پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ
شیئر کریں
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا
دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے گئے اہداف میں ایک تربیتی مرکز، ایک خفیہ ٹھکانہ اور اسلحہ کا ذخیرہ شامل تھے،وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر محدود نوعیت کی کارروائیاں کی گئیں جن میں فتنہ الخوارج کے 26 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عطا تارڑ نے بتایا کہ پاکستان میں 9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا جبکہ اس سے قبل 2جون کو شمالی وزیرستان میں ایک فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا اور 9مئی کو بنوں کے ایک پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا۔وزیر اطلاعات کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر محدود نوعیت کی کارروائیاں کی گئیں جن میں فتنہ الخوارج کے 26دہشتگرد ہلاک ہوئے۔انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس اطلاعات پردہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، اس کارروائی کے دوران 4 اہم اہداف مکمل طور پر تباہ کردئیے گئے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ تباہ کیے گئے اہداف میں ایک تربیتی مرکز، ایک خفیہ ٹھکانہ اور اسلحہ کا ذخیرہ شامل تھے، اس دوران خارجی کمانڈر علیم خان خوشحالی اور کمانڈر اختر محمد جانی خیل کے مراکز نشانہ بنائے گئے۔عطا تارڑ نے کہاکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہیگی، پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے کوشاں رہا ہے اور اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور قومی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے، ملک سے بیرونی سرپرستی میں دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔


