پاس موجود 441 کلوگرام یورینیم 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے،جوئی ہڈ
امریکا کے محکمہ خارجہ میں ایرانی امور کے سابق قائم مقام سربراہ جوئی ہڈ نے کہا ہے کہ ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم امریکا کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے میں سب سے اہم مسئلہ ہے، جبکہ ایرانی افزودہ یورینیم محفوظ بنانے پر روس اور چین میں اتفاق ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس موجود 441 کلوگرام یورینیم 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے، جو عام شہری مقاصد کے لیے نہیں بلکہ صرف فوجی استعمال کے لیے موزوں ہے، روس اور چین بھی بالآخر اس بات پر متفق ہوں گے کہ ایران کے یورینیم کو محفوظ اور محفوظ طریقے سے ذخیرہ کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے حالیہ ملاقاتوں میں ممکنہ طور پر ایران کے یورینیم کے تحفظ اور ذخیرہ کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت کی ہوگی۔سابق امریکی عہدیدار کے مطابق ممکن ہے کہ بیجنگ میں اس حساس معاملے پر خاموش سفارتی مذاکرات ہوئے ہوں اور شاید چینی حکام ایرانی قیادت سے بھی رابطے میں ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس معاملے سے متعلق مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔یہ پیش رفت خطے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم کرنے اور بین الاقوامی اعتماد سازی کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔


