میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،معاہدہ نہ کیا تو پہلے سے زیادہ شدید بمباری ہوگی،امریکی صدر

ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،معاہدہ نہ کیا تو پہلے سے زیادہ شدید بمباری ہوگی،امریکی صدر

ویب ڈیسک
جمعرات, ۷ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایران کیخلاف جارحانہ فوجی مرحلہ ختم ہو چکا، امریکا کا مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ،ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی گفتگو
ایران شرائط مان لیتا ہے تو امریکا اور اسرائیل کی تہران کیخلاف جنگ ختم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے،ٹرمپ

امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت (MOU) تیار کر لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب ہیں جتنا جنگ کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں رہے تھے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران طے شدہ شرائط مان لیتا ہے تو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ اگر ایران اس معاہدے کو تسلیم کر لیتا ہے جس پر اتفاق ہو چکا ہے، اور یہ بہت بڑا اگر ہوگا، تو آپریشن ایپک فیوری ختم ہو جائے گا اور انتہائی مثر ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سب کے لیے، بشمول ایران، کھول دی جائے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو بمباری دوبارہ شروع ہو گی اور بدقسمتی سے اس کی شدت اور سطح پہلے سے کہیں زیادہ ہوگی۔امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کو اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے، اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے، لیکن صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔ایگزیوز کے مطابق مجوزہ معاہدے میں درج ذیل نکات موجود ہیں:جنگ کا خاتمہ: ایم او یو پر دستخط ہوتے ہی خطے میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے گا۔30 دن کی مہلت: معاہدے کے بعد 30 دنوں کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی پروگرام پر حتمی بحث ہو گی۔آبنائے ہرمز: اس 30 روزہ مدت کے دوران ایران کی جانب سے جہاز رانی پر پابندیاں اور امریکا کا بحری محاصرہ بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔ایٹمی پروگرام پر پابندی: ایران 12 سے 15 سال تک یورینیٔم کی افزودگی روکنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکا 20 سال کا مطالبہ کر رہا ہے۔خبر کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر اپنا اعلیٰ افزودہ یورینیٔم ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ حملوں کے باوجود جنگ بندی برقرار، امریکا، ہرمز کا کنٹرول کسی صورت میں نہیں چھوڑیں گے، ایران، امارات پر دوسرے دن بھی حملے ایک تجویز کے مطابق یہ مواد امریکا منتقل کیا جا سکتا ہے، جو کہ تہران کی سابقہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔اس کے بدلے میں امریکا ایران کے منجمد اربوں ڈالرز ریلیز کرے گا اور پابندیوں میں بتدریج نرمی کی جائے گی۔وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں