حیدرآباد،غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ تیز،ماسٹر پلان داؤ پر
شیئر کریں
رہائشی پلاٹس راتوں رات کمرشل،نواز سمیجو، جنید آرائیں ، اورنگزیب رضی ملوث
جعلی انسپکٹر کے ذریعے مبینہ رشوت کا نظام قائم،شہریوں میں شدید غم و غصہ
حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد یونٹ نمبر 10میں مبینہ طور پر غیرقانونی تعمیرات اور رہائشی پلاٹس کو کمرشل میں تبدیل کرنے کا سلسلہ تیزی سے پھیلنے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جس پر شہریوں میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے ۔مقامی ذرائع اور علاقہ مکینوں کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران کے نام اس معاملے میں لیے جا رہے ہیں، جن میں نواز سمیجو، جنید آرائیں اور اورنگزیب رضی شامل بتائے جاتے ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ افسران کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک منظم طریقہ کار کے تحت رہائشی پلاٹس کو کمرشل استعمال میں بدلا جا رہا ہے ۔ الزام یہ بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ کاشان نامی شخص خود کو انسپکٹر ظاہر کر کے تعمیراتی معاملات میں مداخلت کرتا ہے اور مبینہ طور پر اجازت ناموں اور خلاف ضابطہ تعمیرات کے عوض رقوم وصول کی جاتی ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق اس صورتحال نے علاقے کے ماسٹر پلان کو شدید متاثر کیا ہے ، جبکہ ٹریفک، سیوریج اور دیگر بنیادی سہولیات کا نظام بھی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے ۔ زیرِ تعمیر عمارتوں کی بڑھتی تعداد نے حفاظتی خدشات کو بھی جنم دیا ہے ، خصوصاً گنجان آبادی اور حساس انفراسٹرکچر کے قریب تعمیرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ حکام فوری نوٹس لیں، شفاف انکوائری کرائی جائے اور اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ، تاکہ شہر میں بلڈنگ قوانین کی عملداری اور عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے ۔ (نمائندہ جرأت)


