سندھ بلڈنگ میں کرپشن، افسران کی پراسرار خاموشی
شیئر کریں
رہائشی علاقوں میں غیرقانونی کمرشل تعمیرات جاری، افسران کی خاموشی سوالیہ نشان
اسسٹنٹ ڈائریکٹر اورنگزیب رضی ، سہولت کار ساجد قائم خانی پر شہریوں کے الزامات
حیدرآباد میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مبینہ نااہلی اور کرپشن کے باعث شہر بھر میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ بے قابو ہوتا جا رہا ہے ۔ روزانہ مختلف علاقوں سے رہائشی پلاٹس پر کمرشل تعمیرات، غیرقانونی دکانوں اور پلازوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، مگر متعلقہ افسران کی پراسرار خاموشی نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے ۔تازہ معاملہ لطیف آباد یونٹ نمبر 5 میں محبوب گراؤنڈ کے قریب واقع کارنر مکان کا سامنے آیا ہے جہاں رہائشی ایریا میں مبینہ طور پر کمرشل تعمیرات جاری ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق تعمیراتی کام دن رات جاری ہے لیکن سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ذمہ دار افسران کارروائی کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اورنگزیب رضی اور ان کے مبینہ سہولت کار ساجد قائم خانی غیرقانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، جس کے باعث شہر میں بلڈنگ مافیا مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مسلسل شکایات اور ثبوتوں کے باوجود کارروائی نہیں ہو رہی تو اس سے ادارے کی کارکردگی پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق لطیف آباد اور دیگر علاقوں میں متعدد رہائشی پلاٹس کو مبینہ طور پر کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ، جس سے نہ صرف شہری قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ ٹریفک، پارکنگ اور بنیادی سہولیات کے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔علاقہ مکینوں اور سماجی تنظیموں نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کمشنر حیدرآباد سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں جاری غیرقانونی تعمیرات اور مبینہ کرپشن کی فوری تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث افسران و عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر رہائشی علاقوں کو کمرشلائز کرنے کا سلسلہ نہ روکا گیا تو حیدرآباد کا شہری نظام مکمل طور پر تباہ ہو سکتا ہے۔


