میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بلدیہ عظمیٰ کو ریونیو ہدف کے حصول میں ناکامی کا سامنا

بلدیہ عظمیٰ کو ریونیو ہدف کے حصول میں ناکامی کا سامنا

ویب ڈیسک
جمعه, ۱ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پہلے نو ماہ کے لیے محصولات کا ہدف 2.994.006ملین رکھا گیا گیا تھا
کے ایم سی کو نوماہ کے ہدف میں 61.39فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے

بلدیہ عظمی کراچی کو مالی سال 2025/26کے لیے مختص ریونیو ہدف کے حصول میں ناکامی کا سامنا ہے ۔بلدیہ عظمیٰ کراچی سے حاصل اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے لیے محصولات کا ہدف 2.994.006ملین رکھا گیا گیا تھا تاہم کے ایم سی کو نوماہ کے ہدف میں 61.39فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ محصولات کے حصول میں سب سے خراب کارکردگی محکمہ ٹرمینل کی رہی ذوالفقار آئل ٹرمینل کے لیے نوماہ میں ریونیو کاہدف 113.428ملین روپے رکھا گیا تھا جس کے حصول میں 90فیصد سے زائد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوسف گوٹھ ٹرمینل۔ بارہ دری اور شہاب الدین مارکیٹ 29.444ملین روپے رکھا گیا تھا جس کے حصول میں 91.80 فیصد ناکامی کا سامنا رہا ۔ محکمہ چارجڈ پارکنگ 54فیصد سے کم وصول کیے گئے ۔ محکمہ لینڈ نے 71فیصد، کچی آبادی نے 30 فیصد، انفورسمنٹ اینڈ املیٹیشن،98فیصد، کراچی چڑیا گھر،لانڈھی کورنگی60 فیصد،محکمہ ویٹرنری کو 66 فیصد ،محکمہ پارک اینڈ ہارٹی کلچر42فیصد محکمہ ایڈورٹائزمنٹ کو 52 فیصد اور محکمہ انجینئرنگ ورکس اینڈ سروسز کو ریونیو کے حصول میں 85فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ محکمہ ایم یو سی ٹی نے مطلوبہ ٹارگٹ سے 24 فیصد زائد ریونیو وصول کیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں