بلدیہ عظمیٰ، محکمہ انجینئرنگ کی ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز میں بے قاعدگیاں
شیئر کریں
گزشتہ مالی سال بھی ترقیاتی اسکیموں کے پے در پے ٹینڈرز کرا کر فرضی ادائیگیاں
اسگد کی ای پیڈ ٹینڈر ڈاکومنٹس میں کوٹ کی گئی رقم میں تبدیلی، سی آر سی میں شکایت
بلدیہ عظمی کراچی کے محکمہ انجینئرنگ کی جانب ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز کی اسکروٹنی میں سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس سے رواںمالی سال کے ماہ کے بھی دوران عجلت میں بڑی تعداد میں طلب کیے ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز کو مشکوک بنا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل گزشتہ مالی سال کے آخر میںبھی ترقیاتی اسکیموں کے پے در پے ٹینڈرز کرا کر فرضی ایم بیز پر ادائیگی کر دی گئی تھی۔جبکہ ان بے قاعدگیوں کے خلاف متعدد کنٹریکٹرز نے عدالت سے رجوع کررکھا تھا ۔گزشتہ روز نارتھ کراچی یونین کونسل ایک تا پانچ تقریبا 23کروڑ روپے مالیت کی زیر زمین سیوریج لائن کی بحالی کی اسکیم کے ٹینڈر میں حصہ لینے والے انا انجینئرنگ نے سی آر سی میں شکایت درج کرائی ہے کہ اسگد نے ای پیڈ ٹینڈر ڈاکومنٹس میں جو رقم کوٹ کی تھی اسے محکمہ انجینئر نگ نے تبدیل کر دیا اور کشمیر انٹرپرائزز اینڈ کمپنی کو کام تجویز کر دیا ہے جس کمپنی کو اس کی تجویز کی گئی ہے اس نے انا انجینئرنگ کے مقابلے میں لاکھوں روپے زائد کوٹ کیے تھے۔ محکمہ انجینئرنگ کے ایم سی کا یہ عمل شفافیت پر سوالیہ نشان ہے بلکہ بدعنوانی کے ذمرے میں آتا ہے سی آر سی اس شکایت کا غیر جانبداری سے جائزہ لے بصورت دیگر وہ سیپرا سمیت تحقیقاتی اداروں سے رجوع کرنے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں حق بجانب ہوں گے۔(نمائندہ جرأت)


