ادارہ ترقیات، متنازع افسران کی تعیناتی سے ملازمین میں اشتعال
شیئر کریں
باہر سے افسران کولاکر کھپانے کا سلسلہ عروج پر،محکمے کے افسران کی تعیناتی خطرے میں
ضلع غربی مومن آباد ٹاؤن سے متنازع افسر زین علی شاہ کا تبادلہ ، 18گریڈ میں ترقی مشکوک
ادارہ ترقیات کراچی میں قوانین کے برخلاف دیگر محکموں سے افسران کولاکر کھپانے کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا۔ کے ڈی اے کے افسران کی تعیناتی خطرے میں پڑ گئی۔ چار روز کے دوران ایک متنازع ترین کونسل افسر سمیت تین افسران کو کے ڈی اے میں بھیجا جاچکا ہے ۔ باہر سے افسران کی مسلسل آمد پر کے ڈی اے ملازمین میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے، ادارے کی سی بی اے یونین نے ڈی جی سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جلد ہی لائحہ عمل کے اعلان کا عندیہ دیا ہے ۔ دو روز قبل صوبائی محکمہ بلدیات نے ضلع غربی مومن آباد ٹاؤن سے متنازع افسر زین علی شاہ کا تبادلہ کرکے ادارہ ترقیات بھیجا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق زین علی شاہ کو ڈائریکٹر لینڈ تعینات کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔روزنامہ جرأت کراچی نے 15روز قبل اس تعیناتی کا انکشاف کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق زین شاہ کی کے ڈی اے میں تعیناتی ایک ایسے وقت کی گئی جب تعیناتی سے دو روز قبل چیئرمین مومن آباد نے زین شاہ کی 18گریڈ میں ترقی کو مشکوک قرار دیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات کو ترقی منسوخی کے لیے لیٹر لکھا تھا ،اسی طرح ایس سی یو جی ایڈمن برانچ میں گریڈ 17 کی افسر کو آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں جوائنگ دے دی گئی ہے جبکہ لیاری ٹاؤن سے تنخواہ سمیت بھیجے جانے والے گریڈ 17کے ثناء اللہ شیخ کو آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں سینئر ڈیٹا انٹری افسر کی پوسٹ پر جوائنگ دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والی سی بی اے یونین کے سرپرست اعلیٰ سید عمران جعفری کا کہنا ہے کہ سی بی اے اپنے تحفظات کا ڈی جی کے ڈی اے سے اظہار کرچکی ہے اور قانونی چارہ جوئی کے لیے اپنے مرکز کی ہدایت کی منتظر ہے ۔(نمائندہ جرأت)


