فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری
شیئر کریں
7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری
اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ
اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں کے لیے سرعام مقدمات اور سزائے موت کی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔اس نئے قانون کے تحت عدالتوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان قیدیوں کو سزائے موت دے سکیں جن پر 7 اکتوبر کے حملوں میں براہِ راست شرکت یا معاونت کا الزام ثابت ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ اسرائیل میں عام طور پر سزائے موت کا رواج نہیں ہے۔ قانون میں یہ شق بھی شامل ہے کہ ان مقدمات کی سماعت بند کمرے کے بجائے عوام اور میڈیا کے سامنے کی جائے گی تاکہ اسے عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین نے اس قانون کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ "سرعام ٹرائل” کا مقصد انصاف کے بجائے سیاسی انتقام اور عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنا ہے۔اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت سینکڑوں فلسطینی قیدی موجود ہیں جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ بین الاقوامی برادری اور اقوامِ متحدہ نے پہلے ہی اسرائیل میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تحفظات کا اظہار کر رکھا ہے، اور اس نئے قانون سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔


