انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!
شیئر کریں
معصوم مرادآبادی
ہمیشہ سرخیوں میں رہنے والی ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش آج کل انکاونٹروں کی وجہ سے شہ سرخیوں میں ہے ۔ عام طورپر
پولیس ان لوگوں کا انکاونٹر کرتی ہے جو اس پرحملہ آور ہوتے ہیں، لیکن آج کل یوپی پولیس نے انکاونٹر کی ایک نئی شکل ایجاد کی ہے اور وہ ہے
فرقہ وارانہ شکل ، یعنی یوپی پولیس چن چن کر ان مسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہے جو اس کی نگاہ میں مجرم قرار پاتے ہیں۔آئین میں کسی ملزم کو سزا
دینے کااختیار صرف عدالتوں کو ہے کہ وہی ٹھوس ثبوتوں کی بنیادپر کسی ملزم کو مجرم بناکر سزا کا مستحق ٹھہرا سکتی ہیں ، لیکن اب اس ملک میں بہت
سی سزائیں ماورائے عدالت دی جارہی ہیں اور عدالتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہوئی ہیں۔انصاف پسند لوگوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے
اور اس صورتحال کے خلاف آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں، لیکن موجودہ سرکار نے احتجاج اور مظاہروں پر پہرے بٹھا رکھے ہیں ، اس لیے یہ
آوازیں اتنی تیز نہیں ہیں جتنی کہ ہونی چاہئے تھیں۔ اعداد وشمار کے مطابق پچھلے 9سال میں بی جے پی کے اقتدار کے دوران اترپردیش
میں 17000انکاونٹر ہوچکے ہیں ، جن میں 3700ہاف انکاونٹر ہیں۔یعنی اترپردیش انکاونٹر اسٹیٹ بنتی چلی جارہی ہے ۔پچھلے دنوں الہ
آباد ہائی کورٹ نے اترپردیش پولیس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ پولیس نے واہ واہی لوٹنے اور سرکاری تمغے
حاصل کرنے کے لیے انکاونٹر کو ہی آخری سہاراسمجھ لیا ہے ۔
تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب اترپردیش پولیس کی بندوقیں اسی وقت حرکت میں آتی ہیں جب ملزم کوئی مسلمان ہوتا ہے ۔بالکل ایسے
ہی حالات میں اگر مقابلہ کسی ہندو سے ہوتا ہے تو یہ بندوقیں سرنگوں ہوجاتی ہیں۔ حال ہی میں راجدھانی دہلی سے متصل سرحدی شہر غازی
آباد میں محمد اسد نامی ایک نوجوان کے انکاونٹر نے ان تمام سوالوں کو ایک بار پھر سراٹھانے کا موقع دیا ہے جو یوپی پولیس کی انکاونٹر پالیسی
کے تعلق سے پوچھے جاتے رہے ہیں۔اسد کے معاملے میں یہ سوال کچھ زیادہ تیکھے انداز میں پوچھے جارہے ہیں ۔ اپوزیشن نے یہ پوچھنے کی
ہمت کی ہے کیا انکاونٹر مذہب دیکھ کر کئے جارہے ہیں۔ کیونکہ اگر کہیں کسی مسلمان کے ہاتھوں کسی ہندو کا قتل ہوتا ہے تو فسطائی عناصر اور
حکومت اس کے خلاف یوں سرگرم ہوجاتے ہیں کہ ملزم کو آخری انجام سے دوچار کرنا ہی مسئلہ کا واحد حل ہے ۔ اس کے برعکس اگر کسی ہندو
کے ہاتھوں کوئی مسلمان قتل ہوتا ہے تو پولیس ایف آئی آر تک درج نہیں کرتی ۔
اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے ہم دووارداتوں کا حوالہ دینا چاہیں گے جو عین عید الاضحی کے دن 28مئی کو پیش آئی ہیں۔ پہلی واردات
غازی آباد کی کھوڑا کالونی کی ہے اور دوسری کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دہلی کے جہانگیر پوری علاقہ کی ۔ کھوڑا میں قاتل چونکہ ایک مسلم
نوجوان تھا ، اس لیے پولیس اپنے پورے تام جھام کے ساتھ حرکت میں آگئی جبکہ جہانگیرپوری میں مقتول چونکہ مسلمان تھا اور قتل کا الزام
شبھم نامی ایک ہندو نوجوان تھا ، اس لیے پولیس نے ابھی تک کسی کو گرفتار تک نہیں کیا بلکہ الٹے مقتول ارباز کے گھر والوں کو ڈرانے
دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
کھوڑا کالونی میں ذاتی دشمنی کے سبب اسدکے ہاتھوںسوریہ چوہان کے قتل کی خبر جیسے ہی عام ہوئی تمام ہندو انتہاپسندتنظیموں نے کھوڑا
گاؤں میں ڈیرہ ڈال دیا اور مسلمانوں کے خلاف ایسی زہرافشانی شروع کردی گویا سوریہ کے قتل میں پوری مسلم قوم ملوث ہے ۔ اس کے
ساتھ ہی درجنوں مسلم دشمن یوٹیوبرمسلم مخالف زہر پھیلانے کے لیے وہاں پہنچ گئے ۔ ساتھ ہی گودی میڈیا نے بھی قتل کی اس واردات پر
ہنگامہ آرائی شروع کردی اور مسلمانوں کو جہادی اور آنتک وادی تک کہا جانے لگا۔ اب نمبر تھا یوگی سرکار اور ان کی نہایت لائق پولیس کا جس
نے دوسرے ہی دن اسد کو ڈھونڈ کر اس کا انکاونٹر کردیا ۔ کہانی وہی پرانی دہرائی گئی کہ پچاس ہزار کے انعامی بدمعاش اسد کو جب پولیس نے
گھیرا تو اس نے فائرنگ شروع کردی اور پولیس کی جوابی کارروائی میں وہ مارا گیا۔ لیکن پولیس کی اس کہانی پر ہمیشہ کی طرح لوگوں کو یقین
نہیں آیا اور انھوں نے اسے فرضی انکاونٹر قراردیا۔ بالکل ایسا ہی جیسا کہ رمضان کے مہینے میں غازی آباد پولیس نے سلیم واستک پر جان لیوا
حملہ کرنے والے دوسگے بھائیوں ذیشان اور گلفام کا انکاونٹر کیا تھا۔ سلیم واستک پر حملے کے بعد بھی ہندو انتہاپسندوں نے پولیس اور یوگی
سرکار پر ایسا ہی دباو ڈالا تھا جیسا انھوں نے سوریہ کے قتل کے بعد ڈالا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس نے سلیم واستک پر حملہ کرنے والے دونوں
بھائیوں کو تیسرے ہی دن انکاونٹر میں ڈھیر کردیا۔ اسد کی طرح نہ ان کی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ ہی انھیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ۔
سلیم واستک خود کو ایکس مسلمکہتا تھا ۔اسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے کی وجہ سے وہ انتہاپسندہندووں کی آنکھ کا تارا تھا ۔ یہ
الگ بات ہے کہ بعد کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے اسے ایک نابالغ بچے کے اغوائاور قتل کے معاملے میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔سیلم
واستک نے یہ واردات 1995میں انجام دی تھی اور قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے اس نے ‘ ایکس مسلم ‘کا چولا پہن رکھا تھا۔
اب آئیے کھوڑا گاوں کی طرف جو دہلی ، غازی آباد اور نوئیڈا کی سرحد پر واقع ہے اور اس وقت فسطائی اور مسلم دشمن عناصر کا گڑھ بنا ہوا
ہے ۔اسد کو انکاونٹر میں قتل کرنے کے بعد پولیس کی کارروائیوں کا دائرہ اس مکان تک پہنچ گیا ہے جہاں وہ کرائے پر رہتا تھا۔ مکان کو حسب
سابق ناجائز تعمیر قرار دے کر اس پر بلڈوزر چلانے کی کارروائی شروع ہوچکی ہے ۔اتنا ہی نہیں کھوڑا گاوں میں واقع تین مدرسوں کو
غیرقانونی قرار دے کر سیل کردیا گیا ہے ۔ ان مدرسوں پر بھی انہدام کی تلوار لٹکی ہوئی ہے ۔ مدرسوں کو محض اس بنیاد پر سیل کردیا گیا کہ وہ
مدرسہ بورڈ سے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اترپردیش میں ایسے سیکڑوں مدارس ہیں جن کا مدرسہ بورڈ میں رجسٹریشن نہیں
ہے ، لیکن کھوڑا گاوں میں ایک مسلم نوجوان کے جرم کی سزا تمام مسلم آبادی کو دی جارہی ہے ۔ کھوڑا ایک گھنی آبادی والا گاوں ہے اور اس
میں غریب ہندو ،مسلمان ایک ساتھ رہتے ہیں جو دہلی اور نوئڈا میں محنت مزدوری کرکے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں ، لیکن اس وقت
کھوڑا گاوں میں زبردست خوف وہراس ہے چونکہ اسے پولیس چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔تمام ہندو انتہا پسند تنظیمیں وہاں دندناتی پھر
رہی ہیں ۔
مسلمانوں کے خلاف اترپردیش پولیس کی اس مخاصمت کا عکس آپ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ان بیانات میں بھی دیکھ سکتے ہیں جو وہ
مسلمانوں سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرنے کے لیے اکثر وبیشتر دیتے رہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کو مسلمانوں سے اس حدتک ‘محبت’ہے کہ وہ
انھیں جیتے جی جنت یا جہنم کی سند بانٹنے لگتے ہیں۔ ان کے ہاں عمر کی بھی کو ئی قید نہیں ہے ۔ ابھی عیدالاضحی کے موقع پر ایک ناعاقبت اندیش
مسلمان بزرگ نے یوگی جی کے خلاف کچھ نازیبا الفاظ استعمال کئے تو یوپی پولیس نے ان75 سالہ بزرگ کو گرفتار کرکے ایسی
خاطرمدارات کی کہ وہ ساری زندگی یاد رکھیں گے ۔
کھوڑا گاوں کے محمد اسد کے انکاونٹر سے جو بنیادی سوال پیدا ہوئے ہیں ، ان میں سب سے اہم سوال یہی پوچھا جارہا ہے کہ کیا
اترپردیش میں قانون کا راج ختم ہوچکا ہے ۔ یوگی جی نے انصاف کرنے کا کام خود اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور پولیس کو مکمل اختیارات
دے دئے ے ہیںکہ وہ ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کی بجائے خود ہی ان کا ‘انصاف ‘ کردیں۔یہ انصاف بھی ملزم کا مذہب دیکھ کر کیا
جارہا ہے ۔یعنی اگر ملزم کوئی مسلمان ہے تو پولیس اس کا انکاونٹر کرنے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کرتی اور اگر ملزم کوئی ہندو ہے تو پولیس حرکت
میں نہیں آتی۔یہ اترپردیش میں کھلے عام ہورہا ہے ۔ حال ہی میں اسی غازی آباد میں انٹرنیشنل پیرا کھلاڑی چراغ تیاگی کو اس کے دوست
یش کھٹیک نے قتل کیا مگر ہندووں کی محبت کا دم بھرنے والے کسی نام نہاد لیڈر کا خون نہیں کھولا ۔ اسی طرح فیروز آباد میں جتیندر پاٹھک نے
اپنی بھابھی کی محبت کے جنون میں اس کے دوسالہ بچے کو زمین پر پٹخ کر مارڈالا ، جس سے ہرکسی کا خون کھول اٹھا ، لیکن ان معاملوں میں نہ تو
انکاونٹر کا مطالبہ ہوا اور نہ ہی بلڈوزر حرکت میں آیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلڈوزر کی طرح اب انکاونٹر بھی مذہب دیکھ کر ہی کیا جارہا ہے ۔
٭٭٭


