میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جیل سپریٹنڈنٹ کا بشریٰ بی بی سے ملاقات کروانے سے انکار

جیل سپریٹنڈنٹ کا بشریٰ بی بی سے ملاقات کروانے سے انکار

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۳ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ملاقات کے بعد فیملی ممبران باہر آکر سیاسی گفتگو کرتے ہیں، ساجد بیگ نے عدالت کو وجوہات بتائیں
جیل انتظامیہ نے مریم ریاض وٹو کے ٹویٹس کو رپورٹ کا حصہ بنایا، آئندہ سماعت پر تفصیلی دلائل طلب

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ان فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات کروانے سے انکار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ مانیکا کی درخواست پر سماعت کی، سماعت کے دوران جیل مینوئل، قیدیوں کے حقوق اور ملاقاتوں کے بعد ہونے والی سیاسی گفتگو بحث کا مرکز بنے رہے۔بتایا گیا ہے کہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ساجد بیگ کی جانب سے عدالت کو ملاقات کی اجازت نہ دینے کی وجوہات بتائیں، اس ضمن میں جمع کروائی جانے والی رپورٹ میں انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کے بعد فیملی ممبران باہر آکر سیاسی گفتگو کرتے ہیں۔جیل انتظامیہ نے بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو کے ٹویٹس کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا اور کہا کہ ملاقاتوں کے بعد اس طرح کا بیانیہ سامنے آتا ہے جو ضابطوں کے خلاف ہے، جیل میں اس وقت 7 ہزار 200 قیدی موجود ہیں اور تمام ملاقاتیں جیل مینوئل اور آن لائن ‘پریزن منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم’ کے تحت مینیج کی جاتی ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نوید ملک نے عدالت کو بتایا کہ سپریٹنڈنٹ نے فوری ملاقات کی اجازت نہیں دی بلکہ عدالتی حکم کی روشنی میں درخواست کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا، جیل کا ایک مکمل نظام ہے جسے قیدیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر برقرار رکھنا ضروری ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کہا کہ ’عدالت اس درخواست پر جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی، ہمیں پورا طریقہ کار اور جیل رولز کو ٹھیک سے سمجھ کر فیصلہ کرنا ہے‘، عدالت نے فریقین سے آئندہ سماعت پر جیل مینوئل اور متعلقہ قوانین کو مدنظر رکھ کر تفصیلی دلائل طلب کرلیے اور کیس کی مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے، جہاں عدالت یہ طے کرے گی کہ آیا جیل انتظامیہ کا ملاقات سے انکار قانونی طور پر درست ہے یا نہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں