شعور تک درد کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں!
شیئر کریں
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
عظیم ماہر نفسیات کارل جنگ کہتا ہے ۔”شعور تک درد کے بغیر پہنچنا ممکن نہیں”۔یہ محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کے بڑے اذہان کی ایک تلخ متفقہ گواہی ہے۔ شعور کوئی نورانی انعام نہیں۔یہ ایک زخم ہے ،ایسا زخم جو جتنا پرانا ہوتا ہے، اتنا ہی گہرا ہو جاتا ہے۔فلسفی نطشے نے کہا تھا: ”جس کے پاس جینے کی کوئی وجہ ہو، وہ تقریباً ہر طرح کا دکھ برداشت کر سکتا ہے”۔مگر اس قول کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ”وجہ” دکھ کے بعد پیدا ہوتی ہے، پہلے نہیں۔ نطشے ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ انسان پہلے ٹوٹتا ہے، پھر معنی تخلیق کرتا ہے۔ وہ اپنی شکست کو فلسفہ بنا لیتا ہے تاکہ وہ زندہ رہنے کے قابل ہو سکے۔ یہ درد اور شعور کا رشتہ قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے۔سقراط نے کہا تھا:”غیر آزمودہ زندگی جینے کے قابل نہیں”۔مگر سقراط کا یہ جملہ سکون کی دعوت نہیں، بلکہ بے چینی کا آغاز ہے۔ خود احتسابی انسان کو سکون نہیں دیتی، بلکہ اسے اپنے ہی وجود کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتی ہے۔اسی سلسلے میں افلاطون کی ”غار کی تمثیل ”ہمیں یہ بتاتی ہے کہ:جو شخص روشنی دیکھ لیتا ہے، وہ واپس اندھیرے میں رہنے والوں کے لیے اجنبی ہو جاتا ہے۔افلاطون کے نزدیک شعور ایک ایسی روشنی ہے جو حقیقت تو دکھاتی ہے، مگر اس کے ساتھ انسان کو تنہائی کا قیدی بھی بنا دیتی ہے۔
مشرق میں گوتم بدھ نے کہا:”زندگی دکھ ہے”۔بدھ کا یہ اعلان دراصل شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب انسان یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ دکھ ناگزیر ہے، تو وہ حقیقت کے قریب تو آ جاتا ہے مگر اس کے بدلے میں اس کی سادہ خوشیاں اس سے چھن جاتی ہیں۔پھر جدید دور میں یہ تلخی اور بھی گہری ہو جاتی ہے۔دوستوفسکی کے کردار ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ:”سب سے بڑا عذاب لاعلمی نہیں، بلکہ جان لینا ہے”۔دوستوفسکی کے ہاں شعور ایک خاموش اذیت ہے ایک ایسا اندرونی زوال جو انسان کو چیخنے بھی نہیں دیتا، صرف اندر ہی اندر ختم کرتا رہتا ہے۔شوپنہار نے کہا”:زندگی دکھ اور اکتاہٹ کے درمیان جھولتی ہے”۔مگر جب شعور اس جھول کو روک دیتا ہے، تو انسان پہلی بار اس خلا کو دیکھتا ہے جس سے وہ ہمیشہ بھاگتا رہا تھا اور یہی خلا اس کی سب سے بڑی اذیت بن جاتا ہے۔ژاں پال سارتر نے کہا:”انسان آزاد ہونے پر مجبور ہے”۔سارتر کے نزدیک یہ آزادی دراصل ایک سزا ہے۔ شعور انسان کو اس مقام پر لے آتا ہے جہاں وہ اپنی ہر ناکامی، ہر انتخاب کا خود ذمہ دار ہوتا ہے—اور یہی ذمہ داری سب سے بڑا بوجھ بن جاتی ہے۔البرٹ کا میو نے لکھا:”زندگی بنیادی طور پر بے معنی ہے، مگر انسان معنی تلاش کرتا رہتا ہے”۔کامیو کے ”ابسرڈ” کا ادراک ہی شعور ہے ایک ایسا ادراک جو انسان کو سکون سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیتا ہے۔ان تمام آوازوں کا نچوڑ ایک ہی ہے:شعور روشنی نہیںیہ اندھیرے کو پہچان لینے کا نام ہے۔یہ تمہیں کچھ نہیں دیتا، بلکہ تم سے سب کچھ لے لیتا ہے۔ تمہاری معصومیت، تمہاری بے فکری، تمہاری سادہ خوشیاںسب۔ اور بدلے میں جو ملتا ہے، وہ کوئی تسلی نہیں بلکہ ایک مستقل بوجھ ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے فریبوں کا جنازہ خود اٹھاتا ہے۔وہ اپنے یقین کو دفن کرتا ہے، اپنی امیدوں کو مٹی میں ملاتا ہے، اور ایک ایسی خاموشی میں داخل ہو جاتا ہے جہاں کوئی جواب باقی نہیں رہتا صرف سوال، اور وہ بھی ایسے جو کبھی مکمل نہیں ہوتے۔اور درد؟وہ اس جنازے کا پہلا کندھا ہوتا ہے۔وہی تمہیں اس دروازے تک لاتا ہے جہاں شعور کھڑا ہے خاموش، سنگین، اور ناقابلِ واپسی۔شعور بیداری نہیںیہ واپسی کے تمام راستوں کا بند ہو جانا ہے۔کیونکہ اس کی بنیاد ہی اذیت پر ہے۔”شعور تک درد کے بغیر پہنچنا ممکن نہیں”اور اگر اس جملے کو کسی زندہ مثال میں ڈھالنا ہو، تو وہ کوئی فرد نہیں… ایک پورا معاشرہ ہو سکتا ہے۔
یہاں، اس سرزمین پر، شعور کوئی فلسفیانہ بحث نہیںیہ روزمرہ کی زندگی کا ایک کڑوا تجربہ ہے۔ ایک ایسا تجربہ جسے ہر وہ انسان محسوس کرتا ہے جو ذرا سا رک کر اپنے اردگرد دیکھنے کی ہمت کرتا ہے۔یہاں زندگی محض گزاری نہیں جاتی، گھسیٹی جاتی ہے۔گلیوں میں کھیلتے بچوں کی ہنسی کے پیچھے ایک انجانا خوف چھپا ہوتا ہے ایک ایسا خوف جو ان کے والدین کی آنکھوں میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے چہروں پر مسکراہٹیں اب محض ایک سماجی رسم بن چکی ہیں۔ بازاروں کی رونق اب خوشحالی کی علامت نہیں رہی، بلکہ ایک بے چین دوڑ ہے ہر شخص کسی نہ کسی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے، اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ آخر کیوں بھاگ رہا ہے۔یہاں شعور اس لمحے جنم لیتا ہے جب ایک باپ اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر خالی انگلیوں کو محسوس کرتا ہے، اور پھر اپنے بچے کی خواہش کو مسکرا کر ٹال دیتا ہے۔یہاں شعور اس وقت جاگتا ہے جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے دروازے دروازے ٹھوکر کھاتا ہے، اور آخرکار یہ سمجھ لیتا ہے کہ قابلیت اور مواقع کے درمیان ایک ایسا خلا ہے جسے صرف سفارش، طاقت، یا سمجھوتہ ہی بھر سکتا ہے۔یہاں شعور اس لمحے سر اٹھاتا ہے جب ایک عام شہری قانون کو اپنے سامنے جھکتے نہیں، بلکہ طاقت کے سامنے جھکتے دیکھتا ہے۔یہ معاشرہ ایک عجیب تضاد میں زندہ ہے۔ہم امید کی بات کرتے ہیں، مگر یقین نہیں رکھتے۔ہم تبدیلی کے نعرے لگاتے ہیں، مگر خود کو بدلنے سے ڈرتے ہیں۔ہم سچ سننا چاہتے ہیں، مگر صرف اس حد تک جہاں تک وہ ہمارے یقین کو نہ چھیڑے۔یہاں سچ ایک نظریہ نہیں، ایک خطرہ ہے۔لوگ جانتے ہیں مگر مانتے نہیں۔وہ دیکھتے ہیں مگر بولتے نہیں۔اور جو بولتے ہیں، وہ جلد ہی سیکھ جاتے ہیں کہ خاموشی زیادہ محفوظ ہے۔یہ خاموشی محض آواز کی کمی نہیں، یہ ایک اجتماعی تھکن ہے۔ایسی تھکن جو برسوں کے ٹوٹے ہوئے وعدوں، ادھورے خوابوں، اور مسلسل مایوسیوں سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب انسان لڑنا چھوڑ دیتا ہے—نہیں اس لیے کہ وہ ہار گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ جیتنا ممکن نہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں شعور ایک بوجھ بن جاتا ہے۔جو نہیں جانتے، وہ شاید سکون سے سو لیتے ہیں۔مگر جو دیکھ لیتے ہیں، وہ جاگتے رہتے ہیں صرف آنکھوں سے نہیں، اندر سے۔ان کے لیے ہر خبر ایک زخم ہوتی ہے، ہر واقعہ ایک یاد دہانی کہ حالات بدلنے کے بجائے صرف شکل بدل رہے ہیں۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ مسئلہ کسی ایک فرد، کسی ایک ادارے، یا کسی ایک فیصلے کا نہیںیہ ایک پورے ڈھانچے کا مسئلہ ہے، ایک ایسی سوچ کا جو نسلوں سے چلی آ رہی ہے۔اور اس ادراک کے بعد… کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔خوشی سادہ نہیں رہتی۔امید خالص نہیں رہتی۔اور زندگی… صرف زندگی نہیں رہتی۔یہاں درد استاد نہیںیہ ایک مسلسل ساتھ چلنے والا سایہ ہے۔یہ تمہیں ہر دن کچھ نہ کچھ چھین کر یاد دلاتا ہے کہ تم کہاں کھڑے ہو۔ یہ تمہاری معصومیت کو آہستہ آہستہ ختم کرتا ہے، تمہاری سادگی کو ایک سوالیہ نشان بنا دیتا ہے، اور تمہیں اس مقام پر لے آتا ہے جہاں تم ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہو۔یہی شعور ہے۔ایک ایسی حالت جہاں انسان اپنے فریبوں کو پہچان لیتا ہے، مگر ان سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو پاتا۔ وہ جانتا ہے کہ بہت کچھ غلط ہے، مگر یہ بھی جانتا ہے کہ اسے درست کرنا اس کے بس میں نہیں۔اور شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے۔یہ معاشرہ ٹوٹ نہیں رہایہ ٹوٹ کر بھی چل رہا ہے۔لوگ جیت نہیں رہے وہ بس ہار کو جینے کا ہنر سیکھ چکے ہیں۔اور شعور؟وہ کوئی روشنی نہیںوہ صرف یہ احساس ہے کہ اندھیرا کہاں کہاں ہے۔
٭٭٭


