کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا،شہری شدید مشکلات کا شکار
شیئر کریں
کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ بدانتظامی اور پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ گئے
سرکاری نرخ پر بک ہونیوالے آن لائن ٹینکرپانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، شہری
شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ کراچی واٹر کارپوریشن کے انتظامی امور، ہائیڈرنٹ نظام اور آن لائن ٹینکر سروس سے متعلق مبینہ بدانتظامی اور بے ضابطگیوں کے الزامات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ شہریوں کو بنیادی سہولت پانی کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق آن لائن ٹینکر سروس کے ذریعے پانی کی بکنگ کا نظام اکثر متاثر رہتا ہے، جہاں شہریوں کو کوٹہ ختم یا سسٹم کی بندش جیسے پیغامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں نے کہا کہ سرکاری نرخ پر بک ہونے والے ٹینکر یا تو تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں یا منسوخ کر دیے جاتے ہیں، جبکہ مبینہ طور پر یہی پانی بعد میں غیر سرکاری طور پر مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق لانڈھی فیوچر ہائیڈرنٹ پر بھی نظام کی شفافیت سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جہاں بعض عناصر کے طویل عرصے سے اثر و رسوخ کے ساتھ موجود ہونے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ تعیناتیوں اور ترقیوں میں میرٹ کے بجائے سفارشات اور اثر و رسوخ کا عمل دخل رہا ہے۔مزید الزامات کے مطابق ہائیڈرنٹ نظام اور سرکاری نگرانی کے میکنزم کو شہریوں کی بجائے تجارتی اداروں اور بااثر افراد کو پانی کی فراہمی کے لیے استعمال کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے باعث عام شہری پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ادارے کے اندرونی نظام میں بعض عناصر کے اثر و رسوخ کے باعث انتظامی فیصلوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جس سے پانی کی منصفانہ تقسیم متاثر ہو رہی ہے۔سی ای او کراچی واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی کو اس صورتحال میں ادارے کے انتظامی چیلنجز اور بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کا سامنا ہے۔شہری اور سماجی حلقوں نے حکومت سندھ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی فراہمی کے نظام کو شفاف بنایا جائے، مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جائیں اور شہریوں کو ان کا بنیادی حق بروقت اور منصفانہ انداز میں فراہم کیا جائے۔


