مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ
شیئر کریں
عالمی حالات کو جواز بناکر مہنگائی، عام آدمی 2 وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا، سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،22 مئی کو ملکگیرمہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک شروعہوگی
حکمران امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے،مسلح گروہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، حکومت اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں چل رہی ہے،میٹ دی پریس
(رپورٹ:افتخارچوہدری) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک میں دوبارہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں،پاکستان اس وقت شدید سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، جبکہ حکمران عوامی مسائل، امن و امان اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے اور مسلح گروہ فوجی تنصیبات تک کو نشانہ بنا رہے ہیں،موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں چل رہی ہے جبکہ سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،۔یہ بات انہوں نے پیرکوکراچی پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال، جمہوریت، آئین، سویلین بالادستی، امن و امان اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں بدامنی عروج پر ہے اور خصوصا بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں صورتحال تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں علیحدگی کی باتیں ہو رہی ہیں تو کہیں بزورِ شمشیر شریعت نافذ کرنے کے نعرے لگ رہے ہیں، جبکہ دیہی سندھ میں ڈاکوں کا راج قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمران طبقات نہ امن و امان کے قیام میں سنجیدہ ہیں اور نہ ہی عوامی معاشی مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے بقول عام آدمی اپنی محنت کی کمائی سے بچوں کی تعلیم اور دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے سے بھی قاصر ہو چکا ہے، جبکہ مہنگائی کے بوجھ تلے عوام کو مسلسل دبایا جا رہا ہے۔جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ بین الاقوامی حالات کو جواز بنا کر عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدارا اس روش سے باز آجائیں اور ریاستی اداروں کو اتنا مضبوط نہ بنایا جائے کہ پارلیمنٹ بے معنی ہو کر رہ جائے۔مولانا فضل الرحمان نے 2018 اور 2024 کے عام انتخابات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوامی رائے کو تبدیل کیا گیا اور مرضی کی حکومتیں قائم کرنے کے لیے نتائج کو عوامی خواہشات کے برعکس بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ آئین ایک قومی میثاق ہے اور اس کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اگر آئین کمزور ہو جائے تو ملک میں سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ پارلیمنٹ حقیقی معنوں میں قوم کی نمائندہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے اور مسلح گروہ فوجی تنصیبات تک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ جمعیت علما اسلام نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور عالمی رہنمائوں کی آمد کے باعث احتجاج موخر کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ضد کی سیاست نہیں کرنا چاہتی بلکہ ریاستی وقار اور قومی استحکام کو مقدم سمجھتی ہے۔ ان کے بقول پارٹی ملک میں سیاسی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا بھر میں جمہوریت کمزور دکھائی دے رہی ہے اور طاقتور ممالک کمزور ریاستوں میں مداخلت کرتے ہیں، خصوصا ان ممالک میں جہاں معدنی وسائل موجود ہوں۔28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا، تاہم تمام معاملات آئین اور جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے مذاکرات سے حل ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین آمروں کی مداخلت کے باعث متاثر ہوا، تاہم 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین کو اصل شکل میں بحال کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ (ن)اور ایم کیو ایم نے بھی کردار ادا کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اتفاق رائے کو کمزور سمجھنا ملک کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے سویلین بالادستی کے لیے جدوجہد کی، لیکن آج وہی عناصر اس کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔انہوں نے سابق فوجی ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایوب خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں ملک کو نقصان پہنچا اور آئین میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔جے یو آئی سربراہ نے شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دوبارہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں چل رہی ہے، جبکہ سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا۔


