میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کے ایم سی چارجڈ پارکنگ کے گھپلے سے نمٹنے میں ناکام

کے ایم سی چارجڈ پارکنگ کے گھپلے سے نمٹنے میں ناکام

ویب ڈیسک
پیر, ۱۵ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

لیاقت آباد 10نمبر فلائی اوور کے پارکنگ لاٹ میں سو گاڑیوں کی گنجائش،45 کی رقم جمع
کے ایم سی چارجڈ پارکنگ کے معاملات میئر کراچی کے کوآرڈی نیٹر معظم قریشی کے حوالے

کے ایم سی شہر میںچارجڈ پارکنگ کے گھپلے کو حل کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ کے ایم سی میں موجود کالی بھیڑیں نقد آمدن کے اس اندھے اور کالے ذریعے کے باعث شہر یوں کو مسلسل اذیت دے رہی ہیں۔ عدالتی فیصلے کے برخلاف لیاقت آباد 10نمبر فلائی اوور کے نیچے انٹر سٹی پارکنگ لاٹ کے حوالے سے مزید اہم انکشافات سامنے آئے ہیں ،کے ایم سی محکمہ چارجڈ پارکنگ ذرائع کے مطابق 31؍مئی 2026کو ختم ہونے والے معاہدے کے مطابق فلائی اوور کے نیچے پارکنگ کرنے والا ٹرانسپورٹر 45گاڑیوں کے فی گاڑی 5ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ریزرو (مخصوص ) کی مد میں کے ایم سی کو ریونیو جمع کراتا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دس نمبر فلائی اوور کے نیچے تقریبا 100گاڑیاں کھڑی کرنے کی گنجائش ہے ۔محکمہ چارجڈ پارکنگ نے 45,45گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے اے اور بی دو لاٹ بنا رکھے تھے تاہم صرف 45گاڑیوں کے پیسے سرکاری اکاؤنٹ میں جمع کرائے جاتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے کے تین ٹرانسپورٹرز کے ایم سی کو تحریری درخواست دے چکے ہیں ۔الآعظم اسکوائر اور سندھ گورنمنٹ اسپتال کے نام پر اگر انہیں فلائی اوور کے نیچے پارکنگ ریزور (مخصوص) کی جائے تو وہ 90گاڑیوں کا ماہانہ ریونیو کے ایم سی کو دینے کو تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق کے ایم سی چارجڈ پارکنگ کے تمام معاملات میئر کراچی کے قابل اعتماد کوآرڈی نیٹر معظم قریشی دیکھ رہے ہیں جن کا جھکاؤ موجودہ ٹرانسپورٹر کی جانب ہے جس کی وجہ سے دیگر کی درخواستوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے باوجود ٹرانسپورٹر کی جانب سے پارکنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں