میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
 امریکہ ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ!

 امریکہ ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ!

جرات ڈیسک
بدھ, ۱۳ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے سے متعلق ایران کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کو احمقانہ اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوچکی،

اب ایران کے ساتھ جنگ  بندی معاہدہ وینٹی لیٹرپر ہے جس کی زندگی کے چند گھنٹے ہی بچے ہیں۔یہ معاہدہ لائف سپورٹ پر ہے اور کسی بھی وقت ختم ہوسکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں کہوں گا کہ جنگ بندی معاہدہ آخری سانسیں لے رہا ہے، بالکل اسی طرح  جیسے ڈاکٹر آکر کہے کہ آپ کے عزیز کے زندہ بچنے کے امکانات صرف ایک فیصد رہ گئے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ  ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کئے جانے کے بعد امریکہ کی خفیہ اور حساس دفاعی اثاثہ سمجھی جانے والی جوہری صلاحیت کی حامل اوہائیو کلاس آبدوز جبرالٹر پہنچا دی گئی ہے۔

یہ امریکی یہ بیلسٹک میزائل آبدوز سمندر سے جوہری وارہیڈ لے جانے والے میزائل داغنے کی  صلاحیت رکھتی ہے اور اسے امریکی دفاعی نظام کا انتہائی خفیہ اور طاقتور ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔

اس آبدوز کو ‘بومر’ بھی کہا جاتاہے، اطلاعات کے مطابق ایران نے بھی اس کے جواب میں آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دی ہیں، جنہیں ‘‘چھپی محافظ’’ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان آبدوزوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ 2ٹارپیڈوز یا چین میں تیار کردہ 2 سی-704 اینٹی شپ کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت
رکھتی ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں بھیجی گئیں چھوٹی آبدوزوں کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی اور دفاعی صلاحیت کو  مضبوط بنانا ہے۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جنگ ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کیے جانے اور آبنائے ہرمز میں فوجی تیاریوں کے بعد ایک بار پھر غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے پیر کوبین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ ہفتے امن مذاکرات کی امیدوں پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 6 فیصد کمی دیکھی گئی تھی ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ
حملے شروع کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے ایک دفعہ پھر اپنا یہ دعویٰ دہرایا کہ امریکہ ایران میں 70 فیصد فوجی اہداف کو پہلے ہی نشانہ بنا چکا ہے
اور اگر ضرورت پڑی تو مزید 2ہفتوں تک دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران فوجی لحاظ سے شکست کھا چکا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صورت حال مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ایک غیر جانبدار صحافی شریل اٹکنسن کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔

امریکہ نے ایران میں اب تک تقریباً 70 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا ہے جب کہ مزید اہداف اب بھی موجود ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ایران کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے ٹرمپ کی ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی دھمکی پر ٹرمپ کو سختی کے ساتھ خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو حیران کن طریقوں سے جواب دیں گے اور جنگ ایسے میدان میں داخل ہوجائے گی، جس کا دشمن نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

ایرانی نیوز ایجنسی فارس نیوز کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیانے اپنے بیان میں کہا کہ اب کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے سے قبل ایران کے ساتھ اپنی سرگرمیوں سے متعلق رابطہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ایران کیلئے کئی فوائد کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری فوجی کشیدگی نے ایران کو آبنائے ہرمز کی جغرافیائی  اہمیت کو استعمال کرنے پر مجبور کیا ہے اور تہران اب اس علاقے میں اپنی خودمختاری استعمال کر رہا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بار بار نقصان پہنچا کر فوجی کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے ، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن سفارتی عمل کو مسلسل کمزور کرکے فوجی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔عباس عراقچی نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ اس تمام  صورت حال کا نتیجہ ایک ہی ہے کہ ایرانی عوام دباؤ کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔ امریکہ و ایران کے درمیان بحری ناکہ بندی کے تنازع کے دوران، تہران نے دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمزپر اپنا
کنٹرول باقاعدہ طور پر سخت کر دیا ہے۔جہاز رانی سے متعلق عالمی جریدے لائیڈز لسٹ کے مطابق ایران نے اس اسٹریٹجک گزرگاہ سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کے لیے نئے قواعد و ضوابط متعارف کروا دیے ہیں، جن کے تحت اب جہازوں کو وہاں سے گزرنے کے لیے نہ صرف اجازت لینا ہوگی بلکہ ٹول ٹیکس بھی ادا کرنا پڑے گا۔ایران کی جانب سے قائم کردہ پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی(پی جی ایس اے) نے ایک نیا فریم ورک تیار کیا ہے جس کے تحت جہازوں کو ایک فارم بھرنا ہوگا جس میں 40 سے زائد سوالات شامل ہیں۔اس فارم  میں جہاز کی ملکیت، عملے کی تفصیلات، انشورنس، منزل اور لدے ہوئے سامان کی مکمل معلومات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی  میڈیا پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خود مختاری برقرار رکھنے کے لیے یہ نیا نظام بنایا ہے اور اب تمام بحری جہازوں کو ای میل کے ذریعے ان ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات فراہم کرنے کی صورت میں تمام تر نتائج کی ذمہ داری متعلقہ کمپنی پر ہوگی۔ایران نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کن ممالک کو وہاں سے گزرنے میں آسانی ہوگی اور کن کے لیے مشکلات پیدا کی جا سکتی ہیں۔ ایرانی فوج کے عہدیدار محمد اکرمینیہ نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ارنا’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ممالک جو امریکہ کی ایما پر ایران پر پابندیاں عائد کرتے ہیں، انہیں اس گزرگاہ سے گزرتے وقت یقیناً مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے
آبنائے ہرمز میں ایک نیا قانونی اور حفاظتی نظام قائم کر دیا ہے، اب سے جو بھی جہاز یہاں سے گزرنا چاہے گا اسے ہمارے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی، اور اس سے ہمیں معاشی، سیاسی اور حفاظتی فوائد حاصل ہوں گے۔اسی طرح ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی سوشل میڈیا پر بحرین جیسے ممالک کو تنبیہ کی ہے کہ وہ امریکہ کا ساتھ دے کر اپنے لیے یہ راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا خطرہ مول نہ لیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے 14 نکاتی امن منصوبے کے جواب کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کئے جانے کے بعدامریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے جاری کوششیں ایک بار پھر شدید مشکلات کا شکار ہو گئی ہیں۔ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تجاویز مسترد کئے جانے کے بعد ایران نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران دوبارہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی  نے خطے کی موجودہ صورتحال اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے کے بعد ایک اہم پریس بریفنگ دی  ہے۔ ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ضرورت پڑنے پر مقابلہ بھی کرے گا۔اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جب بھی ہمیں لڑنے پر مجبور کیا جائے گا، ہم لڑیں گے اور جہاں کہیں بھی سفارت کاری کی گنجائش نظر آئے گی، ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور ہمارا ہر فیصلہ قومی مفادات کی بنیاد پر ہوگا کیونکہ ایران نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات کی وجہ سے علاقے کا امن و استحکام خطرے میں پڑ گیا ہے۔

امریکی مطالبات کے حوالے سے ان کا  کہنا تھا کہ امریکہ اب بھی غیر معقول مطالبات کر رہا ہے، جبکہ ایران نے ٹرمپ کی تجویز پر جو جواب بھیجا تھا وہ بالکل بھی غیر منصفانہ نہیں تھا۔ انہوں نے بتایاکہ علاقائی سلامتی کی بحالی کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو بڑھانا ضروری ہے اور علاقائی امن کو بیرونی مداخلت کے بجائے مقامی ممالک کے تعاون سے ہی برقرار رکھا جانا چاہیے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ کے مطابق ایران کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کا جواب ایرانی قوم کے بنیادی حقوق پر زور دیتا ہے اور واشنگٹن کے ان مطالبات کو مسترد کرتا ہے جو ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش تھے۔متعلقہ عہدیدار نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایران میں کوئی بھی شخص ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بناتا، مذاکراتی ٹیم صرف ایرانی قوم کے حقوق کو مدنظر رکھ کر کام کرتی ہے۔انہوں نے اگر ٹرمپ اس جواب سے ناخوش ہیں تو یہ حقیقت میں ایک اچھی بات ہے کیونکہ ٹرمپ حقیقت کو پسند نہیں کرتے اور اسی وجہ سے وہ ایران سے بار بار ہار رہے ہیں۔اگرچہ دونوں جانب سے تجاویز کا سرکاری متن عام نہیں کیا گیا، لیکن بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی تفصیلات  کے مطابق5 ایسے اہم نکات ہیں جن پر تاحال کوئی اتفاق نہیں ہو سکا اور یہی نکات اس وقت مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ  بنے ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پہلا بڑا تنازع ایران کے جوہری پروگرام پر ہے۔امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام  مکمل طور پر ختم کر دے، جبکہ تہران کا موقف ہے کہ اس پر کسی بھی قسم کی پابندی صرف چند سال کے لیے ہونی چاہیے، مستقل طور پر نہیں۔

اسی طرح دوسرا اہم مسئلہ ایران کے پاس موجود 400 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہے، جس پر بھی سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ایران میں  موجودہ افزودہ یورنیم کا تمام ذخیرہ امریکہ کی تحویل میں دیا جائے، تہران نے اس سے صاف انکار کرتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ تیسرا مسئلہ آبنائے ہرمز اور بحری ناکہ بندی کا ہے۔ایران اس اہم بحری گزرگاہ پر اپنی مکمل خود مختاری اور بحری جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کا حق مانگ رہا ہے، اس کی شرط ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی فوری ختم کرے۔دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ  جب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پاتا، بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔اس کے علاوہ چوتھا مسئلہ ایران کے منجمد اثاثوں جنگ میں ایران  کے نقصانات کے ازالے کا ہے۔ایران نے امریکہ سے تقریباً 270 ارب ڈالر کے جنگی معاوضے کا مطالبہ کر رکھا ہے، جو اس کے بقول امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تلافی ہے۔ ایرانی حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی پائیدار معاہدے کے حصے کے طور پر ان کے منجمد کیے گئے 20 ارب ڈالر کے اثاثے فوری بحال کیے جائیں۔پانچواں مسئلہ ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کا ہے۔

امریکہ کی شرط ہے کہ ایران خطے میں اپنے حامی گروپوں، جیسے حزب اللہ اور حماس کی حمایت بند کرے اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی محدود  کرے۔ ایران نے امریکہ کے ان مطالبات کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان بظاہر معمول  پر آتی صورت حال پل بھر میں تبدیل ہوچکی ہے اور ٹرمپ کی جانب سے ایران کا جواب مسترد کرکے حملے دوبارہ شروع کرنے کے اعلان نے دنیا کو ایک دفعہ پھرآزمائش سے دوچار کردیا ہے،اور یہ بات یقینی ہے کہ اگر ٹرمپ نے ایک دفعہ پھر ایران پر حملہ کرنے کی حماقت کی توپوری دنیا کی معیشت مزید منہ کے بل نیچے آسکتی ہے اور اس سے پوری دنیا سے زیادہ شاید امریکہ کے عوام ہی متاثر ہوں کیونکہ وہ پہلے اس  لایعنی جنگ کی وجہ سے اشیائے صرف کی قلت اور گرانی سے بے حال ہورہے ہیں۔اس صورت حال میں دانشمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ یا امن کے درمیان کوئی فیصلہ اپنے جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقائق اور اس کے اثرات کو پوری طرح جائزہ لینے کے بعد ہی  کریں، خود ان کی اور امریکی عوام کی بھلائی بھی اسی میں ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں