میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۴ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے
پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ جب تک آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم نہیں کیا جاتا، کسی قسم کا معاہدہ ممکن نہیں۔ مذاکرات میں پاکستان کی سفارتی کاوشیں قابل تحسین ہیں، پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکی پر مشتمل ایک مشترکہ دفاعی بلاک تشکیل دیا جائے تاکہ امت مسلمہ کو مضبوط بنایا جاسکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور دعوے زمینی حقائق کے برعکس ثابت ہورہے ہیں اور آج امریکہ خود مذاکرات پر مجبور ہوچکا ہے۔ عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ متاثر اور وہ سفارتی تنہائی کا شکار ہوا ہے، یورپ، نیٹو اور خلیجی ممالک میں بھی اس کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جماعت اسلامی 25 اپریل سے ملک بھر میں ممبرشپ مہم کے نئے مرحلے کا آغاز کر رہی ہے اور یہ ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی ممبرشپ مہم ہوگی۔ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبے نا اہلی،بدانتظامی اور کرپشن کا شاہکار بنے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی روڈ کی صورتحال اورریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے، جبکہ اربوں روپے کے دیگر منصوبے بھی تاخیر اور ناقص کارکردگی کا شکار ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے بالخصوص کراچی کی صورتحال ان کی کارکردگی کو بے نقاب کرتی ہے۔بلدیاتی حکومت میں جے یو آئی کے 4اور مسلم لیگ ن کے 14لوگوں نے میٔر بنایا اور اب یہ جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمت کرکے عوامی مسائل کو نظر انداز کررہی ہیں۔ وہ ادارہ نور حق میں امیرکراچی منعم ظفر خان پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ عدالتی نظام میں ترامیم، پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر اورمقامی حکومتوں کی کمزوری جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔ جماعت اسلامی ملک میں حقیقی تبدیلی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امریکہ کا طرزِ عمل ہمیشہ دھوکہ دہی پر مبنی رہا ہے۔پہلے بھی جب ایران کے ساتھ مذاکرات جاری تھے اور معاملات طے ہونے کے قریب تھے، اسی دوران حملے کیے گئے جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش اور معصوم شہریوں، بالخصوص بچوں کی شہادتیں شامل ہیں۔ حالیہ صورتحال میں بھی یہی طرزِ عمل دیکھنے میں آیا،حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ موجودہ ملکی نظام میں اشرافیہ مستفید ہورہی ہے جبکہ عام عوام مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ بجلی کے بلوں میں شامل پی ایچ ایل ٹیکس اور پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی صورت میں وصول کیے گئے ٹیکسز عوام پر ناجائز بوجھ ہیں اور ان کے استعمال میں شفافیت نہیں ہے۔ اگر ان معاملات کا نوٹس نہ لیا گیا تو جماعت اسلامی عدالت سے رجوع کرے گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں