بن احسن بلڈرز کا کراچی کے شہریوں کو دھوکا
شیئر کریں
رہائشی منصوبہ کے لئے 21ایکڑ زمین پر اجازت ، 50سے زائد ایکڑ پر منصوبہ پھیلادیا
دھوکہ دہی کے مرتکب مالکان فیصل اور فہد احسن نے عوام سے کرڑوں روپے اینٹھ لیے
بن احسن بلڈرز اینڈ ڈیولپرز نے کراچی کے شہریوں کو ماموں بنا دیا۔رہائشی اسکیم کراچی کی بتاکر جامشورو میں چلائی جانے لگی۔ ایم نائن موٹروے سے منسلک رہائشی منصوبہ بن احسن ہاؤسنگ اسکیم کے نام نہاد اور دھوکہ دہی کے مرتکب مالکان فیصل اور فہد احسن نے شہریوں سے کرڑوں روپے اینٹھ لیے ۔دوسال میں ڈیولپمنٹ کرنے کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا۔تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود شہریوں کو رہائشی منصوبہ میں بنیادی سہولتیں نہ مل سکیں۔رہائشی منصوبہ کے لئے 21ایکڑ زمین پر اجازت نامہ حاصل کرکے 50سے زائد ایکڑ زمین پر منصوبہ پھیلادیا۔رہائشی اسکیم کے لئے حاصل زمین کے کھاتے بھی مشکوک بتائے جاتے ہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور محکمہ ریونیو جامشورو کی ملی بھگت سے رہائشی اسکیم میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آگئیں۔تفصیلات کے مطابق بن احسن بلڈر اینڈ ڈیولپرز کے رہائشی منصوبہ بن احسن گرین سٹی کے اونر فہد اور فیصل احسن نے کراچی کے شہریوں رہائشی اسکیم کراچی کی بتاکر سادہ لوح افراد کو ماموں بنا دیا ہے جبکہ رہائشی منصوبہ جامشورو کے علاقہ نوری آباد کے قریب واقع ہے جس کے لئے 2019میں سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے 10ایکڑ 27گھنٹہ رقبہ کے لئے لے آوٹ پلان منظوری کے لئے پیش کیا تھا جس پر ادارے نے اجازت نامہ جاری کیا تھا جس کے بعد دوبارہ 2021میں 11ایکڑ زمین کا لے آؤٹ پلان پاس کرانے کے بعد اجازت نامہ حاصل کیا تھا۔ذرائع کا دعویٰ کا ہے بن احسن بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کا اجازت نامہ تین سال کے لئے تھا جوکہ مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہوجاتا ہے جب تک اس کی دوبارہ تجدید نہ کرائی جائے ۔رہائشی منصوبہ 21ایکڑ کے لئے اجازت نامہ حاصل کرکے 50سے زائد ایکڑ زمین پر پلاٹوں کی فروخت جارہی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بن احسن گرین سٹی اور بن احسن گرین سٹی فیز 1میں درجنوں شہریوں سے رہائشی و کمرشل پلاٹوں کے عوض کروڑوں روپے اینٹھ لیے گئے ہیں۔احسن بلڈرز اینڈ ڈیولپرز نے رہائشی منصوبہ میں ڈیولپمنٹ کے کام دو سال کے قلیل مدت میں پورے کرنے کا دعویٰ کیا تھا جوکہ جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود رہائشی منصوبہ میں ڈیولپمنٹ کے کام نامکمل بتائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے شہری بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے بن احسن بلڈرز کے اونرز نے سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور محکمہ ریونیو کے ساتھ ملی بھگت کرکے رہائشی منصوبہ کو شروع کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائشی منصوبہ کے لئے زمین کے کھاتے بھی مشکوک بتائے جاتے ہیں جوکہ محکمہ ریونیو جامشوروکی ملی بھگت سے حاصل کیے گئے ہیں جبکہ ایس ڈی اے کے جانب سے اس وقت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جبارسیال جو کہ نان ٹیکنیکل ملازم تھا جس نے مبینہ بھاری رشوت لیکر اجازت نامہ جاری کیا تھا اسی طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران نے بھی بے قاعدگیوں کے باوجود رہائشی منصوبہ پر مجرمانہ چشم پوشی اختیار کرلی۔جس وجہ سے 21ایکڑ کے اجازت نامہ پر 50ایکڑ سے زائد رقبہ پر پلاٹوں کی فروخت کی جاتی رہی۔اس حوالے سے سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران نے رابطہ کرنے پر موقوف دینے سے انکار کردیا ہے۔ شہریوں نے جرأت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلڈرز مافیا نے کراچی کے عوام کو لوٹنے کا نیا طریقہ ایجاد کرلیا ہے ۔ایم نائن موٹروے بحریہ ٹاون کے قریب زمین پر رہائشی اسکیم کے گیٹ تعمیر کرکے خوب تشہیر کی جاتی ہے جب شہری پلاٹ بک کرالیتے ہیں اور اپنی زندگی بھر کا سرمایہ آشیانہ بنانے پر لگادیتے ہیں مگر سالوں گزرنے کے باوجود رہائشی منصوبہ تعطل کا شکار رہتا ہے ۔سندھ حکومت فوری ان اسکیموں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے تاکہ شہریوں کا سرمایہ ڈوبنے سے بچ سکے ۔(نمائندہ جرأت)


