میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
صوبائی حقوق کیلئے خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت متحد،وفاق کو سخت پیغام دے دیا

صوبائی حقوق کیلئے خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت متحد،وفاق کو سخت پیغام دے دیا

ویب ڈیسک
منگل, ۱۹ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ ظلم کر رہی ہے، آئین کے تحت خوراک کی اشیا کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی
گیس پیدا کرنیوالا صوبہ خود گیس سے محروم ہے، وزیراعلیٰ برس پڑے،سہیل آفریدی ،فیصل کریم کنڈی کی پریس کانفرنس

خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت صوبائی حقوق کے معاملے پر پہلی بار ایک پیج پر آگئی ،گندم کی ترسیل اور سی این جی کی بندش پر وفاق کو سخت پیغام دے دیا ۔خیبرپختونخوا اسمبلی کے قومی جرگہ ہال میں ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی ،گورنر خیبر پختونخوافیصل کریم کنڈی ،سپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی اور اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ شریک ہوئے ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے کہا کہ پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ ظلم کر رہی ہے اور آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت خوراک کی اشیا کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا غریب شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ ضرورت صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم نہیں کی جا رہی۔ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق گیس پیدا کرنے والے صوبے کی ضروریات پہلے پوری کی جانی چاہئیں۔وزیراعلی نے خبردار کیا کہ اگر خیبرپختونخوا کے عوام کو مزید دیوار سے لگایا گیا تو وہ کوئی بڑا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مختلف منصوبوں میں صوبے کے ساتھ غیر آئینی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ قبائلی اضلاع کے 12 ارب روپے بھی روک لیے گئے ہیں۔امن و امان کی صورتحال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ کور کمانڈر ہائوس اجلاس میں انہوں نے بدامنی کے خاتمے کیلئے تجاویز دی تھیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ان کا دعویٰ تھا کہ اگر مداخلت بند ہو جائے اور صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائی جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گندم کی ترسیل اور سی این جی کی بندش صوبے کے غریب عوام کیلئے سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے،وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ صوبے کے مسائل پر شہباز اسپیڈ سے کام کیا جائے۔گورنر نے کہا کہ وفاق کی جانب سے ایک طرف لاک ڈائون کیا گیا اور دوسری طرف سی این جی بند کر دی گئی، جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سی این جی کی بندش آئین کے آرٹیکل 151 اور 158 دونوں کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر صوبے کو پانی اور وسائل میں اس کا جائز حق دیا جائے تو گندم مانگنے کی نوبت نہ آئے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے پر مزید معاشی بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ وفاقی فیصلوں میں صوبے کی نمائندگی ضروری ہے اور خیبرپختونخوا کے حقوق کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں