کراچی میں ڈیجیٹل جوئے کا پھیلائو عروج پر پہنچ گیا
شیئر کریں
اسکول کے بچوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنانے کا خدشہ، گلی محلوں میں گیم شاپس قائم
کورنگی، لانڈھی،ملحقہ علاقوں میں مچھلی گیم کے نام سے روزانہ لاکھوں کا مبینہ جوا
شہر قائد میں منشیات، گٹکا، ماوا، جوا اور سٹے کے بعد اب مبینہ طور پر ڈیجیٹل جوئے کا نیا نیٹ ورک نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کورنگی، لانڈھی اور ملحقہ علاقوں میں مچھلی گیم کے نام سے مشہور ڈیجیٹل مشینوں کے ذریعے روزانہ لاکھوں روپے کا مبینہ جوا کھیلا جا رہا ہے۔ گلی محلوں میں قائم گیم شاپس میں اسکول کے بچوں سے لے کر نوجوانوں تک کی بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مبینہ چشم پوشی اور سرپرستی کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ اس کاروبار سے وابستہ عناصر نے ایک منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جس کے ذریعے بھاری رقوم کا لین دین ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس مبینہ غیر قانونی سرگرمی کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو نوجوان نسل مزید تباہی کی طرف دھکیل دی جائے گی۔شہر قائد میں منشیات، آئس، ہیروئن، چرس، افیون، گٹکا، ماوا، جوا اور سٹے کے بعد اب ڈیجیٹل جوئے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے شہریوں خصوصا نوجوان نسل کے مستقبل کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں مچھلی گیم کے نام سے مشہور ڈیجیٹل گیم کے ذریعے مبینہ طور پر روزانہ لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کی بیٹنگ کی جا رہی ہے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع کورنگی اور اس کے گرد و نواح میں گلی محلوں کے اندر متعدد گیم شاپس قائم ہو چکی ہیں جہاں مختلف عمر کے افراد جن میں اسکول جانے والے بچے اور نوجوان بھی شامل ہیں، اس کھیل میں حصہ لیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ سرگرمیاں رحیم آباد، نورانی بستی، چار پول، ایس ٹی 18، سیکٹر 50/A، یوسی 8، کورنگی نمبر 2 کشتی والی بلڈنگ، ناصر کالونی، بھٹائی کالونی، سیکٹر 51/C، لانڈھی 6 خواجہ چورنگی اور دیگر علاقوں میں جاری ہیں۔ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ زین بٹ نامی شخص مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کے انتظام میں ملوث ہے، تاہم اس حوالے سے مذکورہ شخص کا مقف سامنے نہیں آ سکا۔ مزید یہ کہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل گیم مشینیں کورنگی چونگی اسٹاپ کے علاقے میں واقع ایک وائر ہاس میں تیار کی جاتی ہیں جن کی مالیت تقریبا سات لاکھ روپے فی مشین بتائی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق ایک گیم میں چار یا اس سے زائد افراد حصہ لیتے ہیں جبکہ مشین کا مالک ہر کھیل کے آغاز پر مقررہ 500 روپے فیس وصول کرتا ہے۔ گیم کا دورانیہ ایک سے دو منٹ تک ہوتا ہے اور جیتنے والے کھلاڑی کو بیٹنگ کی رقم ادا کی جاتی ہے، جبکہ مشین مالک کو ہر صورت میں مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی سرگرمیاں نوجوان نسل کو معاشی اور سماجی مسائل کی جانب دھکیل رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان مبینہ سرگرمیوں کے خلاف اب تک مثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث اس کاروبار کے مزید پھیلنے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔شہریوں نے سندھ حکومت، کراچی پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور نوجوانوں کو جوئے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔


