میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اربوں کے ترقیاتی فنڈزضائع، سندھ حکومت پریشان

اربوں کے ترقیاتی فنڈزضائع، سندھ حکومت پریشان

ویب ڈیسک
جمعرات, ۷ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

شہر قائد کی تباہ حالی پر حکومت سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی پہلے شدید تنقید کی زد میں
سینئر کنٹریکٹرز ، ریٹائرڈ انجینئرز نے بربادی کی وجہ کرپشن اور بدانتظامی کو قرار دیا

کراچی میں اربوں کھربوں روپے کے ترقیاتی فنڈ استعمال کیے جانے کے باوجود خاطرخواہ نتائج کے حاصل نہ ہونے پر صوبائی حکومت کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔رواں مالی سال کے اختتام میں اب صرف ڈیڑھ ماہ باقی رہ گیا۔ شہر قائد کی تباہ حالی پر حکومت سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی پہلے شدید تنقید کی زد میں ہے ۔ اس سلسلے میں سینئر کنٹریکٹرز اور ریٹائرڈ انجینئرز نے اس بربادی کی وجہ کرپشن کے ساتھ ساتھ بدانتظامی کو قرار دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ ای پیڈ کے باوجود تکنیکی بدعنوانی کی جارہی ہے جس میں انجینئرز اور کنٹریکٹرز کی جگہ مڈل مین اور بااختیار ٹینڈر اوپننگ کمیٹی کے درمیان خاموش مفاہمت ہے ۔ذرائع کے مطابق ای پیڈ کے نفاذکے بعد مڈل مین منظور نظر من پسند کنٹریکٹر کے ذریعے چار سے پانچ کمپنیز سے مختلف ریٹ کوڈ کرواتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض اوقات خود انجینئر ہی ریٹ کی پرچی بنا کر دے دیتا ہے۔ ٹینڈر اوپننگ کمیٹی پانچ میں سے چار کمپنیوں کو آؤٹ کیے جانے کے باوجود من پسند کنٹریکٹرز کو کام الاٹ کردیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس طرح قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تکنیکی بدعنوانی ترقیاتی اسکیم کی تخمینی لاگت سے تقریبا 40 فیصد مبینہ کرپشن کی نذر ہورہا ہے ۔(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں