انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا
شیئر کریں
تفتیشی افسر پر تشدد، دھمکیوں اور زبردستی مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دبائو ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے
میڈیا نمائندوں کے کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی ،صحافیوں کو دھکیل کر ملزمہ کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش
منشیات اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر ایک بار پھر شور شرابہ کرتے ہوئے پولیس پر تشدد، دھمکیوں اور زبردستی مخصوص افراد کے نام لینے کے لیے دبائو ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے۔پولیس کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے باعث ملزمہ کو سخت حفاظتی حصار میں بغدادی تھانے سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کیا گیا،جہاں اسے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔ پیشی کے دوران پولیس نے ملزمہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جبکہ میڈیا نمائندوں اور عام افراد کے کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی۔جوڈیشل کمپلیکس پہنچتے ہی انمول عرف پنکی نے میڈیا کو دیکھ کر شور شرابہ شروع کردیا۔ اس دوران پولیس اہلکاروں نے صحافیوں کو دھکیل کر ملزمہ کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش کی، جبکہ ملزمہ کے بولتے ہی اہلکاروں نے شور مچا کر اس کی آواز دبانے کی کوشش بھی کی۔کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ملزمہ نے الزام لگایا کہ اسے دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور عدالت لاتے ہوئے تفتیشی افسر نے اسے تھپڑ بھی مارا۔ پنکی نے دعوی کیا کہ پولیس اس پر دبائو ڈال رہی ہے کہ وہ منیب بٹ اور راجہ پرویز سمیت بعض اہم افراد کے نام لے۔ملزمہ نے اپنے وکیل سے مکالمے کے دوران کہا کہ اسے گزشتہ بیس روز سے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے اور مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس موقع پر وکیل لیاقت گبول نے ملزمہ کی جانب سے عدالت میں وکالت نامہ بھی جمع کرایا۔سماعت کے آغاز پر جج کے استفسار پر ملزمہ نے اپنا نام انمول بتایا، جبکہ تفتیشی افسر نے عدالت کو موقف دیا کہ ملزمہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہے اور مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے۔عدالتی کارروائی کے دوران سیکیورٹی انتہائی سخت رکھی گئی اور بعد ازاں میڈیا نمائندوں اور عام افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکال کر سماعت بند کمرے میں جاری رکھی گئی۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی انمول عرف پنکی عدالت میں پیشی کے دوران پولیس پر جھوٹے مقدمات قائم کرنے، سیاسی شخصیات کے نام لینے پر مجبور کرنے اور غیر قانونی حراست میں رکھنے جیسے الزامات عائد کرچکی ہے، جبکہ پولیس ان تمام دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو ایک منظم منشیات نیٹ ورک کی اہم کردار قرار دے رہی ہے۔


