میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں!

میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں!

ویب ڈیسک
اتوار, ۱۰ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

جب بیسویں صدی کی فکری زمین پر فلسفے کے پرانے ستون ہل رہے تھے اور انسان اپنی ہی بنائی ہوئی سائنسی روشنی میں خود کو گم پا رہا تھا، تب Martin Heideggerنے ایک ایسی کتاب لکھی جس نے سوچ کے آسمان پر بجلی کی طرح وار کیا۔ اس کتاب کا نام تھا Being and Time۔ یہ کوئی عام فلسفیانہ تصنیف نہیں، بلکہ وجود کے اندھیرے کنویں میں اترنے کی جرات مندانہ کوشش ہے ،ایسی کوشش جس میں قاری کو اپنے ہی سائے سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔”بی اِنگ اینڈ ٹائم” دراصل ایک سوال سے شروع ہوتی ہے:’ہونا”کیا ہے؟
یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر ہائیڈیگر کے نزدیک پوری مغربی فکر اسی سوال کو بھلا بیٹھی تھی۔ سقراط سے لے کر جدید سائنس تک سب نے موجودات پر بات کی، مگر”وجود”خود پس منظر میں دھندلا گیا۔ ہائیڈیگر نے اسی بھولی ہوئی چیخ کو پھر سے زبان دی۔ وہ کہتا ہے کہ انسان کو محض ایک سوچنے والی ہستی نہیں سمجھا جا سکتا؛ وہ ”دازائن” ہے، یعنی وہ ہستی جو اپنے ہونے سے باخبر ہے اور اپنے ہونے پر سوال اٹھا سکتی ہے۔
اس کتاب کا سب سے دلچسپ اور چونکا دینے والا تصور”وقت” ہے۔ ہائیڈیگر کے نزدیک وقت گھڑی کی سوئیوں کا نام نہیں، بلکہ انسان کے وجود کی باطنی ساخت ہے۔ ہم ماضی کی یاد، حال کی الجھن اور مستقبل کی امید میں بٹے ہوئے نہیں؛ ہم دراصل انہی تینوں میں بیک وقت جیتے ہیں۔ انسان کا وجود مستقبل کی طرف اچھالا ہوا ہے وہ امکانات کا پیکر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موت، ہائیڈیگر کے ہاں، محض اختتام نہیں بلکہ سب سے بڑی سچائی ہے۔ موت کا شعور ہمیں”اصلیت” کی طرف دھکیلتا ہے، ہمیں ہجوم کی نیند سے جگاتا ہے۔ہائیڈیگر”وہ لوگ”(They) کی اصطلاح استعمال کرتا ہے، وہ غیر مرئی ہجوم جو ہماری سوچ، ہماری زبان اور ہماری ترجیحات طے کرتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں، مگر اکثر ہم دوسروں کی بنائی ہوئی راہوں پر چل رہے ہوتے ہیں۔”بی اِنگ اینڈ ٹائم” ہمیں اس اجتماعی غفلت سے نکال کر اپنی ذات کے عریاں کمرے میں لا کھڑا کرتی ہے، جہاں کوئی نقاب کارگر نہیں رہتا۔ ادبی لحاظ سے یہ کتاب خشک فلسفہ نہیں بلکہ ایک فکری مہم ہے۔ اس کی زبان پیچیدہ ضرور ہے، مگر اس پیچیدگی میں ایک عجیب سی موسیقیت ہے جیسے کوئی شاعر منطق کی چھینی سے وجود کا مجسمہ تراش رہا ہو۔ ہائیڈیگر قاری کو تیار جواب نہیں دیتا؛ وہ اسے سوال کی آگ میں جھونک دیتا ہے۔ یہی اس کتاب کی لذت بھی ہے اور اذیت بھی۔
آج کے شور زدہ دور میں، جب انسان سوشل میڈیا کی اسکرینوں اور وقتی نعروں میں خود کو کھو رہا ہے،”بی اِنگ اینڈ ٹائم” کی بازگشت اور زیادہ معنی خیز ہو جاتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سب سے بنیادی سوال اب بھی وہی ہے: میں کون ہوں؟ اور میں کس طرح جینا چاہتا ہوں؟ ہجوم کے ساتھ بہہ کر یا اپنی موت کی سچائی کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر؟یہ کتاب آسان نہیں، مگر شاید اصل سوال کبھی آسان نہیں ہوتے۔”بی اِنگ اینڈ ٹائم” ہمیں سہارا نہیں دیتی؛ یہ ہمیں تنہا کر دیتی ہے اور اسی تنہائی میں ہمیں اپنی اصل آواز سنائی دیتی ہے۔ یہی اس کتاب کا مزہ ہے، یہی اس کی کاٹ، اور یہی اس کی دائمی اہمیت۔جب Martin Heidegger نے Being and Time لکھی تو شاید اس کے ذہن میں پاکستان نام کا کوئی ملک نہ تھا، مگر اس کے اٹھائے ہوئے سوال آج کے پاکستانی سماج پر عجیب شدت کے ساتھ منطبق ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ کتاب جغرافیہ کی نہیں، وجود کی کتاب ہے اور وجود کی الجھنیں ہر معاشرے میں اپنی الگ شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ہائیڈیگر کا بنیادی سوال تھا:”ہونا”کیا ہے؟ اگر یہی سوال ہم پاکستانی انسان سے پوچھیں تو جواب الجھ جاتا ہے۔ یہاں فرد اپنی ذات سے پہلے اپنے قبیلے، اپنے فرقے، اپنی زبان، اپنی جماعت یا اپنے نظریے کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ”میں”کہنے سے پہلے ”ہم” کہنے پر مجبور ہے، اور اکثر یہ ”ہم” اس کا اپنا انتخاب نہیں بلکہ وراثت میں ملا ہوا بوجھ ہے۔ یوں وہ اپنی اصل شناخت سے دور ہوتا جاتا ہے۔
ہائیڈیگر کے الفاظ میں، وہ ”وہ لوگ” کی گرفت میں ہے وہ غیر مرئی ہجوم جو اس کی سوچ، اس کے فیصلے اور حتیٰ کہ اس کے خواب تک طے کرتا ہے۔پاکستانی سماج میں”وہ لوگ” کی یہ قوت اور بھی نمایاں ہے۔ یہاں رائے اکثر فرد کی نہیں، ماحول کی ہوتی ہے۔ سچ وہی سمجھا جاتا ہے جو زیادہ شور سے بولا جائے۔ نوجوان اپنے امکانات کی تلاش میں نکلتا ہے، مگر اسے پہلے بتایا جاتا ہے کہ اسے کیا بننا چاہیے، کیسے جینا چاہیے، کس سے محبت کرنی چاہیے، کس سے نفرت۔ نتیجہ یہ کہ وہ”دازائن” یعنی اپنے ہونے پر سوال اٹھانے والی ہستی بننے کے بجائے ایک کردار ادا کرنے لگتا ہے۔ وہ جیتا کم ہے، نبھاتا زیادہ ہے۔
ہائیڈیگر کے نزدیک وقت انسان کی باطنی ساخت ہے؛ وہ مستقبل کی طرف اچھالا ہوا وجود ہے۔ مگر پاکستانی انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثر ماضی کی زنجیروں میں قید رہتا ہے۔ ہماری سیاست، ہماری بحثیں، ہمارے جذبات سب ماضی کے کسی زخم یا کسی سنہری خواب کے گرد گھومتے ہیں۔ ہم حال کو جینے اور مستقبل کو تخلیق کرنے کے بجائے تاریخ کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں۔ یوں ہمارا وجود امکانات کی طرف بڑھنے کے بجائے تکرار کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔موت کا شعور، جسے ہائیڈیگر”اصلیت” کی کنجی کہتا ہے، ہمارے سماج میں بھی موجود ہے، مگر اکثر وہ خوف کی شکل میں استعمال ہوتا ہے، آگہی کی نہیں۔ ہم فنا کو یاد تو رکھتے ہیں، مگر اسے اپنی زندگی کی معنویت کا پیمانہ نہیں بناتے۔ اگر واقعی ہم اپنی محدودیت کو قبول کر لیں تو شاید ہم نفرت کے بجائے مکالمہ، اور ہجوم کے شور کے بجائے اپنی اندرونی آواز کو ترجیح دیں۔”بی اِنگ اینڈ ٹائم”ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل سوال ترقی یا طاقت نہیں، بلکہ اپنے ہونے کی سچائی ہے۔ پاکستانی انسان اگر واقعی اپنی اجتماعی بے چینی کو سمجھنا چاہتا ہے تو اسے یہی سوال خود سے پوچھنا ہوگا: کیا میں اپنی زندگی جی رہا ہوں یا صرف ایک سماجی اسکرپٹ ادا کر رہا ہوں؟ کیا میری رائے میری ہے، یا میں”وہ لوگ” کی بازگشت ہوں؟یہ کتاب ہمیں کوئی سیاسی پروگرام نہیں دیتی، مگر ایک فکری آئینہ ضرور دیتی ہے۔ اس آئینے میں پاکستانی سماج خود کو دیکھ سکتا ہے ،اپنی الجھنوں، اپنے خوف اور اپنے امکانات سمیت۔ اگر ہم ہجوم کی نیند سے جاگ کر اپنی ذات کے سوال کو سن لیں تو شاید ہماری اجتماعی تاریخ کا رخ بھی بدل سکتا ہے۔ کیونکہ ہر قوم کی تقدیر اس کے افراد کے شعور سے بنتی ہے، اور شعور تب پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے ہونے کی ذمہ داری قبول کرے۔ یہی پیغام اس کتاب کا ہے، اور شاید یہی ہماری سب سے بڑی ضرورت بھی۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں