میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

ویب ڈیسک
منگل, ۱۶ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی
اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی ناموس پر صرف سیاست کی ہے ان کا کوئی مسئلہ حل نہیں کیا، قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں۔ قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ سیاسی تناؤ کو ختم کرنے کے لیے عمران خان کی رہائی کی کھل کر حمایت کی ہے، اور کہا کہ میں آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، اگر سیاست میں ان کی گرفتاری کی وجہ سے اتنی زیادہ تلخی ہے، تو ہمیں ملک کی بہتری اور امن کے لیے ایک شخص کی قربانی میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، وہ باہر آئیں اور میدان میں آ کر سیاست کریں۔سربراہ جے یو آئی ف نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھ سے لوگ کہتے ہیں کہ آپ تو ہمیشہ عمران خان کے خلاف تھے، لیکن میرا اصول ہے کہ جب مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو، تو اس کے خلاف بات نہیں کی جاتی، اگر ایک شخص کی وجہ سے پورے ملک میں تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں۔ان کا کہنا ہے کہ کیا ہم فوجی وردی اس لیے پہنتے ہیں کہ جب جنگ کا اصل وقت آئے تو بارڈر پر جا کر میں جنگ لڑوں؟ اپنے گھر کا یہ حال بنا دیا گیا ہے کہ ایک ہارڈ اسٹیٹ قائم ہے، جہاں کوئی معمولی سا سر بھی اٹھائے تو اسے فنا کر دو، آج قوموں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اپنے لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو، اگر میرا پشتون یا بلوچ ان سے لڑے گا تو یہ خونی دشمنیاں نسلوں تک جاری رہیں گی، یا تو پھر آپ باقاعدہ اعلان کردیں کہ ہر پاکستانی شہری کو فوجی تربیت دی جائے گی لیکن یہاں تو ہمیں اپنے دفاع کے لیے ایک پستول رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔آزاد کشمیر کے حالیہ بحران پر مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان آج کہاں کھڑا ہے؟ جہاں ماضی میں ہر کشمیری کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا تھا، وہاں آج باغیانہ تقریریں ہو رہی ہیں اور لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں، اس کا مطلب ہے ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی ناموس پر صرف سیاست کی ہے اور ان کا کوئی مسئلہ حل نہیں کیا، کشمیریوں کے مطالبات میں سے ایک بھی ایسا پوائنٹ بتایا جائے جس پر ان سے بیٹھ کر بات نہ کی جا سکتی ہو۔میڈیا پر حکومتی کنٹرول اور میڈیا سنسرشپ سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو مکمل طور پر بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، پی ٹی وی جو اسمبلی کی کارروائی عوام تک پہنچانے کا واحد قومی ذریعہ ہے، اس پر بھی اپوزیشن کی آواز کو عوام تک پہنچانے سے روکا جا رہا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں