اسرائیل کی مکروہ چال
شیئر کریں
جاوید محمود
۔۔۔۔۔
امریکہ سے
المیہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاو کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کے مکروہ کردار کی وجہ سے امریکہ ایران جنگ میں کشیدگی پیدا ہو رہی ہے اسرائیل نہیں چاہتا کہ یہ جنگ بند ہو کیونکہ اس کی پیچھے اس کا یہ ایجنڈا ہے کہ گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار ہوتی رہے۔ بھارت بھی اس میں اپنا منفی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے آپس میں قریبی تعلقات ہیں۔ تصور کریں امارتی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران نتن یاہو کے یو اے ای کے دورے سے متعلق رپورٹس درست نہیں ہیں جبکہ نتن یاہو کے آفس سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم اور امارتی صدر شیخ محمد بن زید کے درمیان ہونے والی اس ملاقات سے ایک تاریخی پیش رفت حاصل ہوئی ہے ۔اسرائیلی وزیراعظم کے آفس سے دورہ یو اے ای کی خبر کی تصدیق پر رد عمل دیتے ہوئے ایران کے وزیراعظم عباس عراقچی نے کہا کہ نتین یاہو نے سر عام وہ بات ظاہر کر دی ہے جس سے ایران کی سیکورٹی سروسز پہلی ہی ملک کی قیادت کو آگاہ کر چکی تھی۔ عراقچی نے سخت الفاظ میں لکھے گئے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ عظیم ایرانی قوم کے ساتھ دشمنی احمقا نہ جوا ہے اور اور اس راستے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابل معافی ہے جو عناصر اسرائیل کے ساتھ مل کر تفرقہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں جواب دے ہونا پڑے گا عراقچی کے ان بیانات کو متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے لیے ایک واضح پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ تنازع کے دوران ایران نے امارات میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تھا جبکہ تہران مسلسل اس بات پر امارات پر تنقید کرتا رہا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے دوران نتن یاہو اور عمارتی صدر کے درمیان ملاقات العین شہر میں ہوئی تھی جو عمان کی سرحد کے قریب واقع ایک نخلستانی شہر ہے اور یہ ملاقات کئی گھنٹوں جاری رہی۔ یہ خبریں بھی حالیہ دنوں میں ذرائع ابلاغ پر شائع ہوتی رہی ہیں کہ ایرانی حملوں سے بچنے کے لیے اسرائیل نے اپنا آئرن ڈوم سسٹم امارات میں نصب کیا جبکہ یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ یواے ای کی جانب سے ایران میں موجود اہداف پر حملے بھی کیے گئے ۔اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائک یکنی نے آئرن ڈوم سے متعلق خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے اپنے آئرن ڈوم دفاعی نظام کی اینٹی میزائل بیٹریاں امارات کو فراہم کی تاکہ وہ ایرانی حملوں کا مقابلہ کر سکے ۔آئرن ڈوم ایک جدید اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ہے جو مختلف اقسام کے میزائلوں راکٹوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔مائک یقنی نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ نے ان تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے اور عسکری اتحاد کو بھی فروغ دیا ہے ۔اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایران پر اسرائیل و امریکہ حملے سے قبل دوران بعد میں تعاون سے متعلق حالیہ انکشافات کے بعد اس بات پر کافی بحث کی جا رہی ہے کہ آیا ایران کی جانب جنگ کے دوران اہداف کا انتخاب درست تھا یا نہیں ۔اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ بھی ہے کہ اب آگے کیا ہو سکتا ہے۔ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو بیانیہ اس انداز میں مرتب ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کے مرکزی کردار کو نمایاں کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ جنگ کے دوران ایران نے امارات پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے تھے اور امارتی حکام کے مطابق ان میں سے بیشتر کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ چند مقامات پر ملبہ گرنے سے کچھ ہلاکتیں بھی ہوئی تھی۔ تھنک ٹینک کونسی انسٹیٹیوٹ کے نائب صدر ٹریٹا پارسی نے ایکس پر لکھا کہ اب ثابت ہو رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ابراہم معاہدوں میں شامل ہونا ایک بہت بڑی غلطی تھی کیونکہ اس کا بنیادی مقصد ایران کے خلاف ایک عرب اسرائیلی اتحاد تشکیل دینا تھا۔ اب اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں اس معاہدے کا یہ بنیادی مقصد بالکل واضح ہو چکا ہے ۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ یہ امارات کی غلطی اس لیے تھی کیونکہ اس کے نتیجے میں اس نے خود کو اسرائیل کے ایران کے ساتھ دشمنی کے ساتھ جوڑ لیا جو کہ امارات اور تہران کے درمیان کشیدگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہری ہے۔ حالانکہ جغرافیائی طور پر امارات ایران کے بالکل قریب ہے جبکہ اسرائیل تقریبا ایک ہزار کلومیٹر دور واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم ابوظبی اس صورتحال میں پھنس چکا ہے اور کسی حد پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ یا ایک مقصد خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو مجبور کرنا تھا کہ وہ ایران سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کے مزید قریب ہو جائیں اور شاید اسی تناظر میں
جنگ کے دوران نتن یاہو نے خفیہ طور پر ابوظبی کا دورہ کیا اور امارات کو آئرن ڈوم دفاعی نظام کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اسرائیل اس پیشرفت کو اپنے دو طرفہ تعلقات میں ایک بڑی کامیابی قرار دیتا ہے۔ حقیقت میں یہ اس جال کا عملی اظہار ہے جس میں ابراہیم معاہدے امارات کو جکڑ چکے ہیں۔ اسرائیل کی مکرو ہ چال نے مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا۔
٭٭٭


