سندھ بلڈنگ حیدرآباد میںتعمیراتی لاقانونیت کا راج
شیئر کریں
اورنگزیب رضی ، ڈپٹی ڈائریکٹر کی کرسی پر،گریڈ 18کے افسران دیوار سے لگا دیے گئے
لطیف آباد یونٹ نمبر 8میں مرکزی جامعہ مسجد کے سامنے زیر تعمیر پلازہ پر سوالیہ نشان
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی حیدرآباد ایک بار پھر مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی تعمیرات کے سنگین الزامات کی زد میں ہے ۔ ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کو مبینہ طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر کی طاقتور سیٹ پر بٹھا کر ادارے کے حساس ترین معاملات ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں، جبکہ گریڈ 18 کے سینئر اور تجربہ کار افسران کو مکمل طور پر نظر انداز کیے جانے کی اطلاعات ہے ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اندر بعض اہم فائلوں، نقشہ جات کی منظوریوں اور تعمیراتی معاملات میںساجد قائم خانی کی مبینہ پشت پناہی اور سہولت کاری بھی کھلے عام زیر بحث ہے ۔ شہری حلقوں کے مطابق مخصوص بلڈرز اور بااثر افراد کو غیر معمولی رعایتیں دی جا رہی ہیں، جبکہ میرٹ اور قانون کو پس پشت ڈال کر اہم فائلیں خاص راستوں سے کلیئر کرائی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق لطیف آباد یونٹ نمبر 8مرکزی جامعہ مسجد کے سامنے زیر تعمیر پلازہ بھی اس وقت شہریوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مذکورہ پلازہ کی منظوری، نقشہ جات اور تعمیراتی مراحل میں مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ بعض حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس پلازہ کی منظوری کے لیے مبینہ طور پر نوٹوں کی گڈیاں چلائی گئیں، جس کے باعث ادارے کے اندر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات، نقشہ جات کی منظوری اور حساس فائلوں کی پراسیسنگ میں اورنگزیب رضی کا کردار انتہائی مضبوط تصور کیا جا رہا ہے ، جبکہ ادارے کے کئی افسران خاموشی سے اس صورتحال پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا ناسور مزید پھیل سکتا ہے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ساکھ مکمل طور پر تباہ ہو سکتی ہے ۔شہری تنظیموں، سماجی حلقوں اور بلڈنگ شعبے سے وابستہ افراد نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو، چیف سیکریٹری سندھ اور اینٹی کرپشن اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے میں جاری مبینہ کرپشن، غیر قانونی تعمیرات، اختیارات کے غلط استعمال اور مشکوک منظوریوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہر میں قانون اور میرٹ کی بالادستی قائم ہو سکے ۔(نمائندہ جرأت)


